أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

عاشوراء کا روزہ

المقال
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
عاشوراء کا روزہ

عاشوراء كا روزه


محرم الحرام کا مہینہ حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے جن میں اللہ تعالى نے نافرمانی والے کاموں سے خصوصی طور پر منع فرمایا ہے اور جنگ و جدل سے بھی منع کیا ہے۔ (البقرة: 217, التوبة: 36)

اس ماہ مبارک محرم الحرام میں نفلی روزے رمضان کے بعد سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

أَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ شَہْرِ رَمَضَانَ، صِیَامُ شَہْرِ اللہِ الْمُحَرَّمِ (صحیح مسلم : ١١٦٣)

رمضان کے مہینے کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے محرم الحرام کے روزے ہیں ۔

اور پھر اس مہینے کی نو تاریخ کا روزہ بہت فضیلت کا حامل ہے ۔ ابتدائے اسلام میں نبی ﷺ نے یوم عاشوراء یعنی دس محرم الحرام کے روزہ کو فرض قرا ر دیا تھا:

عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَعُدُّهُ اليَهُودُ عِيدًا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَصُومُوهُ أَنْتُمْ»

سیدنا ابو موسى اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہود عاشوراء کو عیدشمار کیا کرتے تھے۔ تو نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس دن کا روزہ رکھو۔

(بخاری:٢٠٠٥) ۔

پھر رمضان المبارک کے روزوں کے فرضیت کے بعد آپ ﷺ نے اسے نفل قرار دیا:

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں:

«كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ المَدِينَةَ صَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»

عاشوراء کے دن جاہلیت میں قریش روز رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا تو جو چاہتا اس دن روزہ رکھتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔

(بخاری: ٢٠٠۲) ۔

اور یہ وہ دن تھا جس دن اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام اور انکی قوم کو فرعون سے نجات دی تھی:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ فَرَأَى اليَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟»، قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى، قَالَ: «فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ»، فَصَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں۔ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ اچھا دن ہے اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو انکے دشمن سے نجات دی تھی تو موسى علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تمہاری نسبت موسى علیہ السلام کے زیادہ حقدار ہیں, سو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے بھی روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

(بخاری: ٢٠٠٤) ۔

لیکن پھر آپ ﷺ نے بعد میں یہود کی مخالفت کرتے ہوئے روزہ رکھنے کی تاریخ بدل دی اور نو تاریخ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا

لَئِنْ بَقِیتُ إِلَی قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ

اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نویں تاریخ کا روزہ رکھوں گا۔

(مسلم : ١١٣٤)

اور مخالفت کا یہ طریق نہایت زبر دست ہے کہ جس دن یہود روزہ رکھیں مسلمان اس دن افطار کریں اور جس دن وہ نہ رکھیں اس دن اہل اسلام روزہ کے ساتھ ہوں اس طرح انکی مخالفت تامہ حاصل ہوتی ہے ۔ اور سیدنا موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے رات کے وقت نکلنے کا حکم دیا تھا:

وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ

اور ہم نے موسى علیہ السلام کی طرف وحی کہ کہ میرے بندوں کو رات کے وقت لے کر نکل , یقینا تم پیچھا کیے جاؤ گے۔

(الشعراء :٥٢)

تو نبی کریم ﷺ نے رات کے ابتدائی حصہ کا اعتبار کرتے ہوئے فرعون سے آزادی کی خوشی میں روزہ منانے کا دن یہود کی مخالفت میں نو محرم الحرام کو مقرر فرما دیا ۔ جبکہ یہود رات کے آخری حصہ کا اعتبار کرتے ہوئے دس محرم الحرام کو فرعون سے آزادی کی خوشی میں روزہ رکھتے تھے ۔ اور یہی معاملہ پاکستان اور بھارت کے یوم آزادی کا ہے کہ دونوں ملکوں کی آزادی کا فیصلہ ایک ہی رات میں کیا گیا تھا لیکن اہل پاکستان چودہ اگست کو یوم آزادی مناتے ہیں اور اہل بھارت پندہ اگست کو ، اور دونوں کے ہاں مقصود ایک دوسرے کی مخالفت ہے ۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی یہود کی مخالفت کرتے ہوئے نو تاریخ کا روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا لیکن آپ ﷺ آئندہ سال تک زندہ نہ رہ سکے ۔ لہذا یہی وہ دن ہے کہ جس دن کے روزہ کو نبی کریم ﷺ نے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ قرار دیا ہے ۔ (مسلم :١١٦٢)

مسند احمد(٢١٥٥) میں ایک روایت ایسی بھی موجود ہے جس میں یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم ہے اور اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھنے کا کہا گیا ہے ۔ اور عوام الناس میں یہی بات زیادہ معروف ہے کہ یا تو نوا ور دس محرم کا روزہ رکھاجائے یا پھر دس اور گیارہ کا ۔ اور اسکی بنیادیہی روایت ہے لیکن درحقیقت وہ روایت پایہء ثبوت کو نہیں پہنچتی کیونکہ اسکی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی ہے جو کہ سیء الحفظ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔

پھر کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نوتاریخ کا روزہ رکھنے کا عزم تو فرمایا لیکن دس تاریخ کا روزہ رکھنے سے منع نہیں کیا ۔ تو انکی خدمت میں عرض ہے کہ عربی زبان میں لفظ ’’التاسع‘‘ میں حصر پایا جاتا ہے ۔ جو اپنے ماقبل اور مابعد دونوں کی نفی کرتا ہے ۔ تو جب نبی کریم ﷺ نے ’’لأصومن التاسع‘‘ فرمایا تو حصر کی وجہ سے آٹھ اور دس کی خود بخود نفی ہوگئی ۔ اسکی آسان مثال آپ یوں سمجھیں کہ جب آپ کہیں کہ میرا بچہ نویں کلاس میں پڑھتا ہے تو اسکا معنی یہ ہوتا ہے کہ وہ نویں میں ہی پڑھتا ہے نہ آٹھویں میں اور نہ ہی دسویں میں!

اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فتوی دیا ہے کہ یوم تاسع یعنی نویں محرم کو روزہ رکھا جائے بلکہ انہوں نے تو یہاں تک فرمایا دیا کہ نبی ﷺ اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے ۔(مسلم : ١١٣٣) یعنی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عزم صمیم کو حقیقتِ واقعی سے تعبیر فرما دیا ۔

الغرض نو محرم الحرام کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور یہ بہت فضیلت اور اہمیت کا حامل روزہ ہے۔

524 زائر
مؤرخہ2-01-1440ھ بمطابق: 13-09-2018ء
1 صوت
تازہ ترین المقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
المقال گزشتہ
المقالات متشابہہ المقال آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 242
کل: 372
موجودہ ہفتہ: 242
ماہ رواں : 8139
امسال : 38269
آغاز سے: 40894
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 117
دروس : 54
المقالات : 2
الكتب : 0
فتاوى : 3
تفاسیر : 41
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 3
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :50405 ویں زائر ہیں
فی الحال 11حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :11
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator