أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

اعضاء عطیہ کرنے کی شرعی حیثیت

فتوى
Separator

اعضاء عطیہ کرنے کی شرعی حیثیت
یہ فتوى 144 مرتبہ پڑھا جا چکا ہے
مؤرخہ5-12-1439ھ بمطابق: 17-08-2018ء
غير معروف
محمد رفیق طاہر
مکمل سوال
مرنے کے بعد اپنے اعضاء مثلا آنکھیں , گردے, دل وغیرہ عطیہ کرنے کی وصیت کرنا اسلام میں جائز ہے ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
زندگی میں ہی اگر کوئی شخص اپنے اعضاء کسی کو عطیہ کردے یا بیچ دے یا پھر یہ وصیت کردے کہ میرے مرنے کے بعد میرے جسم کے یہ اعضاء کسی کو عطیہ کر دیے جائیں, دونوں ہی اسلام میں جائز نہیں۔
انسانی اعضاء کا زندگی میں اور مرنے کے بعد ایک ہی حکم ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
«كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا»
میت کی ہڈی کو توڑنا زندہ کی ہڈی کو توڑنے کی طرح ہے۔
سنن ابی داود: 3207
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح زندگی میں ایک انسان کی حرمت ہے اسی طرح مرنے کے بعد بھی اسکی وہی حرمت ہے۔
اور اگر کوئی شخص اپنا کوئی عضو اپنی زندگی میں تلف کر لیتا ہے تو مرنے کے بعد بھی اسے اسکے اس عضو سے محروم رکھا جاتا ہے:
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ؟ - قَالَ: حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - فَأَبَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللهُ لِلْأَنْصَارِ، فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَمَرِضَ، فَجَزِعَ، فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ، فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ، فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ، فَرَآهُ وَهَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ، وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ؟ فَقَالَ: غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَيْكَ؟ قَالَ: قِيلَ لِي: لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ، فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ»
سیدنا طفیل بن عمرو الدوسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک مضبوط قلعہ اور حفاظتی مقام کی ضرورت ہے؟ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس زمانہ جاہلیت میں دوس کا ایک قلعہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے انکار فرما دیا کیونکہ یہ سعادت اللہ تعالیٰ نے انصار کے لئے مقدر کردی تھی پس جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اپنی قوم کے ایک آدمی کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تو حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھی مدینہ کی آب ہوا کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے بیمار ہوگیا جب بیماری حد سے بڑھ گئی برداشت کے قابل نہ رہی تو اس نے اپنے تیر کے پھل سے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے جوڑ کاٹ دئے جس کی وجہ سے ہاتھوں سے خون بہنے لگا اور اس کے نتیجے میں وہ مر گیا، حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا تو اچھی حالت میں تھے مگر اس کے ہاتھ ڈھکے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی برکت سے معاف کردیا ہے پھر اس سے پوچھا کہ تو نے اپنے ہاتھوں کو چھپا رکھا ہے تو اس نے کہا کہ مجھ سے کہہ دیا گیا ہے کہ تو نے اس کو خود بگاڑا ہے ہم اسے درست نہیں کریں گے حضرت طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی کہ اے اللہ اس کے ہاتھوں کی بھی مغفرت فرما۔
صحیح مسلم: 116
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جو شخص اپنا کوئی عضو خود ہی کاٹ دیتا ہے تو اسکا وہ عضو درست نہیں کیا جاتا۔ یہ اللہ تعالى کی طرف سے اسکے لیے سزا ہے۔ لہذا زندگی میں ہی اپنے کسی عضو کو کاٹ دینا یا یہ وصیت کرنا کہ میرا یہ عضو میرے جسم سے جدا کر دیا جائے, شرعا جائز نہیں ہے۔ اور اس قسم کی وصیت کا کوئی اعتبار نہیں ۔
سو اگر کوئی شخص ایسی وصیت کر بھی جائے کہ میرا فلاں عضو عطیہ کر دیا جائے تو اسکا وہ عضو عطیہ نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ شرعی احکامات کی پابندی کرتے ہوئے اسے برقرار رکھا جائے گا۔


هذا‘ والله تعالى أعلم‘ وعلمه أكمل وأتم‘ ورد العلم إليه أسلم‘ والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد و قوم‘ وصلى الله على نبينا محمد وسلم
وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
آڈیو فتوى
   پرنٹ 



فتوى دوسروں تک پہنچائیں
متعلقہ لنکس
Separator
فتوى گزشتہ
فتاوى متشابہہ فتوى آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 381
کل: 413
موجودہ ہفتہ: 376
ماہ رواں : 7946
امسال : 25241
آغاز سے: 27859
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 95
دروس : 48
المقالات : 2
الكتب : 0
فتاوى : 3
دُرُوس : 25
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 3
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :46243 ویں زائر ہیں
فی الحال 11حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :11
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator