أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کو آقا کہنا

فتوى
Separator

نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کو آقا کہنا
یہ فتوى 150 مرتبہ پڑھا جا چکا ہے
مؤرخہ26-12-1439ھ بمطابق: 7-09-2018ء
غير معروف
محمد رفیق طاہر
مکمل سوال
کیا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو آقا اور مولى کہنا جائز ہے؟ میں نے ایک حدیث میں پڑھا تھا کہ مالک کو مولى نہ کہو؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو آقا و مولا کہنا جائز ودرست ہے۔ اسی طرح غلام کا اپنے مالک کو آقا یا مولا کہنا بھی جائز ہے۔ جس روایت کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے وہ امام مسلم نے یوں ذکر کی ہے:

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَايَ وَلَا يَقُلْ الْعَبْدُ رَبِّي وَلَكِنْ لِيَقُلْ سَيِّدِي و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا وَلَا يَقُلْ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ مَوْلَايَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَإِنَّ مَوْلَاكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

صحيح مسلم: 2249

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی ’’میرا بندہ‘‘ نہ کہے تم سبھی اللہ کے بندے ہو , بلکہ وہ کہے ’’میرا جوان‘‘ اور غلام بھی ’’میرا رب‘‘ نہ کہے بلکہ وہ کہے ’’میرا آقا‘‘ ایک دوسری سند سے اسی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ غلام اپنے آقا کو ’’میرا مولا‘‘ نہ کہے ۔ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ یقینا تمہارا مولا اللہ عز وجل ہے۔

یہ روایت ان آخری الفاظ (غلام اپنے آقا کو ’’میرا مولا‘‘ نہ کہے) کے ساتھ محفوظ نہیں‌ ہے بلکہ اصل الفاظ وہی ہیں‌ جنکو امام مسلم نے پہلی سند کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور پھر مزید وضاحت کے لیے اگلی سند میں‌ ان الفاظ کو اور واضح کیا ہے

ملاحظہ ہو

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلَايَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی یہ نہ کہے ’’ اپنے رب کو پلا, اپنے رب کو کھلا, اپنے رب کو وضوء کروا‘‘ اور تم میں سے کوئی (اپنے مالک کو) ’’میرا رب‘‘ نہ کہے ۔ (غلام) میرا آقا میرا مولا کہے اور تم (مالکوں ) میں سے کوئی ’’میرا بندہ میری بندی‘‘ نہ کہے بلکہ کہے ’’میراجوان, میری لڑکی,میرا غلام‘‘۔

صحيح مسلم: 2249

نیز یہی الفاظ امام بخاری رحمہ الباری نے اپنی صحیح میں‌ بھی بایں سندنقل فرمائے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ اسْقِ رَبَّكَ وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلَايَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلَامِي

کتاب العتق باب کراہیۃ التطاول على الرقیق حـــ 2552

هذا‘ والله تعالى أعلم‘ وعلمه أكمل وأتم‘ ورد العلم إليه أسلم‘ والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد و قوم‘ وصلى الله على نبينا محمد وسلم
وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
آڈیو فتوى
   پرنٹ 



فتوى دوسروں تک پہنچائیں
متعلقہ لنکس
Separator
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 369
کل: 413
موجودہ ہفتہ: 364
ماہ رواں : 7934
امسال : 25229
آغاز سے: 27847
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 95
دروس : 48
المقالات : 2
الكتب : 0
فتاوى : 3
دُرُوس : 25
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 3
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :46242 ویں زائر ہیں
فی الحال 20حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :20
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator