داڑھی کی واجب مقدار

داڑھی کی واجب مقدار



دین کیا ہے؟



اللہ سبحانہ وتعالى نے 
مکمل دین نازل فرما دیا ہے:



الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ
عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا



آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پہ
اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا ہے۔



سورۃ المائدۃ: 3



اور اہل اسلام کو اللہ تبارک وتعالى نے اسی نازل شدہ دین کی
اتباع کا حکم دیا ہے اور غیر نازل شدہ کو دین سمجھنے یا دین قرار دے کر اسکی اتباع
کرنے سے منع فرمایا ہے:



اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا
تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ



جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس
کی پیروی کرو اور اسکے سوا دیگر اولیاء کی پیروی نہ کرو‘ تم بہت کم ہی نصیحت حاصل
کرتے ہو۔



سورۃ الأعراف: 3



مآخذ شریعت کیا ہیں ؟



اللہ تعالى کا نازل کردہ دین وحی الہی محصور و مقصور ہے۔
وحی الہی یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ 
صلى اللہ علیہ وسلم کے سوا کچھ بھی دین نہیں ہے۔ تمام تر شرعی احکامات وحی
الہی سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سلف و خلف میں سے جس نے بھی مسائل شریعت
اخذ کرنے کے اصول پہ کوئی چھوٹی یا بڑی کتاب تصنیف کی ہے شریعت کے مصادر اصلیہ میں
صرف دو ہی چیزیں ذکر کیں  یعنی کتاب اللہ
اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم۔ کچھ نے بر سبیل تنزل اجماع کو بھی ایک ذیلی
ماخذ کے طور پہ ذکر کیا ہے۔ لیکن انہوں نے اجماع کی یوں تعریف کی ہے کہ وہ کتاب
وسنت سے مستنبط کسی مسئلہ پہ  تمام تر
فقہائے امت کا  رسول اللہ صلى اللہ  علیہ وسلم کی وفات کے بعد اتفاق ہے۔ یعنی اس
میں بھی اصل کتاب وسنت ہی ہے جس سے مسئلہ اخذ کیا جائے گا, ایسا نہیں کہ کوئی
مسئلہ گھڑ لیا جائے جسکی اصل نہ کتاب میں ہو نہ سنت میں اور پھر اس پہ اتفاق ہو
جائےاور اسے اجماع قرار دے لیا جائے۔ پھر کچھ لوگ اختلاف پہ عدم اطلاع کو بنیاد
بنا کر اجماع کا دعوى کر بیٹھتے ہیں جو کہ دعوى بلا دلیل ہے۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں
جنہوں نے ایک چوتھا ماخذ بھی گنوایا ہے جسے قیاس کہا جاتا ہے۔ لیکن وہ بھی جب اسکی
شرح و تفصیل میں اترتے ہیں تو صحت قیاس کے لیے 
وحی الہی سے ہی مقیس علیہ تلاش کرتے ہیں 
اور پھر مقیس و مقیس علیہ کے مابین علت مشترکہ بدیہیہ یا منصوصہ تلاش کرکے
قیا س کیا جاتا ہے۔جبکہ باقی اہل علم قیاس کو مأخذ شریعت نہیں بلکہ مآخذ شریعت سے
استنباط کا ایک اصول قرار دیتے ہیں۔ الغرض اجماع ہو یا قیاس دونوں ہی وحی الہی
یعنی کتاب وسنت کے محتاج ہیں , اور وحی کی بنیاد کے بنا انکی کوئی وقعت و حیثیت
نہیں۔ نتیجہ وہی نکلا کہ شریعت میں مأخذ و حجت صرف اور صرف وحی الہی ہے۔اور اگر
میں یہ کہوں کہ صرف وحی الہی کے ماخذ شریعت ہونے اور غیر وحی کے حجت نہ ہونے پہ
امت کا اجماع و اتفاق ہے تو غلط نہ ہوگا۔کیونکہ تمام علماء امت نے اصول فقہ میں
صرف اور صرف وحی کو ہی ماخذ  شریعت یا حجت
قرار دیا ہے۔ اگر وہ وحی کے سوا کسی اور شے کو بھی ماخذ مانتے ہوتے تو اصول فقہ کی
کتب تصنیف کرتے  ہوئے اسکا ذکر ضرور فرماتے
کیونکہ
'تأخير البيان عن وقت الحاجة لا
يجوز'
۔ اور پھر کوئی یہ بھی نہ سمجھے
کہ کتاب وسنت کے سوا 'اصول فقہ' کو حجت مان لیا گیا ہے! کیونکہ اصول فقہ  یعنی کتاب وسنت سے مسائل استنباط کرنے کے ہوں
یا احادیث و آثار کی صحت و سُقم کو پرکھنے کے, سبھی وحی الہی سے مأخوذ ہیں۔ہم وہ
اصول بھی نہیں مانتے جس  کی دلیل کتاب وسنت
میں موجود نہ ہو۔اور اگر اہل الحدیث کسی بھی اصول فقہ یا اصول حدیث کو اپناتے ہیں
اور اسکی دلیل کسی کو معلوم نہیں تو وہ اہل الحدیث والسنہ سے انکے اس اصول کی دلیل
طلب کر سکتا ہے,  اسے خالی ہاتھ نہیں
لوٹایا جائے گا۔ ان شاء اللہ۔



استنباط احکام میں سلف کا منہج:



کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی مسئلہ کا حل قرآن و حدیث سے
نہ ملے تو کیا کیا جائے؟ پھر آثار صحابہ و تابعین کی ضرورت پڑے گی! ۔ ہم ان سے بھی
یہ عرض کر دینا مناسب سمجھتے ہیں کہ قیامت تک پیش آنے والے مسائل میں سے کوئی
مسئلہ بھی ایسا نہیں ہے جسکی حل اللہ نے اپنی وحی میں نازل نہ کیا ہو۔ ہاں یہ ضرور
ہے کہ کسی مسئلہ کہ حل نص کی عبارت میں ہوتا ہے تو کسی کا نص کے اشارہ یا اقتضاء
یا دلالت میں, کوئی حل سبھی کو بآسانی نظر اور سمجھ آ جاتا ہے اور کوئی ایسا بھی
ہوتا ہے جو ہر کسی کو سمجھ نہیں آتا۔ اسی لیے اللہ تعالى نے یہ اصول سمجھا دیا ہے
:



فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا
تَعْلَمُونَ



اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔



سورۃ النحل:43 , سورۃ الأنبیاء:7



یعنی اگر کسی مسئلہ کا حل کسی کو وحی الہی سے نہیں ملتا تو
اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسکا حل اللہ نے نازل نہیں فرمایا, بلکہ اللہ رب العالمین
نے اسکا حل ضرور نازل فرمایا ہے, ہاں کسی کو نہیں ملتا تو وہ اس سے پوچھ لے جسے مل
گیا ہے۔ دیگر اہل علم سے سوال کرے تا آنکہ اسے اس مسئلہ کے حل کے لیے وحی الہی سے
دلیل مل جائے۔
وَفَوْقَ
كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
۔



صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی مسائل کا حل اپنی
رائے اور سوچ سے نہیں کرتے تھے بلکہ کتاب وسنت سے مسئلہ کا حل استنباط کرتے اور
اگر انہیں نہ ملتا تو وہ دیگر اصحاب سے پوچھتے اور مسئلہ کو حل فرماتے۔  اور نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ
میں وہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے استفسار فرماتےاور انہیں اس مسئلہ کا حل مل جاتا۔



اور خود نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کوئی
مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم سابقہ نازل شدہ وحی سے استدلال کرکے اس
مسئلہ کاحل بیان فرمادیتے ۔ پھر اگر حل مکمل درست ہوتا تو اللہ تعالى اسے برقرار
رکھتے, اور اگر کوئی کمی رہ جاتی تو اسکی جلد ہی اصلاح کر لی جاتی جیسا کہ اس حدیث
سے واضح ہوتا ہے:



عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى
النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ،
فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا
مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي سَيِّئَاتِي؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: هَا
أَنَا ذَا، قَالَ: «مَا قُلْتَ؟» قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ
اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ
عَنِّي سَيِّئَاتِي؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِلَّا الدَّيْنَ، سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ
آنِفًا»



سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول
اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم منبر پہ خطبہ
ارشاد فرما رہے تھے وہ عرض کرنے لگا'' آپکا کیا خیال ہے کہ اگر  میں اللہ کے راستہ میں صبر کے ساتھ اجر کی نیت
رکھ کر آگے بڑھ کے لڑوں اور پیٹھ نہ پھیروں تو کیا اللہ تعالى میرے گناہ معاف فرما
دے گا؟'' آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''ہاں'' ۔ پھر کچھ ہی دیر گزری تو آپ
صلى اللہ علیہ وسلم نے پوچھا  ''ابھی ابھی
جس نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے؟'' وہ شخص کہنے لگا '' میں یہاں ہوں'' آپ صلى اللہ
علیہ وسلم نے پوچھا ''تو نے کیا کہا تھا'' اس نے عرض کیا '' آپکا کیا خیال ہے کہ
اگر  میں اللہ کے راستہ میں صبر کے ساتھ
اجر کی نیت رکھ کر آگے بڑھ کے لڑوں اور پیٹھ نہ پھیروں تو کیا اللہ تعالى میرے
گناہ معاف فرما دے گا؟'' تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' ہاں! مگر قرض
(نہیں معاف ہوگا) ابھی ابھی مجھے جبریل نے یہ بات بتائی ہے۔''



سنن النسائی : 3155



یعنی اگر کبھی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ بتانے
میں کوئی کمی رہ جاتی تو اللہ تعالى نے فورا ہی دور فرما دیتے ۔ اور درست فیصلہ کو
برقرار رکھا جاتا جس سے اسے بھی تقریرًا وحی ہونے کا درجہ مل جاتا۔



اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپ سے کسی نے مسئلہ دریافت کیا تو
آپ  صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس اس مسئلہ کا
حل موجود نہ تھا تو آپ نے توقف فرمایا , یا 
پھر مسئلہ کے حل  سے معذرت کر لی
اور اللہ تعالى نے وحی نازل فرما کر اس مسئلہ کا حل پیش کر دیا۔ سورۃ المجادلہ کی
ابتدائی آیات اور انکا شان نزول اسی کی ایک بہترین مثال ہے۔



اور اگر کبھی بتقاضائے بشریت نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم
سے مسئلہ حل کرنے میں سہو بھی ہوا تو اللہ تعالى نے اسکا بھی ازالہ فرما  دیا۔ سورہ 
تحریم  کی ابتدائی آیات,  سورہ عبس کا مطلع,  اور
عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ (التوبۃ: 43) وغیرہ اسکی واضح مثالیں ہیں۔



قصہ مختصر کہ پیش آمدہ مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے نبی مکرم
صلى اللہ علیہ وسلم کا منہج وحی الہی سے استنباط کرنا  یا وحی کے اترنے کا انتظار کرنا تھا۔ آپ صلى
اللہ علیہ وسلم بحیثیت مجتہد سابقہ نازل شدہ وحی سے استنباط و استخراج مسائل بھی
کرتےاور کبھی وحی کے آنے کا انتظار بھی, اور آپ کے اجتہادات میں خطأ و صواب دونوں
موجود تھے۔جو بہر صورت آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے باعث اجر ہی  رہے۔



اور اخذ شریعت کا یہی نبوی منہج صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین نے اپنایا اور اپنے مسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں حل کرتے رہے ۔
وحی الہی سے استنباط و استخراج کرتے,  اہل
ذکر سے استفسار کرتے, اور کبھی
لا أعلم یا لا أدری کہہ کر اپنی لا علمی کا اظہار فرماتے۔ صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین کے بعد اسی نبوی منہج کو انکے شاگردوں یعنی تابعین اور انکے بعد
تبع تابعین و ائمہ دین نے اپنایا ۔ اور اپنے بعد میں آنے والوں کی سہولت و آسانی
کے لیے استنباط و استخراج مسائل کے وہ قوانین جنہیں براہ راست کتاب وسنت سے اخذ
کرنے کے لیے دقت فہم کی ضرورت تھی ,آسان لفظوں میں اور تشریح و توضیح کے ساتھ
سمجھا دیے تاکہ آنے والی نسلوں کو وحی الہی سے مسائل اخذ میں دشواری کا سامنا نہ
ہو۔



منہج سلف کے نام پہ جعل سازی:



 لیکن آج کل سلفیوں
میں  بھی تقلیدی نظریات کے حامل لوگ کچھ
بڑھتے ہی جا رہے ہیں جو منہج سلف کا نام لے کر سلف کی تقلید  کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں۔ اور ان میں سے
اکثر  وبیشتر فہم سلف اور منہج سلف کے
درمیان فرق پہچاننے سے بھی قاصر ہیں۔ آل تقلید کے چنگل  میں ایسے پھنسے ہیں کہ انکی ملمع سازی کو یہ
سمجھ نہ سکے اور فتنہ تقلید کا شکار ہوگئے۔ حالانکہ یہ وہی تقلید ہے جسکی مذمت میں
سلف کی کتب بھری پڑی ہیں۔ ان نوخیز اہل علم کی تمہید یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے چونکہ براہ راست نبی مکرم صلى اللہ علیہ
وسلم سے دین اخذ کیا تھا لہذا وہ ہم سے زیادہ دین سمجھنے والے ہیں , اور چونکہ وہ
ہم سے زیادہ دین سمجھنے والے ہیں لہذا وہ غلطی نہیں کرسکتے , ا ور اسی بناء پر
انکے اقوال و افعال کی دین میں بڑی اہمیت و حیثیت ہے۔ اور اس حیثیت کو اتنا بڑھا
دیتے ہیں کہ وحی الہی کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں۔وحی کے مطلق کو موقوفات کی بناء
پر مقید مانتے ہیں اور وحی الہی کے عام کی سلف کے افعال و اقوال سے تخصیص کرتے
ہیں۔



وحی الہی اور منہج صحابہ و سلف صالحین:



جبکہ وحی کے مطلق کو غیر وحی مقید نہیں کرسکتی  اور نہ ہی وحی کے عام کی تخصیص وحی کے سوا کسی
کو کرنے کی اجازت ہے۔ وحی اللہ کا حکم ہے جسے خالق نے مطلق رکھا اسے مخلوق میں سے
کوئی بھی مقید نہیں کرسکتا, نہ ہی اللہ کے عام قرار دیے ہوئے فیصلہ کو کوئی انسان
خاص کر سکتا ہے۔یہی نظریہ و منہج صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بھی تھا۔
اسی لیے سیدنا  عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
نے جب حج تمتع سے منع کیا تو انہی کے فرزند ارجمند سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ
عنہ نے یہ کہتے ہوئے اپنے والد گرامی کا فیصلہ رد کر دیا کہ
' أَأَمْرَ أَبِي نَتَّبِعُ؟ أَمْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟' [
کیا میرے والد گرامی کی بات کی ہم پیروکریں گے  یا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے حکم کی ؟] (جامع الترمذی: 824)  اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ
عنہ نے اپنے دور حکومت میں زوراء  کے
بازارمیں جمعہ کی نئی اذان شروع کروائی تو اسے 
«الْأَذَانُ الْأَوَّلُ يَوْمَ
الْجُمُعَةِ بِدْعَةٌ»[
جمعہ کے دن پہلی
اذان بدعت ہے
] (مصنف ابن أبي شيبة: 5437)  کہہ کر رد فرما
دیا۔ اپنے سے پہلے اسلام لانے والے اسلاف کے غلط اجتہادات کو رد کرتے ہوئے انکی
جلالت شان کو خاطر میں نہ لائے کیونکہ یہ معاملہ دین کا ہے اور دین میں کسی متقدم
یا متأخر کو حک واضافہ کی اجازت نہیں ہے۔ 
اور وحی الہی سے اخذ و اجتہاد اور استنباط و استخراج کا جتنا حق متقدمین کو
ہے اتنا ہی متأخرین کو بھی ہے۔ بنا بر دلیل سلف کی بات کو مانا جائے گا اور دلیل
کی بناء پر رد بھی کیا جائے گا۔یہی منہج و طریق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کے بعد والوں نے بھی اپنایا کہ دین کو وہیں سے لیا جہاں سے اصحاب رسول نے
لیا تھا, نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کو مصدر شریعت نہیں قرار دیا۔
بلکہ امام مالک رحمہ اللہ تو  نبی مکرم صلى
اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف اشارہ کرکے واضح الفاظ میں فرمایا کرتے تھے'
كل يؤخذ  قوله ويرد
إلا صاحب هذا القبر' [
ہر شخص کی بات
مانی بھی جاسکتی ہے اور رد بھی کی جاسکتی ہے لیکن اس قبر والے کی بات (مانی ہی
جائے گی رد نہیں کی جاسکتی
] ۔لیکن آل تقلید کی روش ہے کہ وہ نبی کو اللہ کے درجہ تک
پہنچا دیتے ہیں اور اصحاب رسول کو نبی کا درجہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سے
مقصود اپنے ائمہ کی تقلید کے لیے راہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔  جبکہ یہ ایسی حقیقت ہے جسے تسلیم کیے بغیر چارہ
نہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی رفعت شان کے باوجود شارع نہیں
ہیں, اللہ تعالى کے نازل کردہ کسی عام حکم کو خاص کرنے یا کسی مطلق حکم کو مقید
کرنے کا اختیار انکے پاس نہیں, کیونکہ وہ بھی امتی ہی ہیں۔



صحابہ کرام معصوم عن الخطأ نہیں!:



صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی جلالت شان کے باو
جود انسان ہی تھے اور غلطیوں سے مبرا نہیں تھے۔ ان سے بھی کوتاہی ہو جاتی تھی۔ ہاں
انکی رفعت وعظمت بارگاہ الہی میں اتنی ہے کہ اللہ تعالى نے انکے گناہ پیشگی ہی
معاف فرما دیے تھے۔ اور اعلان فرما دیا تھا ''
وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ'' [ اور یقینا اللہ تعالى نے تمہیں معاف فرما دیا ہے] (سورۃ آل عمران: 152)۔  اور ان سے رضا
مندی کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ
وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
وَرَضُوا عَنْهُ
[ اور مہاجرین و
انصار میں سے پہلے سبق لے جانے والے اور وہ بھی جنہوں نے خوشدلی سے انکی پیروی کی‘
اللہ ان سب سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے]
(سورۃ التوبۃ: 100) اور پھر ان میں
سے جو اصحاب بدر تھے انکے بارہ میں تو خصوصی خوشخبری ملی  کہ اللہ نے انکی طرف جھانک کر دیکھا ہے اور
فرمایا ہے ''
اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ
غَفَرْتُ لَكُمْ
'' [تم جو بھی عمل کر
لو, میں نے تمہیں بخش دیا ہے]
(صحیح
البخاری: 3007)
اللہ تعالى کا صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے بخشش و معافی کا اعلان کرنا  یہ واضح کرتا ہے کہ وہ معصوم عن الخطأ نہیں تھے
بلکہ ان سے غلطیاں ہو جاتی تھیں۔ اور صحابی کی شان غلطیاں نہ کرنا نہیں بلکہ صحابی
کی شان اسکی غلطیوں کے معاف  شدہ ہونے میں
ہے۔ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو غلطیوں سے مبرا قرار دینا یا یہ
عقیدہ رکھنا کہ ان سے غلطی ہو ہی نہیں سکتی  ‘ انکی توہین و گستاخی ہے! ۔ اور کتنی ہی ایسی
احادیث ہیں جن میں ملتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بہتان , زنا,
شراب نوشی,کی سزا دی گئی  اور خود نبی مکرم
صلى اللہ علیہ وسلم ان پہ حد جاری کروانے والے تھے۔ یہ سب صحیح احادیث صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدم معصومیت پہ دلالت کناں ہیں۔



وحی الہی اور عمل صحابہ:



صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی  شخص جب ایک روایت بیان کرے اور اس حدیث کے خلاف
انکا اپنا عمل ہو تو ایسی صورت میں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ حدیث کے راوی نے جو عمل
کیا ہے وہی اس حدیث کا صحیح فہم ہے۔  جبکہ
ایسا نہیں! کیونکہ فہم  نص الگ شے  ہے اور عمل الگ شے ہے۔ اگر اسی قاعدہ کو درست
مان لیا جائے کہ حدیث کے راوی کے قول و عمل کو بلا دلیل ہی اس روایت کا فہم  مان لیا جائے جیسا کہ داڑھی والے مسئلہ میں کیا
جاتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ داڑھی بڑھانے کے حکم نبوی والی روایت کے راوی
ہیں  اور ان سے داڑھی کاٹنا ثابت ہے, لہذا
داڑھی بڑھانے کا مطلب اس حد تک بڑھانا ہے, تو اس سے بہت سی خرابیاں لازم آتی ہیں ۔
مثلًا:



سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ حج کے ساتھ عمرہ کرنے
یعنی حج تمتع کرنے والی حدیث کے راوی ہیں اور نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
انہوں نے حج کیا وہ حج تمتع کے عینی شاہد بھی ہیں, اس سب کچھ کے باوجود انہوں نے
حج تمتع کرنے سے منع فرما دیا تھا! تو کیا یہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے
حج تمتع سے منع کرنے کو حج تمتع کرنے کے جواز والی مرفوع روایات کے لیے قرینہ قرار
دیا جائے گا؟ یا اسے راوی حدیث کا فہم قرار دے کر حج تمتع کے منسوخ ہونے کا دعوى
کیا جائے گا؟ حا شا و کلا..! شاید کوئی کہنے والا کہے کہ انہوں نے تو رجوع کر لیا
تھا, لیکن بالفرض اگر انہوں نے رجوع کر بھی لیا تو جب تک انہوں نے رجوع نہیں کیا
ایک آدھ سال یا ایک دو ماہ یا ایک دن ہی سہی , اتنی دیر تک انکے اس فرمان شاہی کو
شرف صحابیت کے باوصف , عشرہ مبشرہ بالجنہ میں شامل ہونے کے باوجود,  دوسرے خلیفہ راشد ہوتے ہوئے بھی حجت و دلیل
تسلیم نہیں کیا گیا! اور تو کسی نے کیا ماننا تھا, انکے اپنے بیٹے عبد اللہ بن عمر
رضی اللہ عنہ نے ہی انکے فرمان کو رد فرما دیا
 ( جامع الترمذی :824) انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میرے والد گرامی سابقون الأولون
میں شامل ہیں انہوں نے نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادہ وقت گزارا ہے یہ
انکا فہم ہے اور ہم انکے فہم کے مطابق  نبی
کے بات کو سمجھیں گے‘ بلکہ فورا ہی انکے غلط فیصلہ کی تردید فرما دی۔



اسی طرح ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہامسئلہ
رضاعت میں مروی حدیث  "
إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ المَجَاعَةِ" [رضاعی رشتہ بھوک کی وجہ سے دودھ پینے پر قائم ہوتا
ہے]
(صحیح البخاری: 2647) کی راویہ ہیں۔ جو اس بارہ میں واضح ہے کہ بچہ جب اس عمر میں
دودھ پیے جس عمر میں دودھ سے اسکی بھوک مٹ جاتی ہے یعنی مدت رضاعت میں تو پھر
رضاعی رشتہ ثابت ہوتا ہے۔ اسکے بعد اگر کوئی دودھ پیے تو رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
لیکن انکا اپنا فتوى تھا کہ بڑی عمر کا بالغ شخص بھی اگر کسی عورت کا دودھ پی لے
تو وہ اس عورت کا رضاعی بیٹا بن جائے گا۔
(سنن
أبي داود: 2061)
تو کیا یہاں بھی یہ
کہا جائے گا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنی روایت کو زیادہ سمجھتی تھیں
اور رضاعتِ کبیر کے بارہ میں انکا فتوى اس مرفوع روایت کا انکا فہم ہے؟؟؟۔



سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:



مُطِرْنَا بَرَدًا وَأَبُو طَلْحَةَ صَائِمٌ، فَجَعَلَ
يَأْكُلُ مِنْهُ، قِيلَ لَهُ: أَتَأْكُلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟ قَالَ: "
إِنَّمَا هَذَا بَرَكَةٌ "



 ایک مرتبہ اولے
پڑے,  سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ  نے روزہ رکھا ہوا تھا, وہ روزے کا باوجود اولے
کھانے لگ گئے ۔ کسی نے کہا آپ روزہ کی حالت میں یہ کھا رہے ہیں؟ فرمانے لگے یہ تو
برکت ہے!
( مسند احمد : 13971‘ وسندہ
صحیح !)



کیا اس سے روزہ دار کے لیے اولے کھانے کا جواز کشید کرنا
درست ہوگا؟ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا فعل ہے ! اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی
موجودگی میں ہے اور انس رضی اللہ عنہ سمیت کسی بھی صحابی سے سیدنا ابو طلحہ رضی
اللہ عنہ کے اس عمل پہ نکیر بھی ثابت نہیں ہے!۔ پھر امام طحاوی نے  
["شرح
مشكل الآثار" 5/115  میں]
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی تو جیہ بھی جید سند سے نقل کی ہے
 کہ وہ فرماتے تھے :
لَيْسَ هُوَ
بِطَعَامٍ وَلَا بِشَرَابٍ
یعنی
نہ تو یہ کھانا اور نہ ہی مشروب ! ۔تو کیا ہم 'یاروں' کی طرح اسے اجماع سکوتی کہہ
کر روزہ دار کے لیے اولے کھانے کا فتوى صادر کردیں ؟؟؟  اور کہیں کہ قرآن میں روزہ دار کو کھانے پینے
سے منع کیا گیا ہے اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے فہم کے مطابق جس پہ کسی صحابی نے
تنقید نہیں فرمائی , برف کھانے کو استثناء حاصل ہے۔ بلکہ ہر وہ چیز جو معروف طور
پہ مشروب یا طعام نہیں ‘ نگلی جاسکتی ہے ...
حا شا و کلا...!



ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خوارج سے مناظرہ اور فہم صحابہ:



کچھ لوگ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے خوارج سے
مناظرہ کو دلیل بناتے ہیں کہ انہوں نے خوارج سے کہا تھا:



’’میں مہاجرین وانصار اور دامادِ رسول کی طرف سے آیا ہوں
اور تمہیں اصحاب رسول   کے بارے میں بتانے
آیا ہوں (کہ وہ کیسی عظیم ہستیاں ہیں کہ) 
ان کی موجودگی میں وحی نازل ہوئی ، انہی کے بارے میں ہوئی اور وہ اس کی
تفسیر کو تم سے زیادہ جانتے ہیں۔ [تم  میں
ان میں سے کوئی نہیں ہے۔ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ ان کا پیغام تم تک
پہنچاؤں اور تمہارا پیغام ان تک پہنچاؤں۔] ‘‘



اورچونکہ انہوں نے 
صحابہ کی انکے علاوہ پہ فوقیت بیان کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابی کا فہم
حجت و دلیل ہے۔



جبکہ ایسا نہیں ! کیونکہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ
عنہ نے خوارج کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی افضلیت و فوقیت ضرور بتائی
لیکن یہ نہیں کہاچونکہ وہ تم سے افضل و اشرف ہیں لہذا انکی بات ماننا تم پہ واجب
ہے۔ بلکہ خوارج کی تاویلات اور اشکالات کا جواب وحی الہی سے ہی دیا۔ ملاحظہ
فرمائیں:



میں نےپوچھا: ’’بتاؤ رسول اللہﷺ کے چچا زاد، داماد اور آپﷺ
پر سب سے پہلے اسلام لانے والے پر تمہیں کیا اعتراض ہے؟  حالانکہ نبی کریمﷺ کے تمام صحابہ انہی کے ساتھ
ہیں۔‘‘



کہنے لگے: ’’ہم ان پر تین اعتراض ہیں۔‘‘



میں نے کہا: ’’بتاؤ کون کون سے ہیں؟‘‘



کہنے لگے:



انہوں نے دین کے معاملہ میں انسانوں کو ثالث مانا حالانکہ
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:



 إِنِ الْحُكْمُ
إِلَّا لِلَّهِ



            حکم تو
صرف اللہ ہی کا ہے۔                                         
           [الأنعام: 57]



اللہ کے اس فرمان کے بعد لوگوں کا فیصلہ سے کیا تعلق؟!



میں نے پوچھا: اور کیا بات ہے؟



انہوں نے کہا: انہوں نے لڑائی کی  اور قتل کیا لیکن نہ کسی کو قیدی بنایا، نہ مال
غنیمت حاصل کیا۔ اگر مخالفین کفار تھے تو انہیں قید کرنا اور ان کا مال لوٹنا حلال
تھا ۔ اور اگر وہ مؤمن تھے تو ان سے لڑنا ہی حرام تھا۔‘‘



میں نے پوچھا: اور کیا بات ہے؟



انہوں نے کہا: ’’اپنے آپ کو امیر المؤمنین کہلوانے سے روک
دیا۔ اگر وہ مؤمنوں کے امیر نہیں ہیں تو پھر لا محالہ کافروں کے امیر ہیں۔ ‘‘



میں نے کہا: ’’اچھا، یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے سامنے قرآن
کریم کی کوئی محکم آیت پڑھوں یا نبی کریمﷺ کی سنت تمہیں بتاؤں، جس کا تم انکار نہ
کر سکو، تو اپنے موقف سے رجوع کرلو گے؟‘‘



کہنے لگے: ’’کیوں نہیں! ‘‘



میں نے کہا: ’’جہاں تک تمہارے پہلے اعتراض کا تعلق ہے کہ
’’دین کے معاملہ میں لوگوں کو ثالث مانا 
‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:



 يٰٓاَيُّها
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ * وَمَنْ
قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَ
ــزَاۗءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا
عَدْلٍ مِّنْكُمْ



اے ایمان والو! تم حالت احرام میں شکار نہ مارو۔ اور جس نے
جان بوجھ کر شکار مارا تو اس کا بدلہ مویشیوں میں سے اسی شکار کے ہم پلہ جانور ہے
جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں۔



[المائدۃ: 95]



اسی طرح اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے بارے میں فرمایا:



 وَإِنْ خِفْتُمْ
شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا



اور اگر تمہیں زوجین کے باہمی تعلقات بگڑ جانے کا خدشہ ہو
تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کر لو ۔                                           
            [النساء: 35]



میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: بتاؤ!
لوگوں  کی جانیں بچانے اور ان کی آپس میں
صلح کے وقت لوگوں کے فیصلے کی زیادہ ضرورت ہے یا چوتھائی درہم کی قیمت رکھنے والے
خرگوش معاملہ میں ؟



کہنے لگے: ’’یقیناً لوگوں کی جانوں کو بچانے اور آپس میں
صلح کروانے میں (زیادہ ضرورت ) ہے۔‘‘



میں نے پوچھا: ’’پہلے اعتراض کا تسلی بخش جواب مل گیا؟‘‘



کہنے لگے: ’’بےشک۔‘‘



میں نے کہا: ’’جہاں تک تمہارے دوسرے اعتراض کا تعلق ہے کہ
’’مخالفین سے لڑائی تو کی لیکن نہ قیدی بنایا، نہ مال غنیمت حاصل کیا۔‘‘  تو بتاؤ! کیا اپنی والدہ عائشہ  کو قیدی بنانا پسند کرتے ہو؟ کیا اسے بھی ایسے
ہی لونڈی بنا کر رکھنا جائز سمجھتے ہو جیسے دوسری لونڈیوں کو؟ اگر جواب ہاں میں ہے
تو تم کافر ہو۔ اور اگر یہ سمجھتے ہو کہ وہ مؤمنوں کی ماں نہیں ہے تو تب بھی تم
کافر ہو اور دائرہ اسلام سے خارج ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 



النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ
وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ



بلاشبہ نبی ﷺ مومنوں کے لئے ان کی اپنی ذات سے بھی مقدم ہیں
اور آپﷺ کی بیویاں مؤمنوں کی مائیں ہیں ۔                                                                      
          [الأحزاب:
6]



اب تم دو گمراہیوں کے درمیان لٹکے ہوئے ہو۔ جس کو چاہو،
اختیار کرلو۔ تم لوگ گمراہی کے گہرے غار میں دھنس چکے ہو۔



تمہارا یہ اعتراض بھی ختم ہوا؟‘‘



وہ کہنے لگے: ’’جی ہاں!‘‘



میں نے کہا:  ’’جہاں
تک تمہارے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ ’’سیدنا علی 
نے اپنے نام کے ساتھ امیر المؤمنین نہیں لکھوایا‘‘ تو  رسول اللہﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر قریش سے اس
بات پر صلح کی کہ ان کے درمیان ایک معاہدہ تحریر ہوجائے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
لکھو: ’’یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہﷺ نے کیا ہے۔‘‘ وہ کہنے لگے: ’’اگر ہم
یہ مانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو کبھی بھی آپ کو بیت اللہ سے روکتے، نہ آپ سے
لڑائی کرتے۔ لہٰذا محمد بن عبد اللہ لکھوائیں۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم!
یقیناً میں اللہ کا سچا رسول ہوں، اگرچہ تم مجھے جھٹلاتے ہو، لیکن خیر,علی! محمد
بن عبد اللہ لکھو۔‘‘



تو رسول اللہﷺ تو علی 
سے بدرجہا بہتر ہیں۔



یہ اعتراض بھی ختم ہوا؟‘‘



کہنے لگے: ’’جی ہاں۔‘‘



یہ گفتگو سن کر بیس ہزار خارجیوں نے اپنے موقف سے رجوع
کرلیا  اور باقی چار ہزار رہ گئے جو قتل کر
دیے گئے۔   



                                                (مصنف
عبد الرزاق: 18678)



اس قصہ میں کتنا واضح ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی
اللہ عنہ نے انکے ہر اعتراض کا جواب قرآن وسنت سے دیا۔ سیدنا رضی اللہ عنہ کے محض
صحابی ہونے کی وجہ سے انکی حمایت نہیں کی بلکہ انکے موقف پہ دلیل ہونے کی وجہ سے
انکا ساتھ دیا۔



اسی طرح خوارج نے جب ان  
کو عمدہ لباس زیب تن کیے ہوئے دیکھا تو فوراً اعتراض جڑ دیا۔اس پر سیدنا
عبد اللہ بن عباس   نے انہیں دندان شکن
جواب دیتے ہوئے فرمایا:



’’اس سوٹ کی وجہ سے مجھ پر اعتراض کررہے ہو؟ حالانکہ میں نے
رسول اللہﷺ کو تو اس سے بھی اچھے سوٹ پہنے دیکھا ہے۔ اور قرآن مجید میں اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں:



قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ
لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ



آپﷺ ان سے پوچھئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو
زینت اور کھانے کی پاکیزہ چیزیں پیدا کی ہیں، انہیں کس نے حرام کردیا ؟                                                                    
        [الأعراف:
32]



(المستدرك على الصحيحين:7368)



یعنی یہ آیت مباح زینت کی حِلَّت بتانے کےلیے نازل ہوئی ہے
تو  کیسے تم اس کی مخالفت کرتے ہو اور اسے
حرام ٹھہراتے ہو؟



الغرض مناظرہ ا بن عباس رضی اللہ عنہ سے فہم صحابہ کی حجیت
پہ دلیل لینا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے اس مناظرہ میں صرف اور صرف وحی
الہی کو ہی حجت و دلیل بنایا ہے۔



کسی نص کے فہم اور فتوى 
میں فرق:



محدثین کے ہاں ایک متفقہ اصول چلتا ہےکہ کوئی ناقد محدث جس
حدیث کو اپنے کسی موقف پہ بطور دلیل پیش کرے وہ روایت اسکے نزدیک صحیح ہوتی ہے۔
لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ محدث کوئی فتوى دیتا ہے اور اسکا فتوى کسی ضعیف روایت
کے موافق آجاتا ہے۔فتوى دینے والے نےاپنے موقف پہ اس ضعیف روایت سے استدلال نہیں
کیا ہوتا بلکہ محض اتفاق ہی ہوتا ہے کہ جو بات اس نے کہی وہ کسی ضعیف روایت میں
بھی موجود ہوتی ہے۔ ایسے میں اس ناقد محدث کے موقف یا فتوى کی بناء پر اس ضعیف
روایت کو جسکے موافق اس محدث کا موقف ہے اس ناقد کے نزدیک صحیح قرار دینا جائز
نہیں ہوتا۔کیونکہ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ اس نے یہ موقف کسی اور روایت یا
آیت سے استدلال کرکے اپنایا ہو‘ یہ الگ بات ہے کہ وہ استدلال صحیح ہے یا درست‘
لیکن وہ اس ضعیف روایت کے موافق آگیا۔



اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال و
افعال کا معاملہ بھی ہے۔ کہ کبھی کسی صحابی سے کوئی قول یا عمل ثابت ہوتا ہے اور
انکا وہ قول یا عمل کسی ضعیف روایت کے موافق آ جائے تو اس سے وہ ضعیف روایت صحیح
نہیں بن جاتی ۔ الا کہ صحابی اپنے اس قول یا عمل پہ اس روایت کو بطور دلیل پیش
کرے۔



بعینہ کسی صحابی کا قول یا عمل اسی موضوع کی کسی روایت یا
آیت کی تشریح و توضیح قرار نہیں پائے گا جب تک اس صحابی سے  اس آیت یا روایت کو دلیل بنانا ثابت نہ ہو۔
کیونکہ عین ممکن ہے کہ صحابی نے وہ عمل کسی اور دلیل کے پیش نظر کیا ہو۔



بالکل یہی معاملہ اس داڑھی والے مسئلہ میں بھی ہے کہ صحابہ
میں سے کسی نے
واعفوا کا معنى ایک مشت تک چھوڑنا نہیں کیا۔ بلکہ جنہوں نے کٹوانے
کا عمل کیا انہوں نے ایک اور دلیل
 ليَقْضُوا تَفَثَهُمْ
سے استدلال کیا کہ یہ بھی تفث میں شامل ہے لہذا ان زائد
بالوں کو بھی کاٹ دینا چاہیے۔ انکا یہ استدلال درست نہیں تھا‘ اسکی وضاحت ہم آگے
چل کر کریں گے۔ ان شاء اللہ۔



مآخذ دین کے بارہ اس مختصر تمہید کے بعد اصل موضوع کی طرف
چلتے ہیں کہ اسلام میں داڑھی کی مقدار کتنی ہے؟ اور اسے کاٹنے یا مونڈنے کا شرعی
حکم کیا ہے۔ اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں انکا حکم کیا ہے؟



داڑھی بڑھانے کا حکم:



سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:



«انْهَكُوا
الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى»



مونچھوں کو پست کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔



صحيح
البخاري: 5893



یہی روایت صحیح مسلم (529) میں بایں الفاظ مروی ہے:



«أَحْفُوا
الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى»



مونچھوں کو خوب کاٹو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔



سیدنا
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہی روایت ان الفاظ سے بھی مروی ہے:



"
خَالِفُوا المُشْرِكِينَ: وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ "



مشرکوں کی مخالفت کرو: داڑھیوں کو وافر کرو اور مونچھوں کو
خوب کاٹو۔



صحيح
البخاري: 5892



یہی روایت ان الفاظ سے بھی آئی ہے:



«خَالِفُوا
الْمُشْرِكِينَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحَى»



مشرکوں کی مخالفت کرو : مونچھوں کو خوب کاٹو اور داڑھیوں کو
وافی بناؤ۔



صحيح
مسلم:259



سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:



«جُزُّوا
الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ»



مونچھوں کو خوب رگڑ کر کاٹو اور داڑھیوں کو لٹکاؤ، اس طرح
مجوسیوں کی مخالفت کرو۔



صحيح
مسلم: 260



ان تمام تر الفاظ'' اعفو, ارجو, وفروا,
اوفوا, ارخوا''
سے داڑھیوں کو مکمل
کرنا, بڑھانا , لٹکانا , لمبا کرنا واضح ہوتا ہے۔جو اس بات کے متقاضی ہیں کہ داڑھی
کو اسکی اصل حالت پہ چھوڑ دیا  جائے۔واعفوا
کا معنى معاف کرنا بھی ہوتا ہے اور بڑھانا بھی, یہ دونوں معنى قرآن مجید اور لغت
سے ثابت ہیں۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔  ان
شاء اللہ۔



سیدنا رویفع  بن
ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلى اللہ علیہ نے فرمایا:



«يَا
رُوَيْفِعُ لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي، فَأَخْبِرِ النَّاسَ
أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ، أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، أَوْ اسْتَنْجَى
بِرَجِيعِ دَابَّةٍ، أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ مِنْهُ بَرِيءٌ»



اے رویفع! شاید کہ زندگی تجھےمیرے بعد لمبی مہلت دے, تو
لوگوں کو خبردار کر دینا کہ جس نے اپنی داڑھی کو گرہ لگائی یا گلے میں دھاگہ ڈالا
یا جانور کے گوبر  یا ہڈی سے استنجاء کیا
تو یقینا محمد صلى اللہ علیہ وسلم ا س سے بری ہیں۔



سنن
أبي داود: 36



اس روایت میں بھی داڑھی کو گرہ لگانے سے ممانعت مذکور ہے جس
سے داڑھی کی لمبائی واضح ہوتی ہے ۔ کیونکہ مشت بھر داڑھی کو نہ تو گرہ آسانی سے
لگتی ہے اور نہ ہی اسکی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔



یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جب داڑھی کو کاٹے بغیر, محض گرہ
لگا کر چھوٹا کرنا سختی سے منع ہے تو اسے کاٹ کر چھوٹا کرنا کیونکر جائز ہوگا؟
... فتدبر!



‘‘واعفوا‘‘ کا معنى۔:



بعض الناس کا یہ زعم ہے کہ ''واعفوا اللحى'' کا معنى
'داڑھیوں کو معاف کردو' درست نہیں۔ بلکہ
واعفوا کا معنى صرف بڑھانا ہے۔ جبکہ انکا یہ زعم باطل ہے۔ کیونکہ اعفاء کا
معنى بڑہوتری بھی ہوتا ہے اور معافی  اور
چھوڑ دینا بھی۔



اللہ سبحانہ وتعالى کا فرمان ہے:



وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ
مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ
مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ
بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ



اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ اس کے بعد بھی کہ انکے لیے حق
واضح ہو چکا ہے اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہارے ایمان کے
بعد کفر کی حالت میں لوٹا دیں۔ سو انہیں معاف کریں اور درگزر کریں حتى کہ اللہ
اپنا حکم لے آئے۔ یقینا اللہ تعالى ہر چیز پہ خوب قادر ہے۔



البقرۃ: 109



اگر اس آیت میں 'فاعفوا' کا معنى بڑھانا کیا جائے‘ جیسا کہ بعض الناس کا خیال ہے تو
نتیجہ کا نکلے گا؟ غور فرمائیے!



اسی طرح اہل لغت نے بھی 'إعفاء' کا یہ معنى نقل کیا
ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:



ابن اثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:



وَفِيهِ
«أَنَّهُ أمَرَ بإِعْفَاء اللِّحَى» هُوَ أَنْ يُوفِّر شَعَرُها وَلَا يُقَصّ
كالشَّوارب، مِنْ عَفَا الشيءُ إِذَا كَثُر وَزَادَ. يُقَالُ: أَعْفَيْتُه
وعَفَّيْتُه.



اسی معنى میں ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے إعفاء لحیۃ کا
حکم دیا۔ اور وہ اسکے بالوں کو بڑھانا اور مونچھوں کی طرح نہ کاٹنا ہے۔ یہ
عفا الشیء سے
ماخوذ ہے , جب کوئی شے  بکثرت اور زیادہ ہو
(تو یہ لفظ بولا جاتا ہے) اور
أَعْفَيْتُه
اور عَفَّيْتُه دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔



النهاية
لابن اثير جـ3 صـ 266



علامہ ابن اثیر کی اس عبارت سے بھی واضح ہے کہ اعفائے لحیہ کا
معنى ہے کہ اسے بڑھایا جائے کاٹا نہ جائے جس طرح مونچھیں کاٹی جاتی ہیں۔ اور نہ
کاٹنا معاف کرنے کے ہی معنى میں ہے۔



ابن فارس لکھتے ہیں:



(عَفَو) الْعَيْنُ وَالْفَاءُ وَالْحَرْفُ الْمُعْتَلُّ أَصْلَانِ يَدُلُّ
أَحَدُهُمَا عَلَى تَرْكِ الشَّيْءِ، وَالْآخَرُ عَلَى طَلَبِهِ. ثُمَّ يَرْجِعُ
إِلَيْهِ فُرُوعٌ كَثِيرَةٌ لَا تَتَفَاوَتُ فِي الْمَعْنَى.



فَالْأَوَّلُ: الْعَفْوُ: عَفْوُ اللَّهِ - تَعَالَى - عَنْ
خَلْقِهِ، وَذَلِكَ تَرْكُهُ إِيَّاهُمْ فَلَا يُعَاقِبُهُمْ، فَضْلًا مِنْهُ.



عفو.. عین‘ فاء‘ اور حرف معتل (واؤ) دو اصل ہیں ان میں سے
ایک کسی چیز کو چھوڑنے پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا (اصل) اسکی طلب پر۔ پھر انکی
بہت سی فروعات ہیں جو معنى میں متفاوت نہیں۔



پہلا (اصل): عفو: اللہ تعالى کا اپنی مخلوق سے عفو کرنا ۔
اور وہ ہے انہیں چھوڑ دینا اور اپنے فضل کی بناء پر انہیں سزا نہ دینا۔



مقاییس اللغۃ جـ۴ صـ 56



پھر مزید لکھتے ہیں:



وَقَدْ يَكُونُ أَنْ يَعْفُوَ الْإِنْسَانُ عَنِ الشَّيْءِ
بِمَعْنَى التَّرْكِ



اور کبھی انسان کسی شے کو معاف کر دیتا ہے 'ترک' کے معنى
میں ہیں۔ (یعنی اسے چھوڑ دیتا ہے)۔



مقاییس اللغۃ جـ۴ صـ ۵۷



پھر مزید لکھتے ہیں:



وَقَالَ أَهْلُ اللُّغَةِ كُلُّهُمْ: يُقَالُ مِنَ
الشَّعْرِ عَفَوْتُهُ وَعَفَيْتُهُ، مِثْلُ قَلَوْتُهُ وَقَلَيْتُهُ، وَعَفَا
فَهُوَ عَافٍ، وَذَلِكَ إِذَا تَرَكْتَهُ حَتَّى يَكْثُرَ وَيَطُولَ. قَالَ
اللَّهُ - تَعَالَى -:
{حَتَّى عَفَوْا} [الأعراف: 95] ، أَيْ نَمَوْا وَكَثُرُوا. وَهَذَا يَدُلُّ
عَلَى مَا قُلْنَاهُ، أَنَّ أَصْلَ الْبَابِ فِي هَذَا الْوَجْهِ التَّرْكُ.



تمام تر اہل لغت کا کہنا ہے کہ بالوں کے بارہ میں  عَفَوْتُهُ
وَعَفَيْتُهُ
کہا جاتا ہے  قَلَوْتُهُ
وَقَلَيْتُهُ
کی طرح , اور عَفَا فَهُوَ عَافٍ, یہ سب اس وقت جب آپ انہیں چھوڑ دیں حتى کہ وہ بڑھ جائیں اور لمبے ہو جائیں۔  اللہ تعالى کا فرمان ہے: {حَتَّى عَفَوْا} [الأعراف: 95] یعنی وہ بڑھے اور زیادہ ہوئے۔ اور یہ اسی بات پر دلالت کرتا
ہے جو ہم نے کہی کہ اس وجہ میں باب کا اصل معنى 'ترک' ہی ہے ۔



مقاییس اللغۃ جـ۴ صـ ۶۰



ابن فارس کی ان عبارات میں تو بات نہایت ہی دو ٹوک اور واضح
ہے کہ اعفاء کا اصل معنى ہے معاف کرنا چھوڑنا یا ترک کرنا ہے۔ اور بڑھوتری یا
اضافہ کا معنى اصل نہیں ہے بلکہ ترک کا نتیجہ ہے۔ لیکن آفرین ہے بعض الناس پر کہ
انہوں نے اصل معنى کا انکار کرتے ہوئے لازم معنى کو اصل معنى قرار دے دیا ۔
یا ضیعۃ العلم
.....



ابن منظور رقمطراز ہیں:



وعَفَا يَعْفُو إِذَا تَرَكَ حَقّاً، وأَعْفَى إِذَا أَنْفَقَ العَفْوَ مِنْ
مَالِهِ، وَهُوَ الفاضِلُ عَنْ نَفَقَتِه. وعَفا القومُ: كَثُرُوا. وَفِي
التَّنْزِيلِ: حَتَّى عَفَوْا ؛ أَي كَثُرُوا. وعَفا النَّبتُ والشَّعَرُ وغيرُه
يَعْفُو فَهُوَ عافٍ: كثُرَ وطالَ. وَفِي الْحَدِيثِ: أَنه صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ بإعْفَاء اللِّحَى ؛ هُوَ أَن يُوفَّر شَعَرُها
ويُكَثَّر وَلَا يُقَصَ كالشَّوارِبِ، مِنْ عَفا الشيءُ إِذَا كَثُرَ وَزَادَ.



اور عَفَا
يَعْفُو
کا لفظ اس وقت بولا
جاتا ہے  جب حق چھوڑ دے۔ اور
 أَعْفَى جب  اپنے مال سے
'عفو' خرچ کرے اور وہ (عفو) نفقہ سے زائد مال ہے۔ اور 
 عَفا القومُ یعنی قوم بڑھ گئی۔اور قرآن مجید میں ہے  حَتَّى
عَفَوْا
یعنی وہ زیادہ ہوگئے۔
اور  
وعَفا النَّبتُ والشَّعَرُ وغيرُه يَعْفُو فَهُوَ عافٍ بولا جاتا ہے جب  وہ
(نباتات یا بال ) زیادہ ہو جائیں اور لمبے ہو جائیں۔ اور حدیث میں بھی ہے کہ رسول
اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اعفاء لحیہ کا حکم دیا ہے اور وہ اسکے بالوں کا وافر اور
زیادہ ہونا  اور مونچھوں کی طرح نہ کاٹنا
ہے۔ یہ 
عَفا الشيءُ  سے مأخوذ ہے جب وہ کثیر اور زیادہ ہو۔



لسان العرب جـ۱۵ صـ ۷۵



 علامہ ابن منظور کے
کلام سے بھی اس بات کی صراحت ہوگئی کہ واعفوا کا معنى معاف کرنا چھوڑ دینا اور
بالوں کو نہ کاٹنا ہے۔



اسکے علاوہ بھی تقریبا تمام تر اہل لغت اور شارحین حدیث
نبوی نے اعفاء کا یہی معنى ذکر کیا ہے کہ اعفاء لحیہ کا معنى ہے داڑھی کو چھوڑ دیا
جائے اور کسی قسم کی تراش خراش نہ کی جائے جسکے نتیجہ میں وہ بڑھ جائے اور لمبی ہو
جائے۔  طوالت کے خوف سے دیگر ائمہ لغت اور
اسی طرح شارحین حدیث کے اقوال سے صرف نظر کی جا رہی ہے



ع....                            وگرنہ
 چمن میں سامان تنگیء داماں بھی ہے!



 

:
طباعة