« زکاۃ ایڈوانس ادا کرنے کا حکم ؟ »






زکاۃ وقت سے پہلے بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ مستحسن امر ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔
 أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ، وَخَالِدُ بْنُ الوَلِيدِ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا، فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ: فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا العَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو کہا گیا کہ ابن جمیل اور خالد بن الولید اور عباس بن عبد المطلب نے صدقہ روک لیا ہے (یعنی دینے سے انکار کر دیا ہے) تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن جمیل ہم سے صرف اسی بات کا انتقام لیتا ہے کہ وہ تنگ دست تھا تو اللہ اور اسکے رسول نے اسے غنی کر دیا۔ اور رہے خالد بن الولید تو اس پر تم ظلم کرتے ہو‘ اس نے تو اپنی درعیں اور گھوڑے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھے ہیں, اور جو عباس بن عبد المطلب ہیں وہ تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں وہ صدقہ ان پر واجب ہے اور اسکی مثل بھی۔
صحیح البخاری:1468
یعنی خالد بن الولید رضی اللہ عنہ نے زکاۃ کا وقت آنے سے قبل ہی ایڈوانس زکاۃ نکالی ہوئی تھی, اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کی زکاۃ کا ذمہ خود نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے لیا کہ وہ زکاۃ ادا کریں گے بلکہ جتنی زکاۃ بنتی ہے اس سے دوگنا دیں گے۔
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ انسان حالات کے پیش نظر اپنے مال کی زکاۃ پیشگی (ایڈوانس) نکال سکتا ہے۔
اور ایڈوانس زکاۃ ادا کرتے ہوئے آئندہ سال کے ممکنہ اخراجات نکل کر حساب کیا جاسکتا ہے کہ آئندہ سال اتنی زکاۃ بنے گی, پھر اس میں اگر کوئی کمی بیشی ہو تو وہ سال کے آخر میں پوری کر لی جائے۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
رہا جنس نصاب کی مقدار کا سوال , تو جس سال جتنی جنس مثلا سونا یا چاند موجود ہو گا اس سال کی زکاۃ اسی مقدار کے حساب سے دی جائے گی۔




» تاريخ النشر:
» تاريخ الحفظ:
» محمد رفیق طاہر | قدیم
.:: http://www.rafiqtahir.com/ur/ ::.