حرامی فکر "باپ" کی تلاش میں

حرامی فکر "باپ" کی تلاش میں.....

اسلام سے قبل عرب کے جاہلی معاشرہ میں نکاح کی مختلف شکلیں تھیں۔ ایک وہ نکاح جسے اسلام نے برقرار رکھا کہ لڑکی کے ولی کی اجازت سے اس سے نکاح کیا جاتا۔ ایک نکاح استبضاع کہلاتا کہ بے غیرت شوہر اپنی بیوی کو کہتا کہ فلاں شخص سے زنا کرو اور جب اس شخص سے اسکی بیوی حاملہ ہو جاتی تو وہ پھر اس سے جماع کرتا۔ تیسر ا نکاح اس طرح ہوتا کہ دس یا اس سے کم افراد ایک عورت کے ساتھ زنا کرتے اور پھر جب بچہ پیدا ہوتا تو وہ عورت کسی ایک کا نام لے کر کہہ دیتی کہ اے فلاں! یہ تیرا بچہ ہے تو اسکا نسب اسی طرف ہو جاتا جسکا وہ نام لیتی ۔ اور کسی کو بھی اسکی بات ماننے سے انکار نہیں ہوتا تھا۔چوتھا نکاح بغایا کا تھا جنہیں قرآن نے مسافحات کہہ کر پکارا, انہوں نے اپنے گھروں پہ جھنڈے لگا رکھے ہوتے تھے کہ جو چاہے آئے اور ان سے بدکاری کرے ۔ جب انکے ہاں بچہ پیدا ہوتا تو قائف (قیافہ شناس ) کو بلا یا جاتا وہ قیافہ لگا کر بتاتا کہ یہ کس کا نطفہ ہے۔ (صحیح البخاری)
آج بھی فکری ونظریاتی دنیا میں کچھ اس قسم کے بچےپائے جاتے ہیں جنکا "باپ" معلوم کرنا شاید اس دور کے قیافہ شناس کے بس میں بھی نہیں۔ اسی لیے کبھی تو وہ عقل پرستی کی دوڑ لگاتے ہوئے معتزلی افکار کا شکار ہوکر منکرین حدیث سے یاری کی پنگیں ڈالتے نظر آتے ہیں لیکن جب ا نکار حدیث کی معراج پہ پہنچ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے "منافق" تلاش کرنا شروع ہوتے ہیں تو قوم کی طرف انکی ایسی "چھترول" ہوتی ہے کہ دو گھنٹے بعد ہی اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کرنا پڑتی ہے۔
اور پھر وہ لبرل ازم کے علمبرداروں میں اپنا "باپ" تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں جنہیں مسجد کے میناروں اور گنبدوں میں بھی سیکس نظرآتا ہے اور حیاباختہ لباس میں نیم عریاں نوجوان لڑکیاں انہیں "پیکر شرم" محسوس ہوتی ہیں۔ ان لبرلوں کو سولہ سالہ بچی سے نکاح کرنے پہ اعتراض ہوتا ہے لیکن پانچ سالہ سے تیرہ سالہ کنواری ماؤں پہ فخر..! ۔ خیر "پدرکھوجی" کے سفر میں یہ "حرامی فکر "کے حاملین لبرلوں کو باپ مان بیٹھتے ہیں کہ یہاں خوب آزادی ہے ۔ لیکن جب آئینہ نظر آتا ہے اور بہنوں بیٹیوں کو ننگا کرکے سربازار لانا پڑتا ہے تو کہتے ہیں "اجے اسیں اینے وی بےغیرت نئیں ہوئے" اور پھر کچھ لمحوں کے لیے لبرل ازم سے روٹھ کر نیا باپ تلاشنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔
اچانک یاد آتا ہے کہ میں نے بھی "کچی روٹی, پکی روٹی" پڑھی ہے اور اس دوران وہابیوں سے سینگ لڑانا بھی سیکھا ہے۔ چلو اسے ہی آزماتے ہیں شاید حنفیت میں کہیں سے کوئی "باپ" میسر آ جائے۔ اسی شوق میں ابن تیمیہ کی "ایسی تیسی" کرنے کی خوب کوشش کی جاتی ہے کہ وہابیوں کے "باپ" کو ماریں گے تو "حنفی باپ" خوش ہو کر گلے لگا لے گا۔ابن تیمیہ کو خارجی و تکفیری فکر کا بانی قرار دے کر عربوں کی نمک حرامی کرتے ہوئے انہیں ابن تیمیہ سے جوڑ کر جزیرہ عرب میں موجود دہشت گردی کا تمغہ انہی کے سر سجاتے ہوئے انہیں اس فساد کا موجد اولین قرار دے دیا جاتا ہے۔ محمد بن عبد الوہاب کی تحریک دعوت کو تحریک تکفیر و خروج باور کروا تے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اب تو "آل دیوبند" کے مراسم "آل سعود" سے بہت گہرے ہو چکے۔ اب "دیوبند" بھی آل سعود کی ناراضگی مول نہیں لے سکتا۔ بس اسی غلطی کی وجہ سے اپنے ہی ہمنوا کان سے پکڑ کر ایسی چھترول کرتے ہیں کہ ابن تیمیہ کے قول کا صحیح مدعا واضح ہو جاتا ہے۔ اور تلاش بسیار کے باوجود "باپ پھر نہ مل سکا"...!
ابھی بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ اب کس طبقہ سے باپ تلاش کریں.... تو جناب پریشان نہ ہوں, ابھی وہ طبقہ باقی ہے جنہیں "مزارات گرانے" کا تذکرہ کرکے آپ نے خوش کیا ہے۔ اب وہ بازار چھانیے شاید کہیں سے آپکو "باپ" میسر آ جائے۔
ویسے ہمارے مشاہدے کے مطابق آپ کی اس فکر کا "باپ" کوئی ایک نہیں ہوسکتا! کیونکہ ان سب کے "جراثیم" آپ میں پائے جاتے ہیں۔
:
طباعة