جشن میلاد پر شریعت کی خلاف ورزیاں

میلاد کےموقع پر شریعت کی خلاف ورزیاں



اسراف وتبذیر:



اللہ رب العالمین نے قرآن مجید فرقان حمید میں فضول خرچی کی مذمت کے لیے دو
لفظ استعمال فرمائے ہیں " اسراف
اور تبذیر " ۔



اسراف : ایسی فضول
خرچی ہوتی ہے جو ضرورت کے کاموں میں کی جائے ۔ مثلا گھر کے دروازہ کے آگے پردہ
لٹکانے کے لیے انتہائی قیمتی مثلا خالص ریشمی کپڑے کا استعمال اسراف کہلاتا ہے ۔
کیونکہ ضرورت صرف " پردہ" ہے ا ور وہ ایک عام سادہ سے کپڑے سے بھی پوری
ہوتی ہے ۔  اسی طرح ضرورت سے زیادہ کھانا
پینا اور کپڑوں کے درجنوں سوٹ سلوا لینا بھی اسراف کے زمرہ میں آتا ہے ۔ اسراف کی
مذمت کرتے ہوئے اللہ تعالى نے فرمایا ہے:



 " يَا
بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا
تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ"



"اے بنی آدم ہر
مسجد کے پاس اپنی زینت اختیار کرو اور کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو یقینا اللہ تعالى
اسراف کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔"



(الأعراف:31)



تبذیر : ایسی فضول خرچی جس کی ضرورت ہی نہ ہو اور کوئی فائدہ نہ دے تبذیر کہلاتی ہے ۔مثلا
: دیواروں پر پردے لٹکانا , بازاروں اور گلیوں کو سجانا , اور دن کے وقت  صحن میں بلب وغیرہ روشن کیے رکھنا ۔ کیونکہ ان
میں سے کسی چیز کی بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی فائدہ ہے ۔ اور فضول خرچی کی یہ
قسم یعنی تبذیر پہلی قسم یعنی اسراف سے زیادہ قبیح ہے اور اسی بناء پر اللہ تعالى
نے اس سے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :



" إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ
وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا"



یقینا تبذیر کرنے
والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نافرمان ہے ۔



(الإسراء : 27)



 عید میلاد منانے
والے اس خود ساختہ عید کے موقع پر اسراف وتبذیر کا خوب بازار گرم رکھتے ہیں ۔
  بازاروں کو سجایا جاتا ہے,  ہر طرف جھنڈے اور جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں ساری
ساری رات بلا وجہ بازاروں , دکانوں , مکانوں
 
, گلی کوچوں اور چوکوں چوراہوں پر لائٹیں روشن رکھی جاتی ہیں اور صرف رات
ہی نہیں بلکہ دن میں بھی یہ کام جاری رہتا ہے ۔بیت اللہ اور روضہء رسول ﷺ کی شبیہ
بنائی جاتی ہے اور نہ جانے کیا کیا کچھ فضول خرچیاں اس موقع پر کی جاتیں ہیں جن
میں سے اکثر تبذیر کے زمرہ میں آتی ہیں ۔ اور یہ سب کچھ بنا کر رسول اللہ ﷺ کا
استقبال کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ



بڑے ادب کا مقام ہے یہ



حضور تشریف لارہے ہیں



جبکہ نبی کریم ﷺ نے
اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ ﷞ کے سجے ہوئے گھر جانے سے انکار فرما دیا تھا :



عَنْ ابْنِ عُمَرَ  قَالَ
أَتَى النَّبِيُّ
بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ
يَدْخُلْ عَلَيْهَا وَجَاءَ عَلِيٌّ فَذَكَــــرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَذَكَـرَهُ
لِلنَّبِيِّ
قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا مَوْشِيًّا
فَقَالَ مَا لِي وَلِلدُّنْيَا فَأَتَاهَا عَلِيٌّ فَذَكَـرَ ذَلِكَ لَهَا
فَقَالَتْ لِيَأْمُرْنِي فِيهِ بِمَا شَاءَ قَالَ تُرْسِلُ بِهِ إِلَى فُلَانٍ
أَهْلِ بَيْتٍ بِهِمْ حَاجَةٌ



عبد اللہ بن عمر ﷠ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ
ﷺ سیدہ فاطمہ ﷞ کے گھر تشریف لائے لیکن گھر میں داخل نہ
ہوئے , تو جب سیدنا علی ﷜ تشریف لائے تو سیدہ فاطمہ ﷞ نے انہیں سارا ماجرا کہہ
سنایا تو سیدنا علی ﷜ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارہ میں استفسار فرمایا تو آپ ﷺ
فرمانے لگے میں نے اسکے دروازہ پر نقش ونگار والا پردہ دیکھا تھا (اس لیے اسکے گھر
داخل نہیں ہوا ) تو یہ بات سیدنا علی ﷜ نے سیدہ فاطمہ ﷞ کو بتلائی تو وہ فرمانے
لگیں کہ آپ ﷺ مجھے اس (پردہ) کے بارہ میں جو چاہیں حکم کریں ( میں تعمیل کرنے کو
تیار ہوں ) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے فلاں گھر والوں کے پاس بھیج دو ,جو ضرورت مند
ہیں ۔



[ صحيح البخاري ,كـتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها
, باب هدية ما يكره لبسها (2613)]



درس عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو
مساجد , مکانات , دکانیں , گلیاں , محلے , سڑکیں , چوک اور چوراہے سجا کر رسول
اللہ ﷺ کی آمد کا انتظار کرتے ہیں ۔ وہ پیغمبر جو اپنی پیاری لخت جگر کے دروازہ پر
نقش ونگار والا ریشمی پردہ لٹکا دیکھ کر دروازے سے ہی واپس تشریف لے گئے وہ ان سجے
ہوئے بازاروں اور مسجدوں میں کیونکر داخل ہونگے ۔ امام الانبیاء جناب محمد مصطفى ﷺ
کے جعلی استقبال میں بازار وں اور گلیوں میں سینکڑوں تھان کپڑوں کے جھنڈے اور شو
پیس وغیرہ بنانے والے, لمبی چوڑی لائٹنگ کرنے والے , بیت اللہ اور روضہء رسول ﷺ کی
شبیہ بنانے والے , جعلی پہاڑیاں اور قبے بنانے والے  جان لیں 
سید ولد آدم امام الانبیاء جناب محمد کریم ﷺ کو ان سجاوٹوں , شو پیسوں ,
فضول خرچیوں , اسراف اور تبذیر سے شدید نفرت تھی ۔اور آج ہی فورا توبہ کرکے ان
فضول کاموں سے باز آجائیں ۔



چراغاں , اور
آتش بازی:



آتش پرستوں کی نقالی میں آج کے اس جدید دور میں بھی جبکہ روشنی کے نت نئےانداز
ایجاد ہو چکے ہیں ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوتے ہی ساری ساری رات مکانوں کی چھتوں
دیواروں اور گلیوں بازاروں میں چراغاں بھی کیا جاتا ہے اور مشعل بردار نوجوانوں کی
ٹولیاں جلوس نکالتی ہیں ۔ اب تو پٹاخے بھی بجنے لگے ہیں اور آتش بازی بھی کی جاتی
ہے ۔ یہ سراسر مجوسیوں کی مشابہت ہے وہ آگ کی عبادت کرتے تھے اور اپنے آتش کدوں کی
آگ کو ٹھنڈا نہ ہونے دیتے تھے ۔ اور اپنے تہواروں کے موقع پر اسی طرح چراغاں کرتے
تھے اور آج بھی وہ ایسا ہی کرتے ہیں ۔



اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :



مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ
فَهُوَ مِنْهُمْ



جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ
انہی میں سے ہے ۔



[سنن
أبي داود كتاب اللباس باب  في لباس الشهرة
(4031)]



پھر یہ عمل تبذیر کے
زمرہ میں بھی آتا ہے کیونکہ اس چراغاں یا مشعلیں جلانے کا کوئی فائدہ یا ضرورت
نہیں ہے ۔



 



موسیقی:



    اللہ
تعالى نے موسیقی کو حرام  قرار دیا ہے ۔
بلکہ اسے اللہ تعالى کی رحمت سے محرومی کا سبب قرار دیتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے
فرمایا :



لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ
رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ وَلَا جَرَسٌ
 



فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے
جس میں کتا یا گھنٹی ہو ۔



[ صحيح مسلم كتاب اللباس والزينة باب كراهية  الكلب والجرس في السفر (2113)]



اسی طرح ہلکے پھلے میوزک کوبھی
حرام قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :



لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ
الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ



میری امت میں ایسے
لوگ ضرور ہونگے جو زناکاری , ریشم اور دف بجانے کو حلال کر لیں  گے ۔



  [صحيح البخاري كتاب الأشربة باب ما جاء
فيمن يستحل الخمر ويسميه بغير اسمه ]



یعنی ان کاموں میں سے کوئی بھی
کام  حلال نہیں ہے لیکن وہ تأویلیں کرکے
انہیں حلال بنا لیں گے ۔



اور آج یہی کام ہور ہا ہے دف بجانے کے جواز پر فتوے بھی صادر ہو رہے ہیں اور
نعتوں میں دف اور ہلکا پھلکا میوزک شامل کیا جار ہا ہے , اور بھرپور میوزک کی بھر
مار نعت نبی ﷺ کے ساتھ کرکے اسے قوالی جیسے قبیح نام سے موسوم کیا جا رہا ہے ۔ اور
بڑی بڑی محفلیں اس  کام کے لیے منقعد کی
جاتی ہیں ۔ محفل قوالی , محفل نعت کے اشتہارات چھپتے ہیں ۔ اور قوال و نعت خواں
حضرات  طبلے و ڈھول  و ڈفلی و دف کی تھاپ پر ثناء مصطفی ﷺ کرتے ہیں
۔
انا للہ وانا 
الیہ راجعون ۔



ہُلڑ بازی,جلوس
, شورشرابہ :



    اسلام
متانت اور سنجیدگی کو پسند کرتا ہے , اور ہلڑبازی ,شورشرابہ,آوازیں کسنا , اور گلے
پھاڑ پھاڑ کر بولنا شریعت کوناپسند ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارہ میں ام
المؤمنین سیدہ عائشہ ﷞ فرماتی ہیں :



لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا
فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو
وَيَصْفَحُ
 



رسول اللہ
عادتا یا قصدا فحش گوئی کرنے والے نہ تھے , نہ ہی بازاروں میں اونچی اونچی آواز
میں شور کرنے والے  نہ تھے اور برائی کا
جواب جواب سے نہیں دیتے تھے بلکہ عفو و درگزر فرماتے تھے ۔



[ جامع الترمذي أبواب البر والصلة باب ما جاء في خلق
النبي ﷺ (2016)]



جبکہ بدعت میلاد کے ان جلوسوں میں سارے بازار بند کرکے
مسافروں کو تکلیف سے دوچار کیا جاتا ہے , خوب شور مچایا جاتا ہے ۔ ہلڑبازی ہوتی ہے
, آتش بازی, میوزک , بھنگڑا , گھوڑوں , گدھوں , موٹر سائیکلوں, سائیکلوں , ڈالوں ,
اور ٹرالیوں پر مشتمل لمبے لمبے جلوس بیہودہ قسم کے فحش اور لچر الفاظ استعمال
کرتے , گالیاں نکالتے , نازیبا کلمات کہتے , مخالفین کو شیطان اور شیطان کے چیلوں
جیسے قبیح القابات سے نوازتے اور الاؤڈ سپیکروں پر سارے علاقہ کو سناتے چلے جاتے
ہیں ۔ کیا یہ نبی ﷺ کی آمد کی خوشی منائی جارہی ہے کہ وفات کی ؟؟؟ ۔ کہ اس موقع پر
ہر وہ کام کیا جاتا ہے جو آپ ﷺ کو ناپسند تھا , اور جس سے آپ ﷺ کو شدید نفرت تھی ۔



بھیک مانگنا :



    امام الانبیاء جناب محمد مصطفى ﷺ نے
بلا وجہ بھیک مانگنے سے منع فرمایا ہے :



سیدنا  عبد اللہ بن عمر ﷠ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :



لَا
تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ
مُزْعَةُ لَحْمٍ



لوگوں سے بھیک مانگنے والا اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ
اسکے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔



[صحيح مسلم كتاب الزكاة باب كراهة المسألة للناس
(1040)]



سیدنا ابو ہریرہ ﷜ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :



مَنْ سَأَلَ النَّاسَ
أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ
لِيَسْتَكْثِرْ



جس نے مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کیا (بھیک مانگی) وہ
یقینا آگ مانگ رہا ہے چاہے تو کم کرلے اور چاہے تو زیادہ کرلے ۔



[ صحيح مسلم كتاب الزكاة باب كراهة المسألة
للناس  (1041)



جبکہ بدعت میلاد کے موقع پر "مدنی منوں" کو بھیک
مانگنے کے لیےیہ کہہ کر بھیک مانگنے پر تیار کیا جاتے ہے کہ رافضی شیعہ محرم
الحرام کے موقع پر اپنے بچوں کو "حسین کا منگتا " بناتے ہیں تو ہم نبی
ﷺ  کے منگتے کیوں نہیں بن سکتے ۔



اور پھر یہیں پر بس نہیں , محافل میلاد بپا کرنے کے لیے
چوکوں چوراہوں اور راستوں کو روک کر چندہ مانگا جاتا ہے ۔ بلکہ زبردستی بھی لیا
جاتا ہے ۔ یعنی جگا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔



اسی طرح اور بہت سی خرافات اس بدعت عظمى کے موقع پر دیکھنے  کو ملتی ہیں جن  کی شریعت میں واضح لفظوں کے ساتھ مذمت کی گئی
ہے مثلا :



بيت الله اور روضہء رسول کی شبیہ بنانا  ،شرکیہ نعتیں پڑھنا ، مجلس کے آخر میں قیام ا س
عقیدت کے تحت کرنا کہ نبی کریم
مجلس میں خود حاضر ہوتے ہیں، شیرینی تقسیم
کرنا ، دیگیں پکانا ، دروازے اور پہاڑیاں بنانا ،مخصوص لباس پہننا، تصویریں
اتارنا، رقص و وجد کا اہتمام کرنا، شب بیداری کرنا ، اجتماعی نوافل ، اجتماعی روزے
،اجتماعی قرآن خوانی ، عورتوں مردوں کا اختلاط ، نوجوان لڑ کوں کا جلوس میں شرکت
کرنا اور عورتوں کا ان کو دیکھنا ،  من گھڑ
ت قصے کہانیوں اور جھوٹی روایات کا بیان ،انبیاء ، ملائکہ ،صحابہ کرام کے بارے میں
شرکیہ اور کفریہ عقیدے کا اظہار،  اور اس
طرح کی  دیگر خرافات کہ جنہیں دیکھ کر
شیطان بھی شرماتا ہوگا ۔



 اللہ تعالى ہم سب کو ہدایت عطا  فرمائے ۔ آمین ۔



 



 

:
طباعة