دفن میت اور قبر کے احکام

دفن میت اور قبرکے احکامات



 



  1-     میت کو دفن کرنا فطری عمل
ہے   ۔
(1)



2-     کافر کی میت کو بھی دفن کیا
جائے  ۔
(2)

 3-   مسلمان اور کافر میت کو ایک
ساتھ نہ دفنایا جائے  ۔
(3)



 4-    گھروں اور مسجدوں میں میت کو
دفن نہ کیا جائے   ۔
(4)



  5-      شہداء کو وہیں دفن کیا جائے
جہاں وہ شہید ہوئے ہیں۔
(5)



   6-  اگر شہداء کو مقتل سے دوسری
جگہ منتقل بھی کر دیا جائے تو بھی انہیں واپس مقتل میں ہی لوٹا دیا جائے اور وہیں
دفن کیا جائے۔
(6)



  7-    کسی مجبوری کے بغیر رات کے
وقت میت کو دفن نہ کیا جائے
(7)



  8-     قبر لحد(سامی) اور شق (دھانے)
والی  دونوں طرح درست ہے  ۔
(8)



  9-     البتہ لحد والی قبر افضل
وبہتر ہے  ۔
(9)



  10-     قبر کو گہرا , کشادہ , اور
عمدہ  بنایا جائے   ۔
(10)



 11-     میت کو قبر میں اسکا کوئی
قریبی رشتہ دار اتارے,
(11)
بہتر ہے کہ اس نے رات مقارفت (جماع /کوئی خطأ) بھی نہ کی ہو(12)
البتہ کوئی غیر محرم مرد بھی عورت کی میت کو قبر میں اتار سکتا ہے۔
(13)



  12-     میت کو قبرکی پائنتی(پاؤں
والی جانب) سے قبر میں داخل کریں۔
(14)



 13-  میت کو قبر میں اتارتے ہوئے
یہ دعاء پڑھیں
: [بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
]
۔(15)



 14-    میت کودائیں کروٹ قبلہ رخ
لٹائیں۔
(16)



 15-     قبر كو كچی اینٹوں سے بند کریں۔(17)



  16-     قبرزمین سے تقریبا ایک بالشت
اونچی ہو ۔
(18)



 17-       قبر کوہان نما بنائیں ۔(19)



 18- قبر مکمل ہو جانے کے فورا بعد
میت کے لیے ثابت قدمی کی دعاء کریں۔
(20)
اللَّهُمَّ
ثَبِّتْهُ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْآخِرَةِ
۔(21)



  19- قبر پر بطور نشانی کوئی پتھر
وغیرہ رکھا جا سکتا ہے  ۔
(22)
لیکن قبر کتبہ لگانا یا لکھنا , اس پر بیٹھنا,اور اسے روندنا منع ہے ۔
(23)



 20-      قبر کو پختہ کرنا, اس  پر عمارت بنانا,(24)
اور اس میں اضافہ کرنا ممنوع ہے۔
(25)



 






 













([1])    سورۃ المائدۃ :31







([2])    أبو داود ۔ کتاب الجنائز۔ باب الرجل یموت لہ
قربۃ مشرک ۔ ح: 3214







([3])    أبو داود 
۔ کتاب الجنائز ۔ باب المشی فی النعل بین القبور۔ ح: 3230







([4])    بخاري ۔ کتاب الأذان ۔ باب کراہیۃ الصلاۃ فی
المقابر  ۔ ح: 432







([5])    مسند 
احمد  ۔ ح: 14857







([6])    مسند 
احمد  ۔ ح: 14857







([7])    مسلم۔ کتاب الجنائز۔ باب فی تحسین کفن المیت۔
ح: 943







([8])    مسند احمد۔ جـ۳ صـ۱۳۹۔ ح : ۱۲۰۰۷ 







([9])    مسلم ۔ کتاب الجنائز۔ باب فی اللحد ونصب اللبن
على المیت ۔ ح: 966







([10])    نسائی 
۔ کتاب الجنائز ۔ باب ما یستحب من إعماق القبر  ۔ ح: 2010







([11])    سورۃ الأنفال: 74







([12])    بخاری۔ کتاب الجنائز۔ باب من یدخل قبر المرأۃ۔
ح: 1342







([13])    بخاری۔ کتاب الجنائز۔ باب من یدخل قبر المرأۃ۔
ح: 1342







([14])    ابوداؤد۔ کتاب الجنائز۔ باب فی المیت یدخل من
رجلیہ۔ ح: 3211







([15])    ابوداؤد۔ کتاب الجنائز۔ باب فی الدعاء للمیت
إذا وضع فی قبرہ۔ ح: 3213







([16])    ابوداؤد۔ کتاب الوصایا۔ باب ما جاء فی تشدید
أکل مال الیتیم۔ ح: 2875







([17])    مسلم ۔ کتاب الجنائز ۔ باب النھی عن تجصیص
القبر والبناء علیہ ح:970







([18])    مسلم ۔ کتاب الجنائز ۔ باب الأمر بتسویۃ القبر
ح:969







([19])    بخاری ۔ کتاب الجنائز ۔ باب ما جاء فی قبر
النبی
~وأبی بکر وعمر © ۔ ح :1325







([20])    أبو داود ۔ کتاب الجنائز ۔ باب الاستغفار عند
القبر للمیت ۔ ح :3221







([21])    سورة إبراهيم :27, بخاری۔کتاب الجنائز باب ماجاء
فی عذاب القبر۔ح:1369







([22])    أبو داود ۔ کتاب الجنائز ۔ باب فی جمع الموتى
فی القبر والقبر یعلم ۔ ح :3206







([23])    ترمذی۔ کتاب الجنائز ۔ باب ما جاء فی کراہیۃ
تجصیص القبور والکتابۃ علیہا ۔ ح :1052







([24])    مسلم ۔ کتاب الجنائز باب النہی عن تجصیص القبر
والبناء علیہ۔  ح :970







([25])    أبو داود ۔ کتاب الجنائز باب فی البناء على
القبر۔ ح :3225





:
طباعة