أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

مقالات

زائرین : 2624       مقالات : 43       موضوعات : 1
موضوعات
Separator
[ گزشتہ ] [ 1 ]
مقالات
Separator

ماسک لگا کر نماز پڑھنا

ماسک پہن کر نماز پڑھنے کے حوالہ سے موجودہ صورت حال یعنی کورونا (COVID-19) میں کہ جب منہ کے ذریعہ کرونا کی بیماری پھیلنے کا خدشہ اہل فن کے ہاں متحقق و ثابت شدہ ہے، تو ایسے میں منہ پہ ماسک لگانا بالکل ویسے ہی جائز و درست ہے جیسا کہ قیام سے عاجز کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنا اور بیٹھنے کی سکت نہ رکھنے والے کے لیے پہلو کے بل لیٹ کر اشاروں سے نماز ادا کرنا جائز ہے۔

تاریخ اشاعت مؤرخہ1-08-1441ھ بمطابق: 26-03-2020ء | زائرین 2120
مکمل مضمون پڑھیں

وباء میں اذان دینے کی شرعی حیثیت

کورونا (COVID-19) یا کسی بھی اور وبا میں اذان دینا مشروع نہیں اذان نماز کے لیے بلانے کی خاطر مشروع کی گئی ہے۔ آفات ومصائب میں اذان دینا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں بلکہ ایسے موقع پر دعاء کرنا ثابت ہے۔ لہذا جو کام نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے وہی کیا جائے۔

تاریخ اشاعت مؤرخہ30-07-1441ھ بمطابق: 25-03-2020ء | زائرین 5748
مکمل مضمون پڑھیں

کرونا کی وجہ سے گھر میں نماز کی رخصت

کتاب وسنت کے صریح احکام کے باوجود لاعلمی وجہالت کی بناء پر یا کسی بھی اور وجہ سے انکا پاس نہیں کیا گیا اور اس تقصیر کے بعد بیماری اور اسکا خوف ملک کے اطراف واکناف میں پھیل چکا ہے، اور اس بیماری یعنی کورونا (COVID-19) کی شد ت اور اس سے ہونے والی اموات نے اس وبائی مرض کو بھی خوف کی علامت بنا دیا ہے۔سو اس خدشہ کی بناء پر گھروں میں نماز ادا کرنا ہی اولى و بہتر ہے۔

تاریخ اشاعت مؤرخہ29-07-1441ھ بمطابق: 24-03-2020ء | زائرین 1601
مکمل مضمون پڑھیں

کرونا اور مساجد

کورونا (COVID-19) کے باوجود مساجد میں اذان کا سلسلہ نہ رکنے پائے اور مؤذن کے ساتھ مسجد سے متعلق افراد مثلا: خطیب ،امام، مؤذن و خادم جماعت بھی کروائیں اور جمعہ بھی ادا کریں تو جماعات مطلقا موقوف نہ ہونگی۔ اور مسجد کا عملہ پھر مسجد میں ہی قرنطینہ یا لاک ڈاؤن کرے، عوام الناس میں گھومتا پھرتا نہ رہے۔ اس سے ریاست میں جمعات و جماعات کا مطلق تعطل بھی نہیں ہوگا اور حکومت کا مقصود بھی حاصل ہو جائے گا۔

تاریخ اشاعت مؤرخہ28-07-1441ھ بمطابق: 23-03-2020ء | زائرین 1171
مکمل مضمون پڑھیں

لاک ڈاؤن کا شرعی تصور

کورونا (COVID-19) جیسے وبائی امراض سے بچنے کے لیے گھروں میں محصور ہو جانا اور اپنے علاقے میں ہی جم جانا سنت نبوی بھی ہے اور ملی و دینی فریضہ بھی۔

تاریخ اشاعت مؤرخہ28-07-1441ھ بمطابق: 23-03-2020ء | زائرین 583
مکمل مضمون پڑھیں

حدیث لا عدوى اور وبائی امراض

کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی ایک مریض کا مرض دوسرے کو لگ جائے۔ بلکہ مریض جس سبب سے مرض کا شکار ہوا اسی سبب سے کوئی دوسرا شخص مریض بنتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مریض کے قرب وجوار میں بیماری کے جُرثومے بکثرت موجود ہوتے ہیں جو اسکی سانس کے ذریعہ ہوا میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور اسکے لعاب اور منہ کے ذریعے اسکے باقی بدن اور لباس پر آ دھمکتے ہیں ۔ اور پھر انہی میں سے کوئی جُرثومہ کسی دوسرے شخص کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اب اگر وہ شخص خوب صحتمند اور مضبوط قوت مدافعت کا حامل ہے تو وہ اس بیماری سے بچا رہتا ہے اور اگر کمزور قوت مدافعت والا ہے تو اس وائرس اور اس شخص کی قوت مدافعت میں جنگ جاری رہتی ہے اور کچھ وقت کے بعد وہ شخص بیماری کا شکار ہو جاتا ہے اور اگر وہ زیادہ ہی کمزور ہو تو چند لمحوں میں ہی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ مجذوم (کوڑھ کی بیماری والے) سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو یعنی ان وبائی امراض کے شکار افرد سے دور رہیں اور حفاظتی تدابیر اختیار کیے بغیر انکے قریب نہ آئیں۔

تاریخ اشاعت مؤرخہ28-07-1441ھ بمطابق: 23-03-2020ء | زائرین 1327
مکمل مضمون پڑھیں

عاشوراء کا روزہ

نبی کریم ﷺ نے رات کے ابتدائی حصہ کا اعتبار کرتے ہوئے فرعون سے آزادی کی خوشی میں روزہ منانے کا دن یہود کی مخالفت میں نو محرم الحرام کو مقرر فرما دیا ۔ جبکہ یہود رات کے آخری حصہ کا اعتبار کرتے ہوئے دس محرم الحرام کو فرعون سے آزادی کی خوشی میں روزہ رکھتے تھے ۔ اور یہی معاملہ پاکستان اور بھارت کے یوم آزادی کا ہے کہ دونوں ملکوں کی آزادی کا فیصلہ ایک ہی رات میں کیا گیا تھا لیکن اہل پاکستان چودہ اگست کو یوم آزادی مناتے ہیں اور اہل بھارت پندہ اگست کو ، اور دونوں کے ہاں مقصود ایک دوسرے کی مخالفت ہے ۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی یہود کی مخالفت کرتے ہوئے نو تاریخ کا روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا لیکن آپ ﷺ آئندہ سال تک زندہ نہ رہ سکے ۔ لہذا یہی وہ دن ہے کہ جس دن کے روزہ کو نبی کریم ﷺ نے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ قرار دیا ہے ۔

تاریخ اشاعت مؤرخہ2-01-1440ھ بمطابق: 13-09-2018ء | زائرین 2313
مکمل مضمون پڑھیں

قربانی كے مسائل كا علمی وتحقیقی جائزه

جو قربانیاں گھروں میں کی جاتی ہیں ان کو أضحية کہتے ہیں اس کی جمع أضاحی ہے۔ جس طرح حج کرنے والے کے لیے قربانی کرناضروری ہے ایسے ہی صاحب استطاعت کے لیے گھر میں قربانی کرنی بھی ضروری ہے۔

تاریخ اشاعت مؤرخہ1-12-1439ھ بمطابق: 13-08-2018ء | زائرین 1607
مکمل مضمون پڑھیں
[ گزشتہ ] [ 1 ] [ 2 ]
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 1979
کل: 1700
موجودہ ہفتہ: 11215
ماہ رواں : 6505
امسال : 411647
آغاز سے: 578006
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 460
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 6
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :286240 ویں زائر ہیں
فی الحال 18حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :18
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator