أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

کرونا کے مریض کو غسل دینا

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
کرونا کے مریض کو غسل دینا

کرونا کے مریض کو غسل دینا

محمد رفیق طاہر، عفى اللہ عنہ

مسلمان میت کو غسل دینا اسکا شرعی و اخلاقی حق ہے۔نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے مسلمان میت کو غسل دینے کاحکم بھی دیا ہے اور اس پہ عمل بھی کروایا ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے تو نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورً

اسے پانی اور بیری کے پتوں سےتین ، یا پانچ، یا اس سے بھی زیادہ بار غسل دینا، اور آخری مرتبہ غسل کے پانی میں کافور ملا لینا۔

صحیح البخاری: 1254

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص میدان عرفات میں اونٹ سے گر کر فوت ہوگیا تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلاَ تُحَنِّطُوهُ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ القِيَامَةِ مُلَبِّيًا

اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اور اسے اسکے دو کپڑوں (یعنی احرام کی دو چادروں ) میں ہی کفنا دو، اور اسے خوشبو نہ لگاؤ ، اور اسکا سر نہ ڈھانپو، کیونکہ یقینا یہ روز قیامت تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔

صحیح البخاری: 1256

اور خود رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو بھی غسل دیا گیا۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:

لَمَّا أَرَادُوا غَسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا، أَمْ نَغْسِلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ: «أَنْ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ، فَقَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَسَلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ»

جب انہوں نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے ، اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے کہ ہم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا لباس بھی اتاریں گے جیسے ہم اپنی میتوں کا اتارتے ہیں ، یا انہیں کپڑوں سمیت غسل دیں گے؟ تو جب ان میں اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالى نے ان پہ نیند طاری کر دی، حتى کہ ہر شخص کی تھوڑی اسکے سینے سے جا لگی، پھر گھر کی ایک جانب سے کسی بات کرنے والے نے بات کی ، معلوم نہیں وہ کون تھا، ( اس نے کہا) نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں سمیت ہی غسل دو۔ تو وہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھے اور قمیص سمیت ہی آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا، وہ قمیص کے اوپر سے ہی پانی بہاتے تھےاور قمیص سے ہی آپکے جسد خاکی کو ملتے تھے۔

سنن أبی داود: 3141

البتہ شہید معرکہ کو غسل سے مستثنى قرار دیا گیا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے احد کےدن ارشاد فرمایا:

ادْفِنُوهُمْ فِي دِمَائِهِمْ

انہیں انکے خونوں سمیت ہی دفن کر دو۔

صحیح البخاری: 1346

یعنی شہدائے احد کو غسل دیے بغیر دفن کر دیا گیا۔یہ صرف شہید معرکہ کا خاصہ ہے کہ اسے غسل نہیں دیا جائے گا، بلکہ غسل کے بغیر ہی دفنا دیا جائے گا۔ شہید معرکہ کے سوا باقی ہر مسلمان کو غسل دینا اسکے آخری حقوق میں سے ایک حق ہے۔خواہ وہ مریض ہو، یا صحت مند۔

کرونا وائرس کا مریض اگرچہ ایسی بیماری کا شکار ہوتا ہے جو بہت تیزی سے ایک جسم سے دوسرے جسم تک ہلکے سے مس سے ہی منتقل ہو جاتی ہے۔ لیکن اسکے باوجود حفاظتی و احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اسکا علاج معالجہ کیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر ایسا مریض فوت ہو جائےتو اسے مکمل محتاط رہتے ہوئے ، احتیاطی تدابیر اختیار کرکے غسل دیا جائے گا۔ کیونکہ جس میت کا حق ہے کہ اسے غسل دیا جائے ، اگر اسے بناء غسل دفنا دیا جائے تو ایسا کرنے والے ایک فریضہ کو ترک کرنے کی وجہ سے شریعت کے مجرم قرار پاتے ہیں۔

بعض الناس کی طرف سے کرونا کے مریض کی میت کو تیمم کرانے کا فتوى جاری کیا گیا ہے، جو کہ نہایت سطحی اور احکام شریعت سے دور ہے۔ اور پھر جب تک غسل دینا ممکن ہے جو کہ اصل مطلوب شریعت ہے تب تک اسکے کسی بدل کی طرف جانے کی قطعا اجازت نہیں ہوتی۔ ہاں جب غسل دینا نا ممکن رہے تو پھر اس پہ بحث کی جاسکتی ہے کہ اب کیا کیا جائے۔ جبکہ امر واقع یہ ہے کہ کرونا کے مریض کو بعد از مرگ غسل دینا بالکل ویسے ہی ممکن ہے جیسا کہ اسکی زندگی میں اسکا علاج معالجہ ممکن ہے، بلکہ علاج معالجہ کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہے۔ لہذا ایسی میت کو تیمم کروانا یا بلا غسل دفنا دینا شریعت کے سراسر منافی ہے۔

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم

وصلى الله على نبينا محمد وآله وبارك وسلم

692 زائرین
مؤرخہ1-08-1441ھ بمطابق: 26-03-2020ء
4 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 1806
کل: 3405
موجودہ ہفتہ: 5230
ماہ رواں : 61378
امسال : 127111
آغاز سے: 292895
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 459
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 5
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :119802 ویں زائر ہیں
فی الحال 21حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :21
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator