أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

کورونا کے باعث گھروں میں باجماعت نماز

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
کورونا کے باعث گھروں میں باجماعت نماز

کورونا کے باعث گھروں میں باجماعت نماز

محمد رفیق طاہر عَفَا اللَّہ عنہ

باجماعت نماز کی فرضیت:

سیدنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

انْصَرَفْتُ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَنَا أَنَا وَصَاحِبٍ لِي: «أَذِّنَا، وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا»

میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس آیا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یعنی مجھے اور میرے ساتھی کو کہا’’تم دونوں اذان دو اور اقامت کہو، اور تم دونوں میں سے بڑا امامت کروائے‘‘۔

صحیح البخاري: 2848

یعنی دو افراد بھی ہوں تو اذان واقامت اور جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی ان پر فرض ہے۔ حتى کہ اگر کوئی شخص اکیلا ہی ہو، جہاں اور کوئی بندہ بشر نہ ہو، تو وہ اکیلا ہی اذان دے اور نماز قائم کرے تو اللہ تعالى اس پہ بہت خوش ہوتے ہیں ۔

سیدنا عُقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِجَبَلٍ، يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ، وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، يَخَافُ مِنِّي، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ

تمہارا رب بکریوں کے اس چرواہے پہ خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پہ ہوتا ہے، نماز کے لیے اذان دیتا ہے، اور نماز پڑھتا ہے، تو اللہ تعالى فرماتے ہیں ’’میرے اس بندے کو دیکھو جو اذان دیتا ہے، اور نماز قائم کرتا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے ضرور جنت میں داخل کروں گا۔

سنن أبي داود: 1203

مردوں پہ مسجد میں نماز پڑھنا فرض ہے:

اور نماز باجماعت کے لیے مسجد میں آنا مسلمان مرد پہ لازم ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ، فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ، فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان کا کہوں، پھر ایک آدمی کو کہوں وہ لوگوں کو امامت کروائے، پھر ان مردوں کا پیچھا کروں (جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے) اور ان سمیت انکے گھروں کو جلا ڈالوں

صحيح البخاري: 644

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مَنْ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ

جسے یہ پسند ہو کہ کل اللہ سےمسلمان ہو کر ملاقات کرے، تو اس پہ لازم ہے کہ ان نمازوں کی حفاظت کرے جہاں ان کے لیے اذان دی جاتی ہے، یقینا اللہ تعالى نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کےطریقے مشروع کیے ہیں، اور یہ بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ہے، اور اگر تم اپنے گھروں میں نماز ادا کرو گے جیسے یہ پیچھے رہنے والا ادا کرتا ہے ، تو تم اپنے نبی کے طریقے کو چھوڑ بیٹھو گے، اور اگر تم نے اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دیا تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔

مزید فرمایا:

وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ

اور بلا شبہ میں نے(رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں) اپنے(مسلمان) لوگوں کاحال دیکھا کہ اس (جماعت) سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہتا تھا، سوائے اس منافق کے، جس کا نفاق (سب کو) معلوم ہوتا، اور یقینا (مریض) آدمی کودو آدمیوں کے سہارے (مسجد میں) لایا جاتا حتى کہ صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔

صحیح مسلم: 654

عذر کی وجہ سے گھر میں نماز:

کسی شرعی عذر کی وجہ سے مسلمان مرد گھر میں نماز ادا کر سکتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُذْرٍ»

جس نے اذان سنی اور وہ نماز ادا کرنے کے لیے نہ آیا تو اسکی نماز نہیں ہے ،سوائے عذر کے۔

سنن ابن ماجہ: 793

یعنی عذر کی وجہ سے گھر میں نماز پڑھنے والے مرد کی نماز مقبول ہو گی، اور بلا عذر گھر میں پڑھنے والے مرد کی نماز گویا کالعدم ہے۔

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بھی مرض الموت میں جب مسجد جانے سے عاجز آگئے تو گھر میں ہی نماز ادا کرتے رہے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو امامت کروائیں، پھر جب آپ نے طبیعت میں کچھ ہلکاپن محسوس فرمایا تو مسجد میں گئے اور بیٹھ کر امامت کروائی، ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے تھے اور لوگ پیچھے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرتے تھے۔

صحيح البخاري: 664

نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بھی اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ مسلمان مرد کو مسجد میں جا کر نماز ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ، لیکن جب یہ ممکن نہ رہے تو گھر میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

گھر میں جماعت:

جیسا کہ سطور بالا میں واضح کیا جاچکا ہے کہ فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا مسلمان مردوں پہ لازم ہے،اور مسجد میں جانا بھی فرض ہے۔ حتى کہ اگر مسجد میں تاخیر سے پہنچے تب بھی کسی کو ساتھ ملا کر با جماعت نماز ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے، جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جماعت ہو جانے کے بعد اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا:

أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ

کیا کوئی آدمی ایسا نہیں جو اس پہ صدقہ کرے اور اسکے ساتھ نماز ادا کرے

تو ایک شخص اٹھا اور اسکے ساتھ باجماعت نماز ادا کی۔

سنن أبي داود: 574؛ جامع الترمذي: 220

دنیا کی موجودہ صورتِ حال میں جب کہ لوگوں کے لیے کورونا کی وجہ سےمسجد جانے پہ پابندی لگ چکی ہے، فریضہ جماعت اہل اسلام سے ساقط نہیں ہو جاتا، بلکہ اہل اسلام یہ فریضہ اپنے گھروں میں ادا کریں اپنےاہل وعیال سمیت با جماعت نماز کا اہتمام کریں۔

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نفل نماز کی جماعت گھر میں کروا لیا کرتے تھے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ أَوْكَأَ الْقِرْبَةَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ كَمَا تَوَضَّأَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي بِيَمِينِهِ فَأَدَارَنِي مِنْ وَرَائِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ

میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے ، مشکیزہ کھولا اور وضوء کیا، پھر مشیکزہ (کا منہ) باندھ دیا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ میں بھی اٹھا ، جیسے آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے وضوء فرمایا تھا ویسے ہی میں نے بھی وضوء کیا ، پھر میں آیا اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑا اور اپنے پیچھے سے گھما کر اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا، تو میں نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ۔

سنن أبي داود: 610

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میری دادی مُلَیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور انکی دعوت کی، تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا ، پھر فرمایا:

«قُومُوا فَلِأُصَلِّ لَكُمْ» قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا، قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفَفْتُ وَاليَتِيمَ وَرَاءَهُ، وَالعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ

آؤ ! میں تمہیں نماز پڑھا دوں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی ایک چٹائی کی طرف لپکا جو کثرت استعمال کی وجہ سے سیاہ ہو چکی تھی ، میں نے اس پہ پانی چھڑکا( تاکہ وہ کچھ نرم ہو جائے) ، تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور میں نے اور ایک بچے نے آپکے پیچھے صف بندی کی، اور بوڑھیا ہمارے پیچھے تھی، رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ہمیں پڑھائیں ، پھر چلے گئے۔

صحيح البخاري: 380

اگر گھر میں صرف ایک ہی مرد ہو اور باقی عورتیں ہوں تب بھی جماعت کروائی جاسکتی ہے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ يَعْنِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟»، قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي، قُلْنَ: إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا

سیدنا اُبَیّ بن کعب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم ! رات مجھ سے کچھ (نیا) کام سرزد ہوا ہے، یعنی رمضان میں، فرمایا: اُبَیّ! وہ کیا؟ عرض کیا میرے گھر میں عورتیں کہنے لگیں کہ ہم قرآن (زبانی زیادہ) نہیں پڑھ سکتیں، سو ہم تیری اقتداء میں نماز پڑھیں گی۔ تو میں نے انہیں آٹھ رکعت نماز (تروایح/ قیام رمضان) پڑھائی ، پھر وتر پڑھایا، (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں تو یہ (رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی) رضامندی کی طرح ہوگیا، اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے (اس پہ) کچھ نہیں کہا۔ (یعنی اسے جائز قرار دیا)۔

مسند أبي يعلى الموصلي: 1801

نتیجہ بحث:

مسلمان مرد پہ مسجد جانا اور باجماعت نماز ادا کرنا فرض ہے۔ البتہ جب مسجد جانا ناممکن ہو جائے تو وہ گھر پہ نماز ادا کرسکتا ہے۔ گھر میں اگر ممکن ہو تو فرض نماز اپنے اہل خانہ کے ساتھ با جماعت ادا کرے۔ کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے نوافل کی جماعت گھر میں ثابت ہے، کہ جنہیں باجماعت ادا کرنا فرض نہیں ہے، تو فرض نماز جسکی جماعت بھی فرض ہے، اسکی جماعت گھر میں کروانا بطریق اَولى درست ہے۔

اور اہل خانہ کے ساتھ جماعت کروانے کا طریقہ بھی مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہے کہ آدمی کے ساتھ ایک باشعور بچہ ہو تو وہ اسکے ساتھ اسکے بائیں جانب کھڑا ہوگا، اور عورتیں اور بچیاں پیچھے صف بنائیں گی، اور اگر دو مرد یا با شعور بچے ہوں تو وہ امام کے عین پیچھے کھڑے ہونگے اور عورتیں ان کے پیچھے صف بندی کریں گی۔ اگر صرف میاں بیوی ہی ہوں تو خاوند آگے کھڑا ہو کر امامت کروائے گا اور بیوی اسکے عین پیچھے کھڑی ہو کر اسکی اقتداء کرے گی۔

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم

وصلى الله على نبينا محمد وآله وبارك وسلم

470 زائرین
مؤرخہ3-08-1441ھ بمطابق: 28-03-2020ء
3 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 1776
کل: 3405
موجودہ ہفتہ: 5200
ماہ رواں : 61348
امسال : 127081
آغاز سے: 292865
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 459
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 5
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :119797 ویں زائر ہیں
فی الحال 22حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :22
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator