أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

میت کو جلانا

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
میت کو جلانا

میت کو جلانا

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

دفن کرنا ہی فطرت ہے:

اسلام دین فطرت ہے اور اس نے ہر میت کو خواہ مسلمان کی ہو یا غیر مسلم کی، دفنانے کا حکم دیا ہے۔ آدم کے دو بیٹوں کے واقعہ میں بھی یہی سبق ہے کہ جب ایک نے دوسرے کو قتل کیا تو قاتل اس میت کے بارہ میں پریشان ہوا کہ اسکا کیا کیا جائے؟:

فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ

تو اللہ تعالى نے ایک کوا بھیجا جو زمین کرید تا تھا، تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے۔

[سورة المائدة: 31]

یعنی اس کوئے کو زمین کُریدتے دیکھ کر اسے سمجھ آگیا کہ زمین کھود کر اسے چھپا دے۔ اور اللہ سبحانہ وتعالى نے زمین کو انسانوں کا مسکن بنایا ہے، خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ۔ زندوں کے لیے زمین کے اوپر اور فوت شدگان کے لیے زیر زمین۔

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا 26

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا، زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی۔

سورة المرسلات: 25,26

مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى

اسی سے ہم نے تمھیں پیدا کیا، اور اسی میں ہم تمھیں لوٹائیں گے، اور اسی سے ہم تمھیں دوسری مرتبہ نکالیں گے۔

سورة طه: 55

یعنی مرنے کے بعد کسی بھی انسان کے جسد خاکی کو سپردِخاک کرنا ہی قرآن مجید فرقان حمید کا منشا ہے۔ اور نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔

کافر میت کو بھی دفنایا جائے:

جب ابو طالب فوت ہوا، تو سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، قَالَ: «اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ، ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا، حَتَّى تَأْتِيَنِي» فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي

آپکا گمراہ چچا مرچکا ہے، تو نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جا اور اپنے والد کو دفنا دے، پھر میرے پاس آنے سے پہلے کچھ بھی نہ کرنا‘‘۔ کہتے ہیں: میں گیا اور اسے دفنا دیا اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ، تو میں نے غسل کیا، اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعاء فرمائی۔

سنن أبي داود: 3214

اسی طرح مقتولین بدر کو بھی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کنوئیں میں پھینکنے کا حکم دیا تھا۔

صحيح البخاري:3976

میت کو جلانے کی دلیل:

بعض لوگ میت کو جلانے کے جواز میں ایک صحیح حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَنَّ رَجُلًا كَانَ قَبْلَكُمْ، رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا، فَقَالَ لِبَنِيهِ لَمَّا حُضِرَ: أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرَ أَبٍ، قَالَ: فَإِنِّي لَمْ أَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ، فَإِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ ذَرُّونِي فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ، فَفَعَلُوا، فَجَمَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ؟ قَالَ: مَخَافَتُكَ، فَتَلَقَّاهُ بِرَحْمَتِهِ

تم سے پہلے ایک آدمی تھا، اللہ تعالى نے اسے خوب مال و دولت سے نوازا تھا، جب فوت ہونے لگا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: میں تمہارے لیے کیسا باپ تھا؟ تو انہوں نے کہا : بہترین باپ۔ اس نے کہا میں کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا، تو جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر مجھے نہایت باریک پیس دینا، پھر تیز ہوا والے دن مجھے اڑا دینا، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ عز وجل نے اسے جمع کیا اور پوچھا: ’’تجھے (یہ کام کرنے پہ) کس چیز نے ابھارا تھا؟‘‘ اس نے کہا: تیرے خوف نے، تو اللہ تعالى نے اس سے رحمت والا معاملہ فرمایا۔

صحيح بخاري:3478

اس روایت کو پیش کرکے یہ کہا جاتا ہے کہ اس شخص نے اپنی میت کو جلانے کی وصیت کی، اور ویسا ہی کیا گیا لیکن پھر بھی اللہ تعالى نے اسے معاف کر دیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کو جلا دینا بھی عند اللہ جائز ودرست ہے۔بلکہ ایسا کرنے سے انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالى رحمت والا معاملہ فرماتے ہیں۔ اور جس انسان کے گناہ معاف ہو جائیں اور اسے اللہ کی رحمت حاصل ہو جائے اسے اور کیا چاہیے؟!۔

اس دلیل کا محاکمہ:

اولاً...: یہ پہلی شریعت کی بات ہے، جو کہ ہمارے لیے دلیل نہیں بنتی۔ اہل اسلام پہ قرآن وسنت کی پابندی لازم ہے، اور قرآن وسنت میں دفن کرنے کا حکم آیا ہے جلانے کی اجازت نہیں۔ اور اللہ سبحانہ وتعالى کا فرمان ہے:

اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ

جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اسکی پیروی کرو، اور اسکے سوا دیگر اولیاء کی پیروی نہ کرو، تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو۔

سورة الأعراف: 3

اللہ کا حکم ہے کہ جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اسکی پیروی کرو، سابقہ شریعت کے وہ احکام جنہیں شریعت اسلامیہ نے منسوخ کر دیا، اور اسکی جگہ نیا حکم جاری کیا، اس میں سابقہ شریعت کی پیروی باتفاق امت جائز نہیں ہے۔ اور اس معاملہ میں تو ہماری شریعت کا واضح حکم موجود ہے کہ میت کو دفن کیا جائے۔

اور پھر اس شریعت میں بھی جلانے کا قانون نہیں تھا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اسے وصیت کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہ آتی ، اسکے بیٹے خود ہی یہ کام سرانجام دے لیتے۔

ثانیا...: اللہ تعالى نے اسے جلانے کی وجہ سے معاف نہیں کیا، بلکہ اسکی اس غلطی پہ اسکی باز پُرس کی گئی! ۔ گویا یہ اسکی غلطی تھی تبھی اس سے سوال ہوا کہ تو نے یہ کیوں کیا؟، کیونکہ نیکی وطاعت پہ یہ سوال نہیں کیا جاتا۔

ثالثا...: اسکی بخشش کی وجہ بھی حدیث میں ہی مذکور ہے کہ جب اس سے پوچھا گیا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا تو اس نے جواب دیا کہ اے اللہ ! تیری خشیت کی وجہ سے! جس پہ اللہ تعالى نے اسے معاف کر دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ واقعی اس نے میرے خوف سے یہ عمل کیا ہے۔ یعنی اسکی معافی جلانے والے عمل کی وجہ سے نہیں بلکہ خشیت کی وجہ سے ہوئی!۔ اور اسی خوف الہی میں اسے سمجھ ہی نہ آئی کہ وہ کیا کرے تو اس نے یہ غلط وصیت کردی اور اسکے بیٹوں نے اس وصیت پہ من وعن عمل کیا۔

رابعا...: اگر میت کو جلا دینے سے اسکی بخشش ہوجائے تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم جو اپنے چچا کے ایمان لانے پہ بہت حریص تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اسے دفنانے کے بجائے جلانے کا حکم دیتے، تاکہ اسکی بخشش ہو جائے، لیکن آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا ، بلکہ دفن کرنے کا ہی حکم دیا۔

یہ چاروں نکات ایک ہی نتیجہ دیتے ہیں کہ میت کو جلانا شریعت اسلامیہ میں جائز نہیں، بلکہ یہ احکام شریعت کے منافی ہے۔ بلکہ یہ زندہ کو جلانے کی طرح جرم عظیم ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا

میت کی ہڈی کو توڑنا اسکی زندگی میں اسے توڑنے کی طرح ہے۔

سنن أبی داود: 3207

گویا زندہ کی ہڈی توڑنا اور میت کی ہڈی توڑنا شریعت اسلامیہ میں برابر ہے۔ احترام آدمیت کا درس دین اسلام کا طرہ امتیاز ہے۔ مرنے کے بعد بھی شریعت نے انسانی جسم کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی۔ اسی طرح اگر کوئی میت کو جلاتا ہے تو وہ اسی اصول کے تحت زندہ کو جلانے کے برابر جرم کرنے کا مرتکب ٹھہرتا ہے۔ لہذا کسی طور پر بھی کسی بھی میت کو جلانے کا تصور اسلام میں نہیں پایا جاتا ۔

حالیہ دنوں میں کورونا کے سبب سے ہلاک ہونے والے افراد کے بارہ میں بعض متجددین ، منکرین حدیث کی طرف سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ کرونا کے شکار افراد کی میتوں کو جلانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔اور اسے مقاصد شریعت سے ہم آہنگ کرنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں۔ جو کہ شریعت اسلامیہ نہیں بلکہ ملحدین و اہل مغرب کے افکار سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ انکے نزدیک مرنے کے بعد انسانی جسم ایک فضول شے ہے، نہ اسکی کوئی کرامت وعزت ہے، اور نہ ہی اسکے کچھ حقوق، سو اسے جہاں مرضی پھینک دیا جائے، یا جلا دیا جائے، یا سمندر برد کر دیا جائے، اسکے جسم کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے لیبارٹریوں میں تختہ مشق بنایا جائے، اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ وہ آخرت کے منکرہیں۔

رہی یہ بات کہ کورونا ایک خطرناک او ر مہلک وائرس ہے، میت کو دفن کرنے والے بھی اسکا شکار ہوسکتے ہیں، تو یہ بالکل بے ڈھنگا اعتراض ہے۔ کیونکہ یہ مریض اس سے پہلے بہت سے مراحل سے گزر کرفوت ہوا ہے، جیسے اس سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اسکا علاج وغیرہ کیا گیا، کفن دفن بھی ویسے ہی ممکن ہے۔

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم

وصلى الله على نبينا محمد وآله وبارك وسلم

1184 زائرین
مؤرخہ3-08-1441ھ بمطابق: 28-03-2020ء
4 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 52
کل: 2762
موجودہ ہفتہ: 6105
ماہ رواں : 14408
امسال : 270929
آغاز سے: 437113
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 460
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 6
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :195889 ویں زائر ہیں
فی الحال 11حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :11
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator