أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

فہم سلف اور منہج سلف

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
فہم سلف اور منہج سلف

فہم سلف اور منہج سلف

محمد رفیق طاہر، عفى اللہ عنہ

کتاب وسنت کو منہج نبوی یا منہج سلف کے مطابق سمجھنے کا درس شروع اسلام سے ہی جاری ہے۔ لیکن متأخرین نے لفظ منہج کی جگہ لفظ فہم بولنا شروع کر دیا جسکے نتیجہ میں عصر حاضر کے وہ لوگ جنہیں اسکا علم نہیں تھا وہ لفظ فہم کے مدلول پہ ہی اڑ گئے اور یوں ایک تقلیدی منہج کی دعوت شروع ہوئی۔ اور پھر فہم سلف کی حجیت کی بحثوں کا آغاز ہوا۔ اسی معمہ کے حل کے لیے یہ چند سطور رقم کی ہیں۔ جنہیں بغور پڑھنے سے امید ہے کہ یہ مخمصہ حل ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ۔

کتاب وسنت کو سمجھنے کے لیے عصر حاضر میں لوگ فہم سلف کی قید لگانے لگے ہیں ۔ اور کچھ لوگ ہیں جو فہم سلف کی اس قسم کی پابندی کو ناجائز مانتے ہیں اس حوالہ سے ایک مختصر سی بات کہتا ہوں کہ سارے اختلافات اور لمبی چوڑی بحثیں اسی بات میں سمٹ کر رہ جائیں گی۔

وہ یہ کہ ہم لفظ فہم سلف کی بجائے لفظ منہج سلف اختیار کر لیں۔ اور اصلا بات منہج سلف کی شروع ہوئی تھی بعد میں متأخرین نے اسے فہم سلف سے تعبیر کرنا شروع کر دیا اور منہج و فہم کا فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے الجھاؤ کا شکار ہوئے۔

پھر

لفظ فہم کے بجائے لفظ منہج اختیار کرنے سے فائدہ یہ ہوگا کہ سلف صالحین کا منہج ایک ہی ہے ۔ اور وہ منہج کوئی مخترع نہیں بلکہ منہج نبوی ہی ہے۔ یاد رہے کہ یہاں منہج سے مراد فی الحال صرف منہج الأخذ والاستنباط ہے۔

اس منہج نبوی کو منہج سلف اس لیے کہا گیا کہ یہ واضح ہوسکے تمام تر اسلاف نے اسی منہج کو ہی نبوی منہج سمجھا ہے۔ وگرنہ اسے منہج نبوی کہنے میں کوئی خلش نہ تھی۔ گویا منہج سلف منہج نبوی ہی ہے۔ اخذ مسائل واحکام کا جو منہج نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنایا وہی منہج سلف صالحین نے بھی اپنایا۔ اور اسی منہج کو اختیار کرتے ہوئے سلف میں تَفاوُتِ علم، تَفاوُتِ ملکہِ اجتہاد و استنباط وغیرہ کی بناء پر اختلاف بھی ہوا۔ اور یہ اختلاف اس وقت تک مضر نہیں جب تک منہج اخذ ایک ہی رہے یعنی نبوی منہج یا منہج سلف!

اور اخذ واستنباط کے اس نبوی منہج کو سلف نے اپنی اپنی کتابوں میں ذکر فرمایا ہے اور ان کتب کو اصول فقہ کی کتابیں کہا جاتا ہے۔ جی ہاں ! اصول فقہ ہی سلف صالحین کا منہجِ اجتہاد یا منہجِ اَخذِ اَحکام ہے۔

بات لمبی ہو جائے گی، قصہ مختصر کہ جو شخص بھی نبوی منہج ،یعنی سلفی منہج، یعنی سلف کے بیان کردہ، یعنی کتاب وسنت سے اخذ کردہ اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اجتہاد کرے۔ اسکے لیے اجتہاد کے دروازے آج بھی کھلے ہیں اور ایسا شخص اخذِ مسائل میں سلَفی ہی کہلائے گا اور متبع ِمنہج ِسلف ہی کہلائے گا۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ قُدماء کو تقوى و زھد و للہیت واخلاص میں جو تَفَوُّق معاصرین پہ حاصل ہے اسی کی وجہ سے انکی قوت استدلال بھی یقینا ہم لوگوں سے کہیں بہتر ہے۔

لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آج کوئی ان سے اختلاف نہیں کر سکتا صرف اس لیے کہ وہ بعد میں آیا ہے۔ ایسا آج تک سلف میں سے بھی کسی نے نہیں کہا۔ بلکہ جس نے بھی اختلاف کیا اسے انہی اصولوں کی روشنی میں سمجھایا گیا،اسکی اصلاح کی گئی ،اسے کتاب وسنت کے دلائل سے قائل کیا گیا۔ کسی کو یہ نہیں کہا گیا کہ چونکہ تم نے جو بات کہی ہے آج سے پہلے کسی نے نہیں کہی لہذا تمہاری بات مردود ہے۔بلکہ اسے بتایا گیا کہ تمہارا طرز استدلال درست نہیں اور اس میں یہ غلطی ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے خوارج کے ساتھ مناظرہ کو ہی لیجئے ۔ انہوں نے خوارج کے اعتراضات کا جواب دینے سے قبل یہ ضرور کہا تھا کہ میں اصحاب نبی کی طرف سے آیا ہوں اور تم میں ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ لیکن! انکے اعتراضات کو یہ کہہ کر رد نہیں کیا کہ چونکہ تم صحابی نہیں لہذا صحابہ کی بات تم پر حجت ہے ۔ بلکہ انکے ہر اعتراض کا جواب قرآن کی آیت یا نبی کی سنت سے دیا۔

اسی طرح تابعین و تبع تابعین و ائمہ دین کو دیکھیے:

انہوں نے معتزلہ مرجئہ جہمیہ قدریہ جبریہ الغرض ہمہ قسم فتنوں کا رد کیا لیکن رد میں دلیل پیش کی ۔ امام بخاری رحمہ اللہ الباری کی الصحیح کا ہر ترجمۃ الباب کسی نہ کسی گمراہ فرقہ کا رد ہے۔ اور پھر اس کے ثبوت میں انہوں نے آیات و احادیث نقل کی ہیں، صرف سلف کا نعرہ نہیں لگایا۔

آج مسئلہ یہ ہے کہ متأخرین میں سے اکثر ایسی قوت استدلال اور ملکہ استحضار سے عاری ہیں۔ اہل باطل کی اقاویل و تأویلات کا رد کتاب وسنت سے تلاش کرنا انہیں مشکل بلکہ بعض کو تو ناممکن لگتا ہے۔ اسی پریشانی کے حل کے لیے انہوں نے یہ اصول گھڑ لیا کہ کسی بھی آیت یا حدیث سے صرف وہی بات مستنبط سمجھی جائے گی جو سلف میں سے کسی نے استنباط کی ہو۔ کوئی ایسا قول جو سلف نے نہ کہا ہو اسے رد کر دیا جائے گا۔ حالانکہ سلف نے جس طرح فرق باطلہ کا رد کتاب وسنت سے کیا آج بھی جدید فتنوں کا براہ راست کتاب وسنت سے ممکن ہے۔

اگر کوئی بھی شخص قرآن کی کسی بھی آیات سے غلط استنباط کرتا ہے تو میرا تو دعوى ہے کہ عمومًا قرآن کی وہی آیت اسکے غلط دعوى کا رد کر رہی ہوتی ہے ، یا پھر قرآن کی دیگر آیات یا احادیثِ صحیحہ سے اس دعوى کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ لیکن کوئی پکڑنے والا تو ہو!

اس لیے سلف کے اقوال کے بجائے سلف کے منہج اخذ واستنباط کو سیکھنے پر توجہ دیں اور فہم کے بجائے منہج کو بڑا کریں۔ اقوال یا فہم کی بات کریں گے تو مقلدین کے طرح پھنستے جائیں گے۔

منہج کی بات کریں گے تو یہ المحجۃ البیضاء ہے کہ لیلہا کنہارہا۔

یہ ایک نیا رجحان قائم کیا جا رہا ہے فہم سلف کا نام لے کر جس طر ح اہل تقلید نے قائم کیا تھا، اسی کو ہم فتنہ سے تعبیر کرتے ہیں ، تو احباب سیخ پا ہو جاتے ہیں ، اور ہمیں گستاخ سلف قرار دے دیا جاتا ہے ۔ جس طرح ہم نبی کو بشر کہتے ہیں تو بریلویہ ہمیں گستاخ رسول کہے بغیر سانس نہیں لیتے۔ ہم اولیاء کو خدائی یا نبوی درجہ دینے سے منع کرتے ہیں تو ہمیں اولیاء کا گستاخ کہا جاتا ہے اور منکر کہا جاتا ہے۔

ہاں ہم منکر ہیں نبی کو رب بنانے کے، ہاں ہم منکر ہیں صحابہ کو نبی کا درجہ دینے کے، ہاں ہم منکر ہیں اولیاء کو صفات الہیہ سے متصف کرنے کے، ہاں ہم منکر ہیں سلف کو نبوت کی مسند پہ بٹھانے کے، ہاں ہم منکر ہیں اقوال سلف کو وحی پر حاکم وقاضی بنانے کے، اور ایسے منکر ہونے پہ ہمیں فخر ہے۔

574 زائرین
مؤرخہ4-08-1441ھ بمطابق: 29-03-2020ء
3 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 1440
کل: 610
موجودہ ہفتہ: 8976
ماہ رواں : 4266
امسال : 409408
آغاز سے: 575767
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 460
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 6
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :284472 ویں زائر ہیں
فی الحال 24حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :24
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator