أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

تقلیدی سلفی چوں چوں کا مربہ

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
تقلیدی سلفی چوں چوں کا مربہ

تقلیدی سلفی چوں چوں کا مربہ

محمد رفیق طاہر، عفى اللہ عنہ

www.rafiqtahir.com

پہلی قسط:

انکے مذہب کی بنیاد تعطیل پر ہے ۔ جسکے نتیجہ میں انہوں نے بہت سے احکامات اسلام کو معطل کر دیا ہے۔

مثلا:

جہاد ۔: انکے ہاں جہاد معطل ہے،جب تک مسلمان کفار کے برابر یا ان سے زیادہ قوت حاصل نہیں کر لیتے ا سوقت تک وہ ان سے جہاد نہ کریں۔

انکے اس باطل نظریہ کے نتیجہ میں ،امام الأنبیاء جناب محمد مصطفى ﷺ کے تمام تر غزوات انکے مزعومہ ’’منہج سلف کےخلاف‘‘ قرار پاتے ہیں ۔ کیونکہ آپ ﷺ نے جتنے بھی غزوات کیے ان میں مسلمان نفری میں بھی کفار سے کم تھے اور آلات حرب وضرب میں بھی ۔

دعوت۔:

جی ہاں یہ دعوت کو بھی معطل کرنے کی بھرپور کوشش میں ہیں۔ اپنے مخصوص نظریات وعقائد کے سوا باقی ہمہ قسم دعوت الى اللہ کے راستہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس مشن کی تکمیل کے لیے انہوں نے علماء اہل السنہ سے لوگوں کو متنفر کرنے کا شیطانی حربہ استعمال کیا ہے۔ اور آئے دن علماء کے عیب تلاش کرتے اور پھر انہیں بدعتی ،قطبی، اخوانی، خارجی، جیسے القابات سے نوازتے، اور اپنی’’ بھیڑوں‘‘ کو ان سے علم لینے سے منع کرتے ہیں۔

اگر یہی منہج سلف ہوتا تو کتب ستہ سمیت تمام تر کتب احادیث کی بہت سی روایات کہیں کھو جاتیں!
کیونکہ
محدثین کرام نے بدعتیوں سے بھی علم لیا ہے،انکی روایات قبول کیں ،اور ان سے روایت لینے کے لیے انہوں نے کچھ شروط بھی مقرر کی ہیں (انہیں بیان کرنے کا یہ محل نہیں)۔ بخاری ومسلم میں ہی کئی ایک شیعہ،خوراج،معتزلہ، جہمیہ ،مرجئہ وغیرہ رواۃ کی مرویات موجود ہیں۔

اب مجھے ڈر ہے کہ کہیں کوئی ’’تقلیدی سلفی‘‘ میری یہ تحریر پڑھنے کے بعد ائمہ محدثین کو ہی’’بدعتی‘‘ نہ کہہ دے ۔ اور کتب احادیث پڑھنے سے نہ روک دے۔ کہ ان میں تو بدعتیوں سے بھی علم لیا گیا ہے۔ اور بدعتی سے علم لینا انکے مزعومہ ’’منہج سلف کے خلاف‘‘ ہے !

اسی ڈر سے ہی فی الحال بات یہیں روکتا ہوں ، باقی پھر سہی ...


دوسری قسط:

یہ علماء اور داعیان کے حق میں خارجی ہیں، حکام کے حق میں مرجئہ، دینی جماعتوں کے حق میں رافضی، اور یہود ونصارى سمیت تمام تر کفار کے حق میں قدریہ ہیں!

یہ تقلیدی سلفیوں کا گروہ ہے جس نے رد اور جرح کو ہی اپنا دین بنا لیا ہے، اور انکا منہج نیک لوگوں کے مثالب (عیب) جمع کرنا ہے۔ انہوں نے مختلف فرقوں کے شرکو اپنے اندر جمع کر لیا ہے۔

یہ علماء اور داعی حضرات کے لیے خارجی بنے بیٹھے ہیں ، انکی غلطیوں کے سبب انہیں اصل دین (اہل السنہ والجماعۃاور سلفیت) سے خارج قرار دیتے ہیں۔ طلباء کو ان سے علم حاصل کرنے سے روکتے ہیں، ان کی عزت وناموس سے کھیلنا اپنے لیے حلال سمجھتے ہیں۔اصل خوارج تو مسلمانوں کو کافر قرار دے کر انہیں جان سے مارتے ہیں ، لیکن یہ علماء کو سلفیت سے خارج قرار دے کر جیتے جی مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جبکہ حکام کے لیے انکا رویہ بالکل برعکس ہے۔ انکے حق میں یہ لوگ مرجئہ ثابت ہوئے ہیں۔ حکام کا زبانی اسلام ہی انکے لیے کافی ہے، انکے نزدیک حکام کے لیے عمل مسمى ایمان سے خارج ہیں!

جن باتوں کی وجہ سے علماء کو سلفیت سے خارج کہتے اور اہل السنہ سے نکال باہر کرتے ہیں، وہی غلطی اگر حکام کریں تو انکے لیے کھلی چھوٹ ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کہ حکام کفر بواح کا ارتکاب بھی کر لیں، تو بھی وہ اہل السنہ میں شامل، سلفیت میں داخل، اور واجبِ اطاعت ہیں۔ بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے.... کافر حکام جو اصلا کافر ہیں، یہ انہیں بھی خلیفۃ المسلمین کا درجہ دیتے ہیں۔ اسکی دلیل برطانیہ وامریکہ کے ’’تقلیدی سلفی‘‘ اور انکا وہاں کی حکومتوں سے تعامل ہے۔

دینی جماعتوں کے ساتھ انہوں نے رافضیوں والا رویہ اپنا رکھا ہے۔ رافضیوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اپنے تئیں غلطیاں تلاش کیں، اور پھر تمام تر صحابہ پر ان کے ارتکاب کا الزام دھر دیا۔ بالکل اسی طرح انہوں نے علمائے اہل سنت کی لغزشوں کو جمع کیا اور تمام تر دینی جماعتوں کو الزام دے دیا کہ سبھی ایسے ہیں۔ سو اب انکے نزدیک کسی اجتماعی کام کے لیے ایک منظم ادارہ یا جماعت بنانا کفر ٹھہرا ہے۔

اور کفار، یہود ونصاری کے لیے یہ ’’تقلیدی‘‘ قدریہ اور جبریہ بن بیٹھے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ان کافروں سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں، اور مسلمانوں کے پاس ان کے حملوں کو روکنے کی طاقت نہیں۔ اور ہر تحریک اور جہاد جو مسلمانوں کو کفار کے چُنگل سے چھڑانے کے لیے ہو، سب ناجائز ہیں۔ اس وقت تک جہاد نہیں جب تک حکام خود میدان میں نہ کودیں!

حالانکہ ان بیچاروں کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ دنیا بھر میں جہاں سلفی منہج کے مطابق جہاد ہو رہا ہے ، درونِ خانہ مسلمان حکومتیں انکی سرپرستی کر رہی ہیں، لیکن ’’الحرب خدعۃ‘‘ کے اصول کو اپناتے ہوئے، مسلم حکام على الاعلان اسے تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ جہاد حکمت و دانائی سے ہوتا ہے، جنون اور بیوقوفی سے نہیں!

کون نہیں جانتا کہ جہاد ِکشمیر کی پشتیبان پاکستانی حکومت اور ایجنسیاں ہیں، شام میں سعودی حکومت مجاہدین کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ لیکن ساری دنیا چیختی اور چلاتی ہے کہ یہ مسلمان حکومتیں مجاہدین تیار کر رہی ہیں مگر حکومتیں سرکاری طور پر اپنے کیے کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں۔ اور یہ انکی حکمت عملی ہے۔

پھر یہ حکمت عملی صرف جہادی تنظیموں کے ساتھ ہی نہیں ، بلکہ دنیا بھر میں مسلمان ہوں یا کفار، ہر ملک اپنے دفاع کے لیے جاسوس تیار کرتا ہے،اور انہیں اپنے دوست اور دشمن ملکوں میں بھیجتا ہے، لیکن کبھی تسلیم نہیں کیا جاتا کہ ہم نے تمہارے ملک میں اپنے جاسوس اور ایجنٹ بھیجے ہیں۔ یہ عسکری حکمت عملی ہے، جسے کند ذہن ’’تقلیدی سلفی‘‘سمجھنے سے قاصر ہیں۔

433 زائرین
مؤرخہ4-08-1441ھ بمطابق: 29-03-2020ء
3 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 357
کل: 2762
موجودہ ہفتہ: 6408
ماہ رواں : 14713
امسال : 271232
آغاز سے: 437419
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 460
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 6
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :196017 ویں زائر ہیں
فی الحال 16حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :16
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator