أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

یونانی فکر و فلسفہ کے اصول و اثرات

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
یونانی فکر و فلسفہ کے اصول و اثرات

یونانی فکر و فلسفہ کے اصول واثرات

محمد رفیق طاہر، عفى اللہ عنہ

www.rafiqtahir.com

یونان کا محل وقوع 20-25 درجہ مشرقی طول بلد اور 35-45 درجہ شمالی عرض بلد ہے۔ اسکے مشرق میں بحر ایجہ ہے اور بحر ایجہ کے مشرقی ساحل پر ترکی ہے۔ اسکے شمال مشرق میں بلغاریہ، شمال مغرب میں البانیہ اور درمیان میں یوگوسلاویہ ہے۔ جنوب کی طرف بحر متوسط ہے اور مغرب کی جانب بحر ایونی ہے، اور اسی سمندر کے مغربی ساحل پر اٹلی ہے۔ یونان کا دار السلطنت ایتھنز ہے جسے عربی میں أثینا کہتے ہیں۔

یہ علاقہ زمانہ قدیم سے ہی علم وحکمت کا گہوارہ تھا۔ یہاں تقریبا 400-580 قبل مسیح ’’فیثاغورث‘‘ سے اس علم کا آغاز ہوا ۔ کہاجاتا ہے کہ یہ آواگون یعنی تناسخ ارواح کا قائل تھا۔ علامہ شہرستانی کےبقول یہ سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں تھا اور انہی سے حکمت حاصل کی۔ ’’سقراط ‘‘ (399-469 ق م) اسکا شاگرد تھا اور یہ الہیات اور اخلاقیات کے بارہ میں بحث کرتا اور زیادہ ترریاضت میں مشغول رہتا اور زاہدانہ زندگی گزارتا۔’’افلاطون‘‘ (347-427 ق م) سقراط کا شاگرد تھا ، جسے اساطین متقدمین کی آخری کڑی سمجھا جاتا ہے۔اسکے بعد اسکے شاگرد ’’ارسطو‘‘ (322-384 ق م) -جسے ’’ارسطاطالیس‘‘ بھی کہا جاتا ہے- نے حکمائے متقدمین کے کلام سے استنباط کرکے علم منطق مرتب کیا، اسی بناء پر اسے ’’معلم اول‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ’’سکندر اعظم‘‘ کا استاذ بھی ہے۔ اسکا جانشین اسکا بھتیجا’’ثاؤفراسطوس‘‘ بنا ، جسکی محنت سے ’مشائیہ‘ کی حکمت کو فروغ ملا۔ اسی طرح یونان کا ایک اور مشہور حکیم ’’مُقراطیس‘‘ (370-460 ق م) ہے۔ اسی نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اجسام عنصریہ ایک ہی ماہیت کے چھوٹے چھوٹے ذرات سے مرکب ہیں، جو حواس ظاہرہ سے محسوس نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی انہیں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہمیشہ متحرک رہتے ہیں اور ایکدوسرے سے چپکے رہتے ہیں، انہی کے مجموعہ سے اجسام کی ہیئت کذائی وجود میں آتی ہے۔ انہیں ہی متکلمین اجزائے لا تتجزى کہتے ہیں البتہ وہ انکی فناء کے قائل ہیں۔ اس نظریہ کو ’’فلسفہ ذری‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ’’بقراط‘‘ جو کہ علم طب کا واضع ہے ، یہ بھی یونان کے جزیرہ کوس میں پیدا ہوا تھا۔

یونان سے علم وحکمت کے اس تعلق کی بناء پر اس علم کو فلسفہ یونان یا حکمت یونان کہا جاتا ہے۔

فلسفہ: یونانی زبانی کا لفظ ہے، اسکا معنى ہے علم وحکمت۔ یہ ’’فیلا‘‘ اور ’’سوفا‘‘ کا مرکب ہے۔ ’فیلا‘ کا معنى ہے ترجیح دینا، محبت کرنا۔ اور ’سوفا‘ کا معنى ہے علم و دانش کی باتیں۔

لفظ ’فلسفہ‘ پہلے مفید اور حقیقی علم کے معنوں میں مستعمل تھا، پھر ’علم وحی کے مقابل‘ استعمال ہونے لگا۔ یعنی غور وفکر کے ذریعہ اشیاء کی حقیقت تک پہنچنا ’فلسفہ‘ کہلایا۔ اور اب یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے مثلا:

۱۔ کسی کا نقطہ نظر اور عقیدہ، جیسے کہا جاتا ہے ڈارون کا فلسفہ ۔

۲۔ کسی چیز کی حقیقت جاننے کے لیے منطقی انداز میں گفتگوکرنا۔

۳۔ کسی بھی فن کو منظم شکل اور عقلی انداز میں پیش کرنا۔

۴۔ منطق، اخلاق، جمالیات، اور ماورائے طبعیت علوم ۔

۵۔ منقولات کی وجوہ عقلیہ بیان کرنا۔ (شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کو حکیم الاسلام اسی معنى میں کہا جاتا ہے)

گویا اب لفظ ’’فلسفہ‘‘ حکمت یونان کے لیے خاص نہیں ۔ البتہ جب مطلق طور پہ بولا جائے تو اس سے فلسفہء یونان ہی مراد ہوتا ہے۔

انگریزی میں اسکے لیے لفظ ’’فلاسفی‘‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ’’فلسفی، فلاسفر، فیلسوف‘‘ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو علوم عقلیہ کا ذوق رکھے۔

فلاسفہ کے مکاتب فکر:

فلسفہء یونان کے دو بنیادی مکاتب فکر ہیں:

۱۔ مشّائیہ ۲۔ اشراقیہ

مشائیہ: یہ لوگ غور وفکر اور استدلال وبراہین پہ اعتماد کرتے ہیں۔ اور مسائل عقلیہ کو دلائل سے ثابت کرتے ہیں۔ ابو نصر محمد الفارابی (260ھ – 339ھ) اور ابن سینا ، ابو علی حسین بن عبد اللہ (370ھ – 428ھ) اسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ فارابی کو معلم ثانی کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے ارسطو کے کتب منطقیہ کی شرح کی ہے اور تقریبا سو کتب کا مصنف ہے۔ اسی طرح ابن سینا بھی تقریبا ایک صد کتب کا مصنف ہے جن میں سے طب میں ’’القانون‘‘، فلسفہ میں ’’الشفاء‘‘، اور علوم عقلیہ میں ’’الاشارات‘‘ زیادہ معروف ہیں۔

متکلمین: یہ در اصل مسلمان مشائیین ہیں، یعنی یہ بھی غور وفکر اور استدلال و براہین پہ اعتماد کرتے ہیں صرف فلسفہ کو ’’مسلمان کرکے‘‘ یا مسلمان کرنے کی کوشش کرکے یہ متکلمین کہلائے۔ غزالی، ابو حامد محمد بن محمد طوسی (450ھ – 505ھ) اور رازی، فخر الدین محمد بن عمر(544ھ – 606ھ) معروف متکلمین ہیں۔ غزالی کی کتاب ’’احیاء علوم الدین‘‘ اور رازی کی ’’تفسیر کبیر‘‘ بہت معروف ہیں ۔ انکے علاوہ بھی دونوں کئی کتب کے مصنف ہیں ۔ اور دونوں ہی بالترتیب ایران کے شہروں ’طوس‘ اور ’ری‘ سے تعلق رکھتے تھے۔

اشراقیہ: فلسفہء یونان کا ایک مکتب فکر جس کا بانی افلاطون تھا اسکے ماننے والے اشراقیہ کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ مسائل عقلیہ کے حل میں بھی باطن کی صفائی اور اشراق نوری پر اعتماد کرتےہیں۔ شہاب الدین سہروردی (549ھ – 587ھ) کا تعلق اسی مکتب فکر سے تھا۔ اس نے ’حکمۃ الاشراق‘، ’ہیاکل النور‘ جیسی کتب تصنیف کیں۔ اسکا تعلق ایران کے شہر ’’سہرورد‘‘ سے تھا۔

صوفیاء: اشراقیہ ہی کی مذہب کا کچھ رنگ چڑھی شکل ’’تصوف‘‘ ہے!۔یعنی وہی اشراقیہ کا انداز بس اس پہ مذہب کا لبادہ اوڑھا دیا گیا۔

سفسطہ: فلسفہ کے ساتھ ملتا جلتا ایک لفظ ’’سفسطہ‘‘ ہے۔ یہ بھی حکمائے یونان کی ایک جماعت ’’سوفسطائیہ‘‘ کا علم ہے۔ یہ لوگ فصاحت وبلاغت کے دلدادہ اور موجودات کی حقیقت تک رسائی کے منکر تھے۔ انہیں ’’سوفسطائی‘‘ کہا جاتا ہے۔

’’سفسطہ‘‘ کا لفظ ’’سوفا‘‘ اور ’’اسطا‘‘ کا مرکب ہے۔ ’سوفا‘ کا معنى حکمت و دانائی اور ’اسطا‘ کا معنى دھوکہ دہی۔ تو ’سفسطہ‘ کا معنى ہوا ’’حکمت کے نام پہ دھوکہ‘‘۔ ’سفسطہ‘ کو حکمتِ باطلہ یا حکمت زائغہ بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ اس میں گفتگو اور استدلال میں مخاطب کو جھانسا دیا جاتا ہے۔ اور وہمی مقدمات سے ایسا قیاس بنایا جاتا ہے جس سے مخاطب کو غلطی میں ڈالنا اور خاموش کرانا مقصود ہوتا ہے۔

ان کے تین گروہ ہیں:

۱۔ عنادیہ ۲۔ عندیہ ۳۔ لاادریہ

عنادیہ: سرے سے ہی حقائق اشیاء کے منکر ہیں۔ یہ تمام تر موجودات خارجیہ کو نقش برآب کی طرح اوہام وخیالات قرار دیتے ہیں کہ نفس الامر میں انکی کوئی حقیقت نہیں۔

عندیہ: انکا نام ’’عندی کذا‘‘ سے مأخوذ ہے۔ یہ حقائق اشیاء کو اعتقاد کے تابع مانتے ہیں۔ مثلا کسی شے کو جوہر مان لیا تو وہ جوہر ہے، عرض مان لیا جائے تو وہ عرض ہے، قدیم مان لیا جائے تو قدیم ، حادث مان لیا جائے تو حادث... الخ

لا ادریہ: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تو حقائق اشیاء کے ثبوت کو جانتے ہیں نہ ہی لا ثبوت کو۔ ہر سوال کے جواب میں ’’لا أدری‘‘ کہتے ہیں۔ انہیں ہر شے میں شک ہے، حتى کہ شک میں بھی شک! اس بناء پر انہیں ’’شاکہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اثرات:

جب فلسفہ کا عربی میں ترجمہ ہوا تو اسکے طرز بیان واستدلال، اور دلائل عقلیہ سے اثبات توحید نے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ اور کچھ لوگ یونانی حکمت سیکھنے سکھانے لگے۔ لیکن اس نے اسلامی نظریات پہ برے اثرات مرتب کیے کہ لوگوں نے فلسفہ یونان کو نصوص شرعیہ پہ فوقیت دینا شروع کر دی، اور جو نصوص فلسفہ کے مخالف محسوس ہوئیں انہیں نظر انداز یا باطل تاویلات کرنا شروع ہوگئے، جس کے نتیجہ میں گمراہ فرقوں کا ظہور شروع ہوا اور دن بدن ان میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔

علمائے اسلام نے جب اسے محسوس کیا تو انہوں نے حکمائے مشّائیہ کے اصولوں اور نظریات کی کتاب وسنت کے دلائل سے تردید شروع کی، اور عقائد اسلامیہ کو اس انداز سے مدون کیا کہ اس سے مشّائیین کے نظریات کا ابطال ہوگیا۔

لیکن اسکے ساتھ ساتھ کچھ علماء نے فلاسفہ کے نظریات کے تردید کے لیے فلسفہ کا ہی استعمال کیا اور اہل فلسفہ کو عقل کے بجائے وحی کا پابند کرنے کی ٹھان لی۔ مگر ان میں سے اکثر خود بھی صراط مستقیم پہ پوری طرح قائم نہ رہ سکے ، اور فلسفہ کی رو میں بہہ گئے، جیسا ابو حامد غزالی کے ساتھ ہوا۔ بہت کم ایسے تھے جو فلسفہ کے ماہر بھی بنے اور اسکے اثرات بد سے بچے بھی رہے جن میں امام ابن تیمیہ کا نام سب سے معروف ہے۔ہمارے دادا استاذ حافظ محمد گوندلوی بھی ان علماء میں شامل ہیں جنہوں نے فلسفہ کے سفسطہ کو طشت از بام بھی اور اپنا دامن بھی بچا لے گئے۔

جدید سائنس بھی در حقیقت قدیم حکمت یونان ہی ہے، جو وحی کے مقابلہ میں ہے، اور عقل ہی پہ اعتماد کرکے موجودات اور حقائق اشیاء کا اقرار یا انکار کرتی ہے۔ اور انسان کے پاس حصول علم کے تین بنیادی ذرائع ہیں:

۱۔ حواس ۲۔ معلومات پہ غور ۳۔ وحی

فلسفہ و سائنس میں’’وحی الہی‘‘ کا انکار ہے، کیونکہ یہ ما ورائے عقل ہے، اور جو انکی عقل میں نہ آئے وہ شے انکے ہاں معدوم ہے۔ یہ علم کے پہلے ذریعہ’’حواس‘‘ کو اصل مانتے ہیں جو چیز حواس سے محسوس کی جاسکے خواہ ظاہرِ حواس خمسہ سے یا محض تخیل یا توہم یا صرف تعقل ہی ، تو یہ انکے ہاں اصل علم ہے۔ اور پھر حواس سے حاصل ہونے والی معلومات پہ غور وفکر اور تجربات کے نتیجہ میں جو حاصل ہو جائے وہ بھی انکے نزدیک علم کہلاتا ہے۔ اب چونکہ ذات باری تعالى کو نہ تو حواس سے محسوس کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی خدا بننے کا تجربہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح نبوت بھی وہبی شے ہے یہ بھی تجربہ سے حاصل نہیں ہوسکتی ، سوانہوں نے مغیبات کا انکار کر دیا۔

اور جو مسلمان ’اشراقیہ‘ کا طرز اختیار کرکے صوفیاء کہلائے انہوں نے’’کشف والہام‘‘ کے نام پر نبوت پہ ہاتھ صاف کیے اور کبھی ’’انا الحق‘‘ کا نعرہ لگا کر تو کبھی ’’خدا بننے کا گُر‘‘ سکھا کر’’خدا‘‘ بننے کے تجربات کیے!

اشاعرہ ماتریدیہ ہوں یا معتزلہ و خوارج و شیعہ وغیرہ، سبھی وحی الہی کی غیر مشروط اطاعت چھوڑ کر اور اسی فلسفیانہ عقل پرستی کا شکار ہوکر گمراہ ہوئے ہیں۔اور عصر حاضر میں ’’وحید الدین خان‘‘ اور ’’جاوید احمد غامدی‘‘ اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔

ہمارے نونہال جب اسکول و کالج میں سائنس پڑھتے ہیں اور علوم دینیہ میں ناپختہ ہونے کی وجہ سے وحی کے بجائے سائنس پہ انکا اعتماد بڑھتا چلا جاتا ہے تو وہ بہت جلد ’’دہریت‘‘ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حتى کہ نصوص وحی میں نکتہ چینی انکے لیے روا ہوتی ہے جبکہ سائنس وفلسفہ کے ناپیدار نظریات ’’محکم‘‘ ہوتے ہیں، جبکہ حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ علوم وحی میں نئی نسل کو پختہ کیا جائے، اور مغیبات پہ انکا ایمان مضبوط کیا جائے۔ اور فلسفہ کا رد فلسفہ سے کرنے کی بجائےوحی الہی سے کیا جائے، تاکہ سائنس و فلسفہ کے مقابل وحی الہی کی حیثیت و اہمیت انکے قلوب واذہان میں راسخ ہو۔

اور یہ کام کرنے کے لیے علماء کرام کو اجتہاد واستنباط کی مشق مسلسل کرتے رہنا چا ہیے تاکہ ملکہ استنباط پیدا ہو اور سلف صالحین کی طرح براہ راست وحی الہی سے مسائل اخذ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔

512 زائرین
مؤرخہ7-08-1441ھ بمطابق: 1-04-2020ء
2 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 1783
کل: 3405
موجودہ ہفتہ: 5207
ماہ رواں : 61355
امسال : 127088
آغاز سے: 292872
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 459
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 5
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :119797 ویں زائر ہیں
فی الحال 18حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :18
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator