أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے

آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے!

محمد رفیق طاہر، عفى اللہ عنہ

www.rafiqtahir.com

ہم نے ایک مضمون بعنوان ’’کورونا کے باعث گھر میں جمعہ‘‘ تحریر کیا ، جس میں کرونا کے باعث دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں جمعہ پڑھنے کا جواز ثابت کیا گیا۔ اس پہ کچھ ’’منچلوں‘‘ کی طرف سے سطحی قسم کے اعتراضات وارد کیے گئے، اور تلبیسات و دجل وفریب سے نصوص شریعت کا مفہوم بدلنے کی سعی لاحاصل کی گئی، اور مجھ پہ ’’حدیث نبوی کو غلط رنگ دینے کا بہتان‘‘ لگایا گیا،جس پہ میں نے ایک اور تحریر بعنوان ’’جوابِ آں غزل‘‘ لکھی جس میں انکی تلبیسات ومغالطات کے پول کھولے، اور آئینہ دکھایا کہ غلط رنگ کس نے دیا ہے۔ لیکن موصوف سیخ پا ہوگئے۔

ع..... آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے

چاہیے تو یہ تھا کہ موصوف اپنی غلطی تسلیم کرتے، اور افتراء پردازی سے توبہ کرتے ہوئے، اپنی اصلاح فرما لیتے۔ لیکن بقول اقبال:

نہ ہو طبیعت ہی جن کی قابل، وہ تربیت سے نہیں سنورتے

ہُوا نہ سرسبز رہ کے پانی میں، عکس سروِ کنارِ جُو کا

موصوف سے کوئی جواب تو نہ بن پڑا، اوچھے ہتھکنڈوں پہ اتر آئے، اور جتنی ’’مہذب گالیاں‘‘ انکے حافظہ میں تھیں، سبھی مجھ پہ ’’نچھاور‘‘ کر دیں۔لیکن ہم ہیں کہ گالیوں کی برسات میں بھی خوش ،اور زبانِ حال سے کہنے والےکہ:

کتنے شیریں ہیں تیرے لب، کہ رقیب

گالیاں کھاکے بے مزہ نہ ہوا

بلکہ اپنے ممدوح کی ’’صفات جمیلہ‘‘ سے آشنا ہونے کے باعث انکی یہ کرم فرمائی مبنی بر بخل محسوس ہو رہی ہے سو عرض ہے کہ

درد اور عطا ہو کہ تیر درد نواز

یہ سخاوت تیرے معیار سے کم جانتے ہیں

اور آپ اگر ہمارا’’ذکر خیر‘‘ اپنے پسندیدہ الفاظ سے کرتے ہیں تو ہمیں تب بھی خوشی ہوتی ہے کیونکہ بقول شاعر:

إن ساءني ذكراكِ لي بمساءة

فقد سرني أني خطرت ببالكِ

اور بقول دیگر:

گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے بایں ہمہ

ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے، کہ اس محفل میں ہے!

چونکہ ہمارے ممدوح نے آخر اپنی ’’بھیڑوں‘‘ کو بھی مطمئن کرنا تھا، تو انہوں نے معرکہ سر کرنے کے لیے کہیں سے ’’وحید عبد السلام بالی‘‘ کا کوئی فتوى تلاش کر لیا، اور یہ مفروضہ قائم کر لیا کہ ہم نے انکے فتوے کی کاپی کی ہے، کیونکہ انہوں نے بھی ایسے حالات میں گھروں میں جمعہ پڑھنے کی جواز کی بات کہی ہے۔ اب چونکہ ’’وحید عبد السلام بالی‘‘ صاحب پہ ’’اخوانی، قطبی‘‘ کا ٹھپہ بہت پکا کرکے وہ لوگ لگا چکے ہیں، سو ’’بالی‘‘ صاحب کے ساتھ مجھے ملا کر کہہ دیا گیا کہ یہ بھی اخوانی اور خارجی فکر کے ہیں۔ حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے اخوانیت اور خارجیت کا جتنا رد کیا ہے، اس کا عشر عشیر بھی موصوف نے نہیں کیا۔ بلکہ اردو زبان میں ’’تکفیر معین‘‘، ’’علامات خوارج‘‘،’’خودکُش دھماکوں‘‘، ’’مسئلہ تحکیم‘‘ اور ان جیسے اہم موضوعات پہ سب سے پہلے میں نے ہی دروس دیے، اور تحریریں لکھیں۔جس وقت انٹرنیٹ پہ اردو میں ان موضوعات پہ کوئی مواد نہ تھا، تب میری یہ تحریریں مختلف فورمز اور ویبسائٹس پر موجود تھیں۔ اور اس بات کا اعتراف ان لوگوں کو بھی ہے جنہوں نے من حیث الجماعت اس فتنہ کا سب سے زیادہ رد کیا ہے۔لیکن ہمارے ممدوح کو چونکہ محض تقلید کرنی ہے، اور وہ بھی تعصب سے بھرپور، سو اپنے موقف کے خلاف کسی بھی موقف کو خوارج سے جوڑنے کی وہ بھرپور کوشش فرماتے ہیں، اور یہاں بھی انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، بس ’’بالی‘‘ صاحب کا فتوى نظر آتے ہی یہی کام کر دیا۔ حالانکہ موصوف اگر کبھی علم کی ’’ع‘‘ کے سرے سے بھی آشنا ہوتے، اور اہل علم کے کلام سے کچھ آشنائی انہیں ہوتی تو معلوم ہو جاتا کہ

نہ تنہا من دریں میخانہ مستم

جنید وشبلی وعطار ہم شد مست

اہل علم کے مابین یہ اختلاف کوئی نیا نہیں ہے، بلکہ قدیم ہے۔ جیسا کہ میں نےا پنے پہلے مضمون میں نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے دوران سفر نماز جمعہ قائم کرنے کی روایت ذکر کرکے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا عمل نقل کیااور واضح کیا تھا کہ اس بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی بھی انکا مخالف نہیں تھا، بلکہ انکی تائید میں دیگر صحابہ کے اقوال بھی ملتے ہیں۔ پھر اسکے بعد کے ادوار میں اختلاف شروع ہوا ، اور اس اختلاف کی وجہ میں نے اپنے دوسرے مضمون میں اشارۃً بتائی تھی، کہ اس کا اصل سبب بعض لوگوں کی طرف سے جمعہ کے لیے خود ساختہ شرطیں لگانا ہے ، جو کتاب وسنت میں نہیں ہیں۔ جن میں سے ’’مصرِ جامع ‘‘ کی شرط، ’’مسجد‘‘ بلکہ ’’جامع مسجد‘‘ کی شرط، ’’اِذنِ امام‘‘ اور ’’حاضرین کی مخصوص تعداد‘‘ کی شرط زیادہ معروف ہیں۔ اور اہل الحدیث میں یہ بات مسلمہ ہے کہ جو شرط کتاب وسنت میں نہ ہو، کسی بھی شرعی حکم کو اس سے مشروط کرنا حرام ہے!، اور ایسی شرط باطل ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ ذی شان ہے:

مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ

لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں !، جس نے بھی کوئی بھی ایسی شرط رکھی جو کتاب اللہ میں نہ ہو، تو وہ باطل ہے، خواہ وہ سو (100) شرطیں رکھ لے۔ اللہ کی شرط ہی سب سے زیادہ برحق اور مضبوط ہے۔

صحيح البخاري: 2155

اسی بنیاد پر اہل الحدیث کے سلف و خلف نے ایسی تمام تر شرطوں کو رد کر دیا جو کتاب وسنت سے میل نہیں رکھتی تھیں۔اور جمعہ قائم کرنے کے لیے لگائی جانے والی شرطیں بھی اسی قبیل سے ہیں کہ جن پہ کتاب وسنت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ممدوح اپنے موقف کی تائید میں نہ تو قرآن کی کوئی آیت پیش کر سکے، نہ ہی حدیث رسول مقبول صلى اللہ علیہ وسلم لا سکے، اور نہ ہی انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کا قول اپنے موقف کی تایید میں دستیاب ہو سکا۔ہاں بعض مفتیوں کے فتوے، اور اجماع کے بے بنیاد و غیر محل دعوے ضرور انہیں میسر آئے۔بھلا امتیوں اور مخلوق کا قول وعمل ، خالق کائنات اور نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مقابل پیش کیا جاسکتا ہے؟؟؟

چہ نسبت خاک را باعالم ِ پاک...!

وحی الہی کی غیر مشروط اتباع ہی نجات کا راستہ ہے، اور اسے سلف وخلف میں سے کسی کی بھی توجیہات کا پابند بنا دینا، سراسر جہالت اور گمراہی ہے۔

خیر... موصوف کے لیے اطلاعاً عرض ہےکہ تقلیدی مذاہب جب اپنی اپنی من چاہی شروط سے اقامتِ جمعہ کو مشروط کرکے چند مخصوص مساجد کے سوا باقی ہر جگہ جمعہ کو معطل کر رہے تھے، عین اسی وقت ان تمام تر شرطوں کو جوتے کی نوک پہ رکھنے والے بھی موجود تھے۔برا ہو تعصب بھری تقلید کا، کہ اس نے حقائق کو مسخ کرنے میں اپنا پورا زور صرف کیا ہے۔ محدثین کی ایک بڑی جماعت ہر اس جگہ جہاں دو یا زائد مسلمان جمع ہوں، جمعہ کو جائز سمجھنے والی ہر دور میں موجود رہی ہے۔ اور اگر فقہی مذاہب کی بات کریں تو اہل ظاہر نے کبھی بھی ان خود ساختہ شرطوں کو تسلیم نہیں کیا۔بلکہ انہوں نے تو اقامت جماعت اور اقامت جمعہ کے لیے ایک ہی شرط رکھی ہے، یعنی دو یا زائد مسلمانوں کا کہیں جمع ہونا۔

چھوڑیے ان باتوں کو... عصر حاضر میں بھی اور ماضی قریب میں بھی بہت سے اہل علم ہیں جو ایسے حالات میں گھر میں جمعہ کو جائز سمجھتے ہیں۔ مثلا:

مولانا عبد ا للہ ناصر رحمانی صاحب حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ شاہ صاحب کے ساتھ ہم بنگلادیش گئےتھے، جب ہماری فلائٹ ڈھاکہ پہنچی تو مساجد میں جمعہ ہو چکا تھا۔ہمیں سیدھا ہوٹل لیجایا گیا، ہوٹل میں شاہ صاحب تھے، میں تھا، اور ایک میزبان تھا وہاں کا مقامی، اور غالباً شاہ صاحب کا نواسہ بھی ساتھ تھا۔ شاہ صاحب نے ہوٹل کے کمرے میں اذان کہلوائی، مختصر سا خطبہ دیا اور جمعہ کی نماز پڑھا دی۔

یہ واقعہ بتانے کے بعدرحمانی صاحب فرماتے ہیں : ’’ہم اسی موقف کی تایید کریں گے‘‘۔

اہل عرب کی بات کروں تو محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ بھی اسی موقف کے قائل تھے۔ وہ فرماتے ہیں:

ولما سافرتُ في رمضان سنة 1396 إلى بريطانيا سرني جداً أنني رأيتُ المسلمين في لندن يقيمون صلاة الجمعة والعيد أيضاً وبعضهم يصلون الجمعة في بيوت اشتروها أو استأجروها وجعلوها مصليات يصلون فيها الصلوات الخمس والجمعات. فقلت في نفسي: لقد أحسن هؤلاء بالمحافظة على هذه العبادة العظيمة هنا في بلاد الكفر، ولو تعصبوا لمذهبهم وجلهم من الحنفية - لعطلوها وصلوها ظهرا! فازددت يقينا بأنه لا سبيل إلى نشر الإسلام والمحافظة عليه إلا بالاستسلام لنصوص الكتاب والسنة، واتباع السلف الصالح، المستلزم الخروج عن الجمود المذهبي إلى فسيح دائرة الإسلام، الذي بنصوصه التي لا تبلى يصلح لكل زمان ومكان، وليس بالتعصب المذهبي، والله ولي التوفيق.

اور جب میں رمضان 1396ھ میں برطانیہ گیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میں نے لندن میں مسلمانوں کو دیکھا کہ وہ جمعہ اور عید بھی قائم کرتے ہیں، اور ان میں سے بعض ایسے گھروں میں جمعہ پڑھتے ہیں جنہیں انہوں نے خرید رکھا ہے یا کرایہ پہ لے رکھا اور انہوں نے ان (گھروں) کو مصلى بنا رکھا ہے، وہ اس میں پانچوں نمازیں اور جمعہ پڑھتے ہیں۔ تو میں نے اپنے دل میں کہا: انہوں نے بلادِ کفر میں اس عظیم عبادت پر محافظت کرکے بہت اچھا کیا ہے، اور اگر یہ لوگ اپنے مذہب کے لیے تعصب کرنے والے ہوتے – ان میں سے اکثر حنفی تھے- تو اسے (یعنی جمعہ کو) معطل کر دیتے اور (اسکے بجائے) نمازِ ظہر ادا کرتے!۔ میرا یقین اس بات پہ اور پختہ ہوگیا کہ اسلام کی تبلیغ اور حفاظت کتاب وسنت کی نصوص کے آگے سرِ تسلیم خم کرلینے سے ہی ممکن ہے، اور سلف صالح کی ایسی اتباع کے ذریعہ جو مذہبی جمود سے وسیع دائرہء اسلام کی طرف نکالنے والی ہے، کہ جو (اسلام) اپنے سدا بہار نصوص کے کی بناء پر ہر زمانے اور ہر جگہ کےلیے قابل عمل ہے، نہ کہ مذہبی تعصب کے ساتھ(تبلیغ وحفاظت دین ممکن ہے۔)

سلسلۃ الأحادیث الضعيفة 2/318 (917)

مزید فرماتے ہیں:

لما كنتُ أستاذاً للحديث في الجامعة الإسلامية فقد كنا نخرج أحياناً مع بعض إخواننا الطلاب إلى خارج المدينة فقد نصل إلى شاطىء البحر وغيره ويكون ذلك يوم الجمعة فنصلي صلاة الجمعة ونخطب فيهم.... إذن تصح صلاة الجمعة في أي مكان.

جب میں جامعہ اسلامیہ(مدینہ منورہ) میں استاذ الحدیث تھا، تو ہم کبھی کبھار اپنے بعض طالبعلم بھائیوں کے ہمراہ شہر سےباہر ساحل سمندر وغیرہ کی طرف نکل جایا کرتے تھے، اور یہ جمعہ کا دن ہوتا تھا تو ہم جمعہ کی نماز پڑھتے اور انہیں خطبہ دیتے.... تو نمازِ جمعہ کسی بھی جگہ درست ہے۔

جامع تراث العلامة الألباني في الفقه 6/75

مزید فرماتے ہیں:

لقد اختلفت أقوال العلماء كثيرا في العدد الذي يشترط لصحة صلاة الجمعة حتى بلغت إلى خمسة عشر قولا، قال الإمام الشوكاني في " السيل الجرار " (1/298) : " وليس على شيء منها دليل يستدل به قط، إلا قول من قال: إنها تنعقد جماعة الجمعة بما تنعقد به سائر الجماعات ". قلت: وهذا هو الصواب إن شاء الله تعالى.

وہ تعداد کہ جسے صحتِ نمازِ جمعہ کے لیے شرط قرار دیا گیا ہے، اسکے بارے میں علماء کے مابین بہت زیادہ اختلاف ہے، حتى کہ پندرہ اقوال ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ السیل الجرار(1/297) میں فرماتے ہیں: ’’ان میں سے کسی (قول) پر بھی کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے استدلال کیا جاسکے، سوائے اسکے قول کے، کہ جس نے کہا ہے:جمعہ کی جماعت بھی اتنے ہی افراد کے ساتھ قائم ہو جاتی ہے جتنے افراد کے ساتھ باقی تمام تر (نمازوں کی) جماعتیں قائم ہوتی ہیں‘‘۔ میں (البانی) کہتا ہوں اور یہی درست ہے، ان شاء اللہ تعالى۔

سلسلة الأحاديث الضعيفة: 3/349 (1204)

مزید فرماتے ہیں:

فلا يُشترط لصحة صلاة الجمعة إلا الجماعة فقط أما الشروط الأخرى فهي كلها اجتهادية وليس عليها أدلة من أحاديث الرسول عليه السلام.

لہذا نماز جمعہ کے جواز کے لیے صرف جماعت کی ہی شرط لگائی جائے، اور کوئی بھی شرط نہیں۔ جو دیگر شروط ہیں وہ ساری کی ساری اجتہادی ہیں، اور ان پہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے کوئی بھی دلیل نہیں ہے۔

جامع تراث العلامة الألباني في الفقه 80/6

ایک مرتبہ علامہ البانی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

صلاة الجمعة خارج المسجد تجوز ؟

مسجد کے علاوہ نمازِ جمعہ جائز ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

طبعاً تجوز

بالکل جائز ہے!

سلسلة الهدى والنور: 245

علامہ البانی رحمہ اللہ کا یہ کلام بھی ملاحظہ ہو:

من شروط الجمعة أنه لا تصح الصلاة إلا في مسجد مُسَقَّف فإذا لم يكن له سقف فما صحت الصلاة، من أين جاؤوا بـهذه الآراء والاجتهادات.

نحن لا ننكر عليهم شخصيا، ننكر عليهم آراءهم التي لا نُكَلَّف نحن شرعا أن نلتزمها.

الشاهد حتى ما أذهب بكم بعيدا: فقد صَحَّ عن عمر ابن عبد العزيز الخليفة الراشد أنه كتب إلى بعض القبائل التي نزلت في وادٍ أو في مكان للرعي أن أقيموا الجمعة، فبالإضافة إلى هذا وإلى عدم وجود نص يُقَيِّد عموم قوله تعالى:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ} [الجمعة: 9] إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ

فإذا أَذَّن مؤذن لأيِّ مكان كان ليوم الجمعة، قال تعالى:

{فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ} [الجمعة: 9]

ما اشترط أي شرط في الآية، بل ولا في السنة إلا الجماعة.

نماز جمعہ کی شرطوں میں سے یہ بات کہ پختہ چھت والی مسجد میں ہی نماز جمعہ جائز ہے، اگر پکی چھت نہ ہو تو جائز نہیں، یہ لوگ کہاں سے یہ آراء اور اجتہادات لائے ہیں؟۔ ہم انکی شخصیت پہ رد نہیں کرتے، انکی ان آراء پہ نکیر کرتے ہیں کہ شرعا جنکا اہتمام کرنے کے ہم پابند ہی نہیں ہیں۔

اسکی دلیل – بات کہیں دور نہ نکل جائے- خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے بسند صحیح ثابت ہے کہ وہ چند قبیلے جو کسی وادی میں یا کسی جگہ (جانوروں کو) چرانے کے لیے ٹھہرے تھے، انکی طرف انہوں نے خط لکھا کہ جمعہ قائم کرو۔اور اسکے ساتھ ساتھ (یہ دلیل بھی ہے کہ) کوئی ایسی نص نہیں جو اللہ تعالى کے اس فرمان کے عموم کو مقید کرے:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ} [الجمعة: 9]

اے اہل ایمان جب جمعہ کے دن نماز کے لیے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے لپکو اور تجارت چھوڑ دو۔

اللہ تعالى نے فرمایا ہے:

إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ

جب جمعہ کے دن نماز کے لیے بلایا جائے(اذان دی جائے)، لہذا جب بھی کوئی بھی مؤذن کسی بھی جگہ جمعہ کے دن اذان دے گا تو اللہ تعالى فرماتے ہیں (تمہارا کام ہے):

{فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ} [الجمعة: 9]

اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے لپکو۔

(اللہ تعالى نے) آیت میں کوئی بھی شرط نہیں رکھی، بلکہ سنت (حدیث) میں بھی کوئی شرط نہیں، سوائے جماعت کے۔اور جمعہ میں جماعت (مسلمانوں کے اکٹھے ہونے) کی شرط (دیگر نمازوں کی) جماعت کی نسبت زیادہ سخت ہے۔

جامع تراث الألباني في الفقه 6/103

آخر میں ہم اپنے ممدوح کے پسندیدہ شیخ ابو عبد المعز محمد علی فرکوس حفظہ اللہ کا فتوى نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی ہمارے موقف کے مطابق گھروں میں جمعہ پڑھنے کے جواز کا فتوى دیا ہے، ملاحظہ ہو:

لأنَّ الجمعة لا تختلف عن غيرها مِنْ صلوات الجماعة المكتوبة إلَّا في مشروعيَّة الخُطبة قبلها؛ لذلك تصحُّ كما تصحُّ سائرُ الصلوات في كُلِّ مكانٍ أمكنَ أَنْ يجتمع الناسُ فيه سواءٌ في المُدُن أو في القرى أو في البادية ولو في أبنيةٍ متفرِّقةٍ، وخاصَّةً إذا كان الناسُ عاجزين عن الصلاة في المسجد الجامع لسببٍ أو لآخَرَ، فيَسَعُهم ـ حينَئذٍ ـ أَنْ يصلُّوا في الأبنية المتفرِّقة أو في مكانٍ مخصوصٍ للصلوات الخمس أو لغيرها

چونکہ جمعہ دیگر باجماعت فرضی نمازوں سے مختلف نہیں ہے، سوائے نماز سے قبل خطبہ کے (فرق کے) اسی لیے یہ (جمعہ) بھی ہر اس جگہ میں صحیح(جائز) ہے جہاں تمام نمازیں صحیح (جائز) ہیں، اگر وہاں لوگوں کا جمع ہونا ممکن ہو، خواہ شہروں میں، بستیوں میں، بادیہ میں، اور خواہ متفرق عمارتوں میں، اور بالخصوص جب لوگ جامع مسجد میں کسی بھی وجہ سے نماز ادا کرنے سے عاجز ہوں تو اس وقت انکے لیے جائز ہے کہ وہ متفرق عمارتوں (گھر، ہوٹل وغیرہ) میں نماز (جمعہ) ادا کریں یا پانچ وقت کی نماز کے لیے مخصوص کسی جگہ پر یا کسی بھی اور جگہ۔

http://ferkous.com/home/?q=fatwa-1231

اگر کسی کے پاس شیخ فرکوس حفظہ اللہ کی آفیشل ویب پر ایرر آ رہا ہو، تو یہ فتوى پڑھنے کے لیے وہ گوگل کیشےکا سہارا لے سکتے ہیں:

ع..... تو اگرمیرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن!

اب کہیے کہ شیخ فرکوس حفظہ اللہ نے بھی قطبی اخوانی وحید عبد السلام بالی کے فتوے کی نقل کی ہے! اور انہیں بھی وجد میں آکر’’آوارہ منہج، نام نہاد سلفی لکھاری،اور نا اہل لوگ فتوى کی مسند پر براجمان‘‘ قرار دیں گے یا اپنی اداؤں پہ غور فرمانا پسند کریں گے کہ آپ کی ان ’’ہفوات مبارکہ‘‘ کی زد کہاں کہاں پڑتی ہے۔ آپکو تو اپنی رائے کے خلاف رائے رکھنے والے کو ’’اخوانیت وقطبیت‘‘ سے جوڑنے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا، جبکہ یہ رائےعلامہ البانی، امام شوکانی، اہل ظاہر کے علاوہ بہت سے نامور محدثین واساطین علم کی ہے۔

اور ویسے آپ نے کمال کہی کہ:

’’ مذکورہ بالا صورتحال میں لوگوں کو گھر میں نماز جمعہ پڑھنے کی رخصت دینا اجماع کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل التفات ہے ۔‘‘

حضور والا! گزارش ہے کہ قیامت تک آپ اور آپکے اعوان وانصار مل کر ’’موجودہ صورتحال میں گھروں میں جمعہ پڑھنے کے ناجائز ہونے‘‘ پر اجماع ثابت کر دیں!۔ مکرر عرض کرتا ہوں ’’موجودہ صورتحال‘‘ یعنی جب لوگوں کا مسجد میں پہنچنا ناممکن ہو، انہیں مساجد سے جبراً روک دیا گیا ہو، اور گھروں میں محصور کر دیا گیا ہو، ایسی صورتحال میں ’’گھروں میں جمعہ ناجائز ہے‘‘۔ بس یہ اجماع ہی ثابت کر دیں کہیں سے، حالانکہ آپکے نزدیک بھی کتاب وسنت کے بعد اسکا نمبر آتا ہے، اور ہمارے نزدیک تو یہ حجت و دلیل ہی نہیں، لیکن چونکہ آنجناب نے دعوى کیا ہے تو ذرا یہ ’’اجماع غائب‘‘ باہر نکالیے کہیں سے،اور ہمیں بھی درشن کرائیے، اور اپنے اعوان وانصارسمیت پکاریے ’’العجل، العجل‘‘ کہ شاید جلد ہی ایسا کوئی اجماع کسی ’’غار‘‘ سے برآمد ہو جائے۔

قارئین کی سہولت کے لیے ہم اپنے ممدوح کے معتمد مفتی صاحب یعنی محمد علی فرکوس حفظہ اللہ کا فتوى من وعن یہاں نقل کیے دیتے ہیں، اور اس فتوے کی سکرین شاٹ بھی ، تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ کلک کریں اور دیکھیں:

موبائل سے لی گئی سکرین شاٹ

کمپیوٹر سے لی گئی سکرین شاٹ

فرکوس صاحب کےمکمل فتوى (سوال وجواب) کا متن:

الفتوى رقم: ١٢٣١

الصنف: فتاوى الصلاة ـ صلاة الجمعة

في حكم الجمعة في الأبنية حالَ العجز عن أدائها في المسجد الجامع

السؤال:

تَفاجَأْنا ـ نحن عامَّةَ المُلتزِمين بالصلاة في المساجد ـ بصدورِ قرارٍ وزاريٍّ بغلقِ كافَّةِ المساجد على مستوى القُطر كإجراءٍ احترازيٍّ خوفًا مِنِ انتقالِ فيروسِ «كورونا»، فما حكمُ الجمعة حالتَئذٍ؟ هل نُصلِّيها ـ ظهرًا ـ في البيوت؟ أم يجوز أَنْ نُقِيمها جمعةً ولو بعددٍ لا يتجاوز خمسةَ أفرادٍ وبدونِ إذنِ وليِّ الأمر في مَنازِلِنا وأبنِيَتِنا؟ أم أنَّها لا تصحُّ إلَّا في المساجد الجامعة، وبعددٍ مخصوصٍ، وبشرطِ ترخيصِ وليِّ الأمر؟ نرجو البيانَ والتفصيل. وجزاكم الله خيرًا.

الجواب:

الحمد لله ربِّ العالمين، والصلاةُ والسلام على مَنْ أرسله الله رحمةً للعالمين، وعلى آله وصحبِه وإخوانِه إلى يوم الدِّين، أمَّا بعد:

فقَدْ أَجمعَ العلماءُ على فَرْضِيَّة الجمعة لقوله تعالى: ﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَ‌ۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٩ [الجمعة]، ويستثنى مِنْ فرضيَّتِها ما استثناهُ الدليلُ كالصبيِّ والمرأة والمملوك والمريض والمسافر وسائرِ أهل الأعذار(١)، فمَنْ أقامها ـ مِنْ هؤلاء ـ وشَهِدها صحَّتْ منه وأسقطت فَرْضَ الظهر عنه.

والسُّنَّة أَنْ تُؤدَّى الجمعةُ في مسجدٍ جامعٍ على نحوِ ما كانت عليه تُصلَّى في عهد رسول الله صلَّى الله عليه وسلَّم وفي عهد الخلفاء الراشدين رضي الله عنهم، إذ لم تكن تُؤدَّى إلَّا في مسجده الجامع، وتتوقَّف بقيَّةُ المساجد، غيرَ أنه لا يُشترَط اختصاصُ الجمعة بمسجدٍ أو بجامعٍ كما هو مذهبُ الجمهور(٢) خلافًا للمالكيَّة(٣)؛ لأنَّ الجمعة لا تختلف عن غيرها مِنْ صلوات الجماعة المكتوبة إلَّا في مشروعيَّة الخُطبة قبلها؛ لذلك تصحُّ كما تصحُّ سائرُ الصلوات في كُلِّ مكانٍ أمكنَ أَنْ يجتمع الناسُ فيه سواءٌ في المُدُن أو في القرى أو في البادية ولو في أبنيةٍ متفرِّقةٍ، وخاصَّةً إذا كان الناسُ عاجزين عن الصلاة في المسجد الجامع لسببٍ أو لآخَرَ، فيَسَعُهم ـ حينَئذٍ ـ أَنْ يصلُّوا في الأبنية المتفرِّقة أو في مكانٍ مخصوصٍ للصلوات الخمس أو لغيرها؛ لقول عمر بنِ الخطَّاب رضي الله عنه: «جَمِّعُوا حَيْثُ كُنْتُمْ»(٤)؛ قال الشوكانيُّ ـ رحمه الله ـ مُعقِّبًا على مَنِ اشترط شرطَ: مسجدٍ في مستوطنٍ بما نصُّه: «وهذا الشرطُ ـ أيضًا ـ لم يدلَّ عليه دليلٌ يصلح للتمسُّك به لمجرَّد الاستحباب فضلًا عن الشرطيَّة، ولقد كَثُرَ التلاعبُ بهذه العبادةِ وبَلَغ إلى حدٍ تقضي منه العَجَبَ؛ والحقُّ أنَّ هذه الجمعةَ فريضةٌ مِنْ فرائض الله سبحانه، وشعارٌ مِنْ شعارات الإسلام، وصلاةٌ مِنَ الصلوات؛ فمَنْ زَعَم أنه يُعتبَرُ فيها ما لا يُعتبَرُ في غيرها مِنَ الصلوات لم يُسمَعْ منه ذلك إلَّا بدليلٍ؛ وقد تخصَّصَتْ بالخُطبة، وليسَتِ الخُطبةُ إلَّا مجرَّدَ موعظةٍ يتواعظ بها عبادُ الله؛ فإذا لم يكن في المكان إلَّا رجلان قام أحَدُهما يخطب واستمع له الآخَرُ، ثمَّ قامَا فصَلَّيَا صلاةَ الجمعة»(٥).

ولا يُشترَط لصحَّة الجمعةِ العددُ سِوى ما تُقامُ به الجماعة وأقلُّه اثنان(٦)، فإِنْ لم يكن في المكان سوى اثنين فخَطَب أحَدُهما واستمع له الآخَرُ ثمَّ صلَّيَا صلاةَ الجمعة ـ كما تقدَّم ـ صَحَّتْ منهما وأسقطَتْ عنهما فَرْضَ الظهر؛ قال الشوكانيُّ ـ رحمه الله ـ أيضًا: «والحاصل: أنَّ صلاة الجماعة قد صحَّتْ بواحدٍ مع الإمام، وصلاةُ الجمعة هي صلاةٌ مِنَ الصلوات؛ فمَنِ اشترط فيها زيادةً على ما تنعقد به الجماعةُ فعليه الدليلُ ولا دليلَ؛ وقد عرَّفْناك غيرَ مرَّةٍ أنَّ الشروط إنما تَثْبُتُ بأدلَّةٍ خاصَّةٍ تدلُّ على انعدام المشروط عند انعدام شرطه؛ فإثباتُ مِثلِ هذه الشروطِ بما ليس بدليلٍ أصلًا ـ فضلًا عن أَنْ يكون دليلًا على الشرطيَّة ـ مجازفةٌ بالغةٌ وجرأةٌ على التقوُّل على الله وعلى رسوله وعلى شريعته؛ والعجبُ مِنْ كثرة الأقوال في تقدير العدد حتَّى بلغَتْ إلى خمسةَ عَشَرَ قولًا، وليس على شيءٍ منها دليلٌ يُستدَلُّ به قطُّ إلَّا قولَ مَنْ قال: إنها تنعقد جماعةُ الجمعة بما تنعقد به سائرُ الجماعات»(٧).

ولا يُشترَط ـ أيضًا ـ إذنُ الحاكم لإقامة الجمعة وإِنِ اشترطه الحنفيَّةُ، ولا دليلَ على هذا الشرط، إذ لا اعتبارَ للشروط إلَّا ما قام عليه الدليلُ مِنْ كتابٍ أو سُنَّةٍ أو إجماعِ المسلمين.

أمَّا عند المالكيَّة فيُستحَبُّ استئذانُ الحاكم، فإِنْ مَنَع وأُمِنَتِ المفسدةُ لم يُلتفَتْ إلى منعِه وأُقِيمَتِ الجمعةُ وجوبًا؛ تقديمًا لأوامر الشرع على كلام الحاكم؛ لقوله تعالى: ﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ‌ۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ‌ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ١ [الحُجُرات]، ولقوله صلَّى الله عليه وسلَّم: «إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي المَعْرُوفِ»(٨)، وفي روايةٍ: «لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»(٩)؛ قال القاضي عبد الوهَّاب المالكيُّ ـ رحمه الله ـ: «لا تفتقر إقامةُ الجمعة إلى سلطانٍ، خلافًا لأبي حنيفة؛ لقوله تعالى: ﴿إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ [الجمعة: ٩]، ولم يشترط إِذنَ السلطان؛ وقولِه صلَّى الله عليه وسلَّم: «الجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»(١٠)؛ ولأنَّ ذلك إجماعُ الصحابة؛ لأنَّ عليَّ بنَ أبي طالبٍ رضي الله عنه صلَّى بالناس الجُمُعةَ وعثمانُ رضي الله عنه محصورٌ، وكان الإمامُ عثمانَ ولم يُذكَر أنه استأذنَه وقد كان قادرًا على ذلك؛ وقد كان سعيد بنُ العاص أميرَ المدينة فأخرجوه منها وجاء أبو موسى الأشعريُّ فصلَّى بالناس الجُمُعةَ؛ ورُوِيَ أنَّ الوليد كان أميرًا بالكوفة فأخَّر الجُمُعةَ تأخيرًا شديدًا فصلَّى ابنُ مسعودٍ بالناس؛ فكُلُّ ذلك أمرٌ ظاهرٌ مشهورٌ لم يَجْرِ فيه نكيرٌ؛ ولأنه صلاةٌ فلم يكن مِنْ شرطِ إقامَتِها الإمامُ كسائر الصلوات؛ ولأنها عبادةٌ على البدل كالحجِّ»(١١).

والعلم عند الله تعالى، وآخِرُ دعوانا أنِ الحمدُ لله ربِّ العالمين، وصلَّى الله على نبيِّنا محمَّدٍ وعلى آله وصحبِه وإخوانِه إلى يوم الدِّين، وسلَّم تسليمًا.

الجزائر في: ٢٣ رجب ١٤٤١ﻫ

الموافق ﻟ: ١٨ مارس ٢٠٢٠م

(١) انظر: «الإجماع» لابن المنذر (٢٦).

(٢) انظر: «الإنصاف» للمرداوي (٢/ ٢٦٥)، «طرح التثريب» للعراقي (٣/ ١٩٠).

(٣) انظر: «المقدِّمات الممهِّدات» لابن رشد (١/ ٢٢٢)، «التوضيح لابن الحاجب» للخليل بنِ إسحاق (٢/ ٥٤)، «التنبيهات المُستنبَطة» للقاضي عياض (١/ ٢٥٥).

(٤) أخرجه ابنُ أبي شيبة في «المصنَّف» (٥٠٦٨)، قال ابنُ حجرٍ في «فتح الباري» (٢/ ٣٨٠): «صحَّحه ابنُ خزيمة»، وقال الألبانيُّ في «الضعيفة» (٢/ ٣١٨): «إسناده صحيحٌ على شرط الشيخين»، وانظر: «الإرواء» (٣/ ٦٦).

(٥) «السيل الجرَّار» للشوكاني (١/ ٢٩٨).

(٦) ذَكَر ابنُ حجرٍ ـ رحمه الله ـ في «فتح الباري» (٢/ ٤٢٣) اختلافَ العلماء في تقدير العدد، حيث بلغَتْ خمسةَ عَشَرَ قولًا ليس لأيٍّ منها دليلٌ يستند إليه إلَّا قولَ مَنْ قال: تنعقد الجمعةُ بما تنعقد به سائرُ الجماعات؛ وانظر ـ أيضًا ـ: «السيل الجرَّار» للشوكاني (١/ ٢٩٨).

(٧) «السيل الجرَّار» للشوكاني (١/ ٢٩٧).

(٨) مُتَّفَقٌ عليه: أخرجه البخاريُّ في «الأحكام» باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصيةً (٧١٤٥)، ومسلمٌ في «الإمارة» (١٨٤٠)، مِنْ حديثِ عليِّ بنِ أبي طالبٍ رضي الله عنه.

(٩) أخرجه أحمد في «مُسنَدِه» (١٠٩٥) مِنْ حديثِ عليِّ بنِ أبي طالبٍ رضي الله عنه. وصحَّحه الألبانيُّ في «صحيح الجامع» (٧٥١٩).

(١٠) أخرجه الطبراني في «المعجم الكبير» (٨/ ٣٢١)، والبيهقيُّ في «سُنَنه الكبرى» (٥٦٣٢)، مِنْ حديثِ طارق بنِ شهابٍ رضي الله عنه. وصحَّحه الألبانيُّ في «إرواء الغليل» (٥٩٢) و«صحيح الجامع» (٣١١٣).

(١١) «الإشراف على نُكَت مسائل الخلاف» للقاضي عبد الوهَّاب (١/ ٣٢٠ ـ ٣٢٢).

614 زائرین
مؤرخہ10-08-1441ھ بمطابق: 4-04-2020ء
3 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 1761
کل: 3405
موجودہ ہفتہ: 5185
ماہ رواں : 61333
امسال : 127066
آغاز سے: 292850
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 459
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 5
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :119796 ویں زائر ہیں
فی الحال 36حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :36
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator