أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سحری کے مسائل

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
سحری کے مسائل

سحری کے مسائل

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سحری کا وجوب:

سحری کرنا لازمی اور ضروری ہے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :

تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً

(صحيح البخاري : 1923 )

سحري كرو , یقینا سحری میں برکت ہے ۔

نیز فرمایا :

فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ

(صحيح مسلم : 1096 )

ہمارے اور اہل کتاب کے روزہ کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے ۔

البتہ وہ شخص جو سحری کے وقت بیدار نہیں ہوسکا , اسکی آنکھ تب کھلی جب فجر کی آذانیں شروع ہو چکی تھیں تو وہ سحری کھائے بغیر روزہ رکھے ! کیونکہ اس پر روزہ فرض ہے , اور سحری کا وقت گزر چکا ہے ۔

سحری کا وقت :

سحری کا وقت بتانے کے لیے مختلف لوگ مختلف طریقے اپناتے ہیں ۔ کچھ لوگ یہود ونصارى کے ناقوس وقرن کی طرح سائرن بجاتے ہیں اور کچھ سپیکروں میں سحری کا وقت بتانے کے لیے اعلان وقفہ وقفہ سے اعلان کرتے ہیں ۔ جبکہ نبی مکرم ﷺ نے اس کام کے لیے بہترین طریقہ کار منتخب فرمایا ہے اور وہ ہے اذان دینا ۔ سحری کا وقت ختم ہونے سے تھوڑی دیر قبل ایک اذان دی جاتی تاکہ لوگ سحری کھالیں ۔ اور سحری کے وقت کے اختتام پر نماز فجر کے لیے اذان دی جاتی تاکہ لوگ سحری چھوڑ کر نماز کے لیے آ جائیں ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :

إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ثُمَّ قَالَ وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ

(صحيح البخاري : 617)

یقینا بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیتے ہیں , تو تم کھاتے پیتے رہو حتى کہ عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں ۔ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے , وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک انہیں یہ نہ کہا جاتا کہ آپ نے صبح کر دی ہے ۔

اس حدیث سے علم ہوتا ہے کہ سحری کے لیے خبر دار کرنے کے لیے اذان دینی چاہیے نہ کہ سائرن یا اعلانات ۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اذان فجر تک سحری کھانے کی اجازت ہے کیونکہ صبح صادق کے طلوع ہونے تک سحری کا وقت رہتا ہے ۔ اللہ تعالى کا ارشاد گرامی ہے :

وَكُلُواْ وَاشْرَبُواْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ

[البقرة : 187]

اور کھاؤ پیو حتى کہ تمہارے لیے فجر کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے واضح ہو جائے ۔

اس آیت مبارکہ اور حدیث نبویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جونہی صبح صادق طلوع ہو اور اذان فجر ہو جائے تو کھانا پینا بند کر دینا چاہیے ۔ البتہ اس میں شریعت اسلامیہ نے اس شخص کے لیے کچھ رخصت رکھی ہے جس نے کوئی نوالہ اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا ہے یا کوئی برتن اٹھا کر اس میں کچھ تناول یا نوش کر رہا ہے کہ وہ اس میں سے اپنی حاجت پوری کر لے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :

إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ

(سنن أبي داود:2350 )

جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اسکے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے اس وقت تک نہ رکھے جب تک اس میں سے اپنی حاجت پوری نہ کر لے ۔

یعنی ہاتھ میں پکڑے ہوئے برتن سے اذان شروع ہو جانے کے بعد بھی کھانا پینا جائز ہے ۔ اسکے علاوہ اور کچھ بھی نگلنا منع ہو جاتا ہے ۔ لیکن بعض لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اذان ہوتی رہتی ہے اور وہ کھاتے رہتے ہیں ۔ انکا یہ طریقہ کار بالکل غلط اور شریعت اسلامیہ کے منافی ہے ۔ کیونکہ فجر کے طلوع ہو جانے اور اذان شروع ہو جانے کے بعد کچھ بھی کھانا پینا منع ہے , البتہ ہاتھ میں موجود چیز کو شریعت اسلامیہ نے مستثنى قرار دیا ہے ۔ اسی طرح جو شخص سحری کے وقت بیدار ن ہو سکے اس پر بھی لازم ہے کہ وہ کچھ بھی کھائے پیئے بغیر روزہ رکھے ۔ کیونکہ روزہ رکھنا فرض ہے , اور سحری کا وقت فوت ہو چکا ہے ۔ البتہ جان بوجھ کر سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا منع ہے ۔ جیساکہ سابقہ سطور میں سحری کھانے کا وجوب بیان ہو چکا ہے ۔

بہترین سحری :

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :

نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ

(سنن أبي داود : 2345)

مؤمن کی بہترین سحری کھجور ہے ۔

حالت جنابت میں سحری :

اگر کوئی شخص جنبی حالت میں صبح کرتا ہے تو وہ صرف وضوء کرکے سحری کر سکتا ہے ۔

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ

(صحيح البخاري : 1109)

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ایسے شخص کے بارہ میں پوچھا جو جنابت کی حالت میں صبح کرے آیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ احتلام کے بغیر (یعنی جماع کی وجہ سے) جنبی حالت میں صبح کرتے پھر (بھی) وہ روزہ رکھ لیتے ۔

روزہ کی نیت :

فجر سے پہلے پہلے روزہ کی نیت کرنا ضروری ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

مَنْ لَمْ يُجْمِعْ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ

(سنن أبي داود : 2454)

جس نے فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہ کی اسکا روزہ نہیں ہے ۔

یاد رہے کہ نیت دل کے اردہ کو کہتے ہیں ۔ زبان کے الفاظ کے ساتھ اسکا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ کچھ لوگ سحری کے وقت یہ الفاظ پڑھتے ہیں " وبصوم غد نويت من شهر رمضان " یہ الفاظ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہیں ۔



336 زائرین
مؤرخہ3-09-1441ھ بمطابق: 26-04-2020ء
2 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 1790
کل: 3405
موجودہ ہفتہ: 5214
ماہ رواں : 61362
امسال : 127095
آغاز سے: 292879
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 459
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 5
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :119798 ویں زائر ہیں
فی الحال 18حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :18
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator