أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

زیر ناف بال مونڈنے کی حد

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
زیر ناف بال مونڈنے کی حد

زیر ناف بال مونڈنےکی حد

محمد رفیق طاہر، عفى اللہ عنہ

عربی زبان بہت ہی جامع اور مانع لغت ہے۔ اس میں ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کے الگ نام اور الفاظ موجود ہیں۔ اور اللہ سبحانہ وتعالى نے نبی آخر الزماں امام الانبیاء جناب محمد مصطفى صلى اللہ علیہ وسلم کو تکمیل دین کے لیے چنا اور انکی شریعت کو قیامت تک کے لیے نافذ فرما دیا۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا تعلق خالص عرب سے تھا۔ اور جس زمانہ میں آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا اس وقت شعراء ادباء اور زبان دانی کا بڑا غلغلہ تھا اس معاشرہ کے لوگ زبان وبیان میں اپنے آپ کو تمام اہل دنیا سے برتر سمجھتے تھے۔ لیکن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالى نے ایسے جوامع الکلم عطاء کیے کہ عرب کے بلغاء و فصحاء بھی ششدر و حیراں رہ گئے۔ قرآن حکیم تو کلام الہی ہے جس کی مثال پیش کرنے سے مخلوق قاصر ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ جنہیں سنت یا حدیث کہا جاتا ہے وہ بھی ایسے جامع کلمات ہیں کہ ایک ایک لفظ اپنے اندر کئی کئی معانی سموئے ہوئے ہے اور ایسے مانع بھی ہیں کہ ان الفاظ سے کوئی ایسا معنى نہیں لیا جاسکتا جو شریعت کا مطلوب ومقصود نہ ہو۔ اس لیے ضروت اس امر کی ہے کہ اس دور کے اہل عرب کی کلام کو سمجھا جائے, محاورات اہل زباں سے آشنائی حاصل کی جائے, اور ہر لفظ کے معنى کو اس دور میں لیجا کر سمجھا جائے کہ اس وقت اس لفظ کا معنى کیا تھا یا یہ لفظ اس دور میں کس معنى کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ تبھی شریعت کے احکام صحیح طور پہ سمجھ آسکیں گے۔ کیونکہ شریعت اس دور کے اہل عرب بالخصوص قریش کی کی زباں میں نازل ہوئی۔ عربی زبان کی وسعت و جامعیت اور اسکی مانعیت کا اندازہ یہاں سے لگائیں کہ جسم کے مختلف حصوں پر اگنے والے بالوں کے لیے الگ الگ لفظ استعمال کیے جاتے ہیں مثلا:

العَقِيقَةُ وہ بال جو پیدائش کے وقت ہوتے ہیں۔

النَّاصِيَةُ سر کے اگلے حصہ (پیشانی) کے بال

الفَرْوَةُ سرکے اکثر حصہ کے بال

الذّؤابَةُ سر کے پچھلے حصہ کے بال

الفَرْعُ عورت کے سر کے بال

الغَدِيرَةُ عورت کی مینڈھیوں کے بال

الغَفَرُ عورت کی پنڈلی کے بال

الدَّبَبُ عورت کے چہرے کے بال

الوَفْرَة کانوں کی لو تک بال

اللِّمَّةُ وہ بال جو کندھوں کو چھوتے ہوں

الطُّرَّةُ ماتھے کو ڈھانپنے والے بال

الجُمَّةُ والغَفْرَةُ سر کو ڈھانپنے والے بال

الهُدْبُ پلکوں کے بال

الشَارِبُ اوپر والے ہونٹ کے بال

العَنْفَقَةُ نیچے والے ہونٹ کے بال

المَسْرَبةُ سینہ کے بال

الشِّعْرَةُ عانہ کے بال

الإسْبُ پاخانہ والی جگہ (دبر) کے بال

الزَّبَبُ آدمی کے جسم کے بال

فقه اللغة وسر العربية:صـ83

یہ چند مثالیں ہیں۔ وگرنہ جسم کے باقی بالوں اور بالوں کی مختلف انواع واقسام کے لیے الگ الگ نام لغت عرب میں موجود ہیں۔ ہمارے موضوع سے متعلق اس میں دو نام ہیں: الشِّعْرَةُ عانہ کے بال الإسْبُ پاخانہ والی جگہ (دبر) کے بال یعنی پاخانہ والی جگہ جسے عربی میں '' الإسْتُ / السَّهُ / السَبَّةُ / الوَجْعَاءُ / الضَّمَارى / الجَهْوَةُ / الذُّعْرَةُ / الوَبَاعَةُ / أمُّ سُوَيْدٍ / الدُّبُرُ'' وغیرہ کہتے ہیں اس پر اگنے والے بالوں کا نام الإسْبُ ہے۔ اور عانہ کے بال جنہیں شریعت نے مونڈنے کا حکم دیا ہے انہیں الشِّعْرَةُ کہا جاتا ہے۔ یہاں سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ شریعت کے حکم ''حلق العانۃ'' میں پاخانہ والی جگہ (دبر) کے بال شامل نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ إسب ہیں شِعرۃ نہیں۔ علماء لغت کہتے ہیں:

الدُّبُر يقال له الاسْت والشّعرُ الذي حوله يقال له الاسْبُ

دُبُر کو اِسْت بھی کہا جاتا ہے اور اور جو بال اسکے ارد گرد ہوتے ہیں انہیں ''إسب'' کہتے ہیں۔

المزهر في علوم اللغة وأنواعها: جـ 1 صـ 45, الصحاح: جـ1 صـ88 , المصباح المنیر: جـ1 صـ14

الغرض دبر کے بالوں کا نام لغت عرب میں الگ ہے اور عانہ کے بالوں کا نام الگ۔ اسی طرح عانہ سے اوپر ناف تک کے بالوں کو عربی میں ''ثُنّہ'' کہا جاتا ہے:

الثُّنَّة من الْإِنْسَان: مَا دُون السُّرّة فَوق العانَة أَسْفَلَ الْبَطن.

انسان کے جسم میں ثنہ (ان بالوں کو کہتے ہیں) جو پیٹ کے نچلے حصہ پر ناف سے نیچے اور عانہ سے اوپر ہوں۔

تهذيب اللغة: جـ15 صـ 49,50, غريب الحديث للخطابي: جـ1 صـ444, المحكم والمحيط الأعظم لابن سيده: جـ10 صـ133, كفاية المتحفظ لابن الأجدابي:صـ68, الفائق: جـ1 صـ177, جـ4 صـ42, شمس العلوم لنشوان الحميري: جـ2 صـ803, المجموع المغيث لأبي موسى المديني: جـ1 صـ276, إكمال الأعلام بثليث الكلام لابن مالك (صاحب الألفية) : جـ1 صـ93, لسان العرب: جـ13 صـ84

اب رہا یہ سوال کہ عانہ کیا ہے؟ کہ جس کے بال مونڈنے کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ تو اچھی طرح سے سمجھ لیجئے کہ ''عانہ'' اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں شرمگاہ ہوتی ہے اور کے اوپر کی جانب تھوڑا سا حصہ۔ اصل میں عانہ کوہلوں کے ہڈیوں کا اگلا حصہ ہے۔ جن کے درمیان میں آلات تناسل کا راستہ ہوتا ہے۔ زچگی کے وقت یہی ہڈی اللہ تعالى کی کمال حکمت سے کھل جاتی ہے اور جنین باہر آتا ہے۔ ہڈی کھلنے کے اس عمل کو اللہ تعالى نے یوں تعبیر کیا ہے:

ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ

پھر راستہ کو آسان کر دیا

سورۃ عبس: 20

اگر پیٹ کے نیچے حصہ کو کچھ دبائیں تو ایک ہڈی سی محسوس ہوتی ہے۔ وہ عانہ کی ہڈی ہے۔ بس یہیں سے بال مونڈنے کا آغاز ہوگا اور شرمگاہ سمیت اس جگہ کے بال مونڈے جائیں گے۔

نیچے دی گئی تصویر میں مکمل حوض یعنی دونوں کوہلوں کی ہڈیاں ہیں:

اس تصویر میں عانہ کی ہڈی کو سرخ مربع سے واضح کیا گیا ہے:


اہل لغت کہتے ہیں:

الْعَانَة منبِت الشّعْر فَوق القُبُل من الْمَرْأَة، وَفَوق الذّكر من الرجل عانہ

عورت کی فرج (اگلی شرمگاہ) اور آدمی کے ذکر (آلہء تناسل) کے اوپر بال اگنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔

تهذيب اللغة: جـ3 صـ 129, جـ13 صـ71 , لسان العرب: جـ1 صـ213 , جـ13 صـ300, المصباح المنیر: جـ2 صـ438

اور کبھی ان بالوں کو بھی عانہ کہہ دیتے ہیں:

العانة: شَعْرُ الفَرْج عانہ

یعنی اگلی شرمگاہ کے بال

شمس العلوم لنشوان الحميري: جـ7 صـ4820

تو اس ساری بحث اور دلائل کا نتیجہ یہ نکلا کہ ''عانہ'' کے بال مونڈنے کا حکم ہے اور اس میں اگلی شرمگاہ (مردوں میں آلہء تناسل اور خصیتین اور عورتوں میں فرج ) اور اس سے اوپر پیٹ کی جانب جہاں تک ہڈی ہے وہاں تک کے بال شامل ہیں۔ رانوں کے بال , عانہ کے اوپر اور ناف سے نیچے پیٹ کے زیریں حصہ کے بال اور دبر(پاخانہ والی جگہ) کے بال اور چوتڑوں (hips) کے بال اس میں شامل نہیں ہیں۔ اور اہل اردو لفظ عانہ کا ترجمہ کرتے ہوئے عموما زیر ناف بال کہہ دیتے ہیں تو یہ صرف کنایہ ہے۔ اور کچھ لوگ جو اس کنایہ کو نہیں سمجھتے وہ ''زیر ناف'' کا حقیقی معنى مراد لے لیتے ہیں اور ناف کے متصل نیچے سے بال مونڈنے کا آغاز کرتے ہیں اور نیچے تک جاتے ہوئے کچھ تو گھٹنوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ رانیں یا پیٹ مونڈنے کا شریعت نے حکم نہیں دیا۔ خوب سمجھ لیں... اور یہ بات بھی اس بحث سے واضح ہوئی کہ بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے:

فاستحب حلق جميع ما على السبيلين

سبیلین (پیشاب اور پاخانے کی جگہ دونوں) پر موجود بالوں کو مونڈنا پسندیدہ ہے۔

مجمع بحار الأنوار للعلامة طاهر الفتني:جـ1 صـ472

یہ قول بلا دلیل ہے۔ کیونکہ لغت عرب اس قول کے خلاف ہے۔ اور شریعت اسلامیہ میں اس پر کوئی دلیل موجود نہیں!



656 زائرین
مؤرخہ6-09-1441ھ بمطابق: 29-04-2020ء
3 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 1881
کل: 3405
موجودہ ہفتہ: 5305
ماہ رواں : 61453
امسال : 127186
آغاز سے: 292970
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 459
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 5
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :119808 ویں زائر ہیں
فی الحال 21حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :21
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator