أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

مدرک رکوع کی رکعت

فتوى
Separator

مدرک رکوع کی رکعت
یہ فتوى 218 مرتبہ پڑھا جا چکا ہے
مؤرخہ13-09-1441ھ بمطابق: 6-05-2020ء
غير معروف
محمد رفیق طاہر
مکمل سوال
کیا رکوع میں شامل ہونے والے کی وہ رکعت شمار ہوگی جسکے رکوع میں وہ شامل ہوا ہے۔؟ اس حوالہ سے ایک روایت بھی ہے کہ " جس نے ركوع پا ليا اس نے ركعت پا لى " (ابو داود) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے ارواء الغليل حديث نمبر ( 496 ) ميں صحيح قرار ديا ہے، اور صفحہ نمبر (262) ميں كہتے ہيں: اس حديث كو صحابہ كرام كى ايك جماعت كے اس پرعمل سے بھى تقويت حاصل ہوتى ہے۔ اس بارہ میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

رکوع میں شامل ہونے والے کی رکعت شمار نہیں ہوگی۔

کیونکہ

اولا:

رکوع میں شامل ہونے والے نے نہ قیام پایا ہے اور نہ ہی سورۃ الفاتحہ پڑھی ہے۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ»

جس نے فاتحۃ الکتاب (سورہ فاتحہ) نہ پڑھی اسکی نماز نہیں۔

صحیح البخاری : 756

ثانیا:

1- جو روایت آپ نے ابو داود کے حوالہ سے پیش فرمائی " جس نے ركوع پا ليا اس نے ركعت پا لى" سنن ابی داود سے یہ الفاظ مجھے نہیں ملے ، بہر حال اسکے اصل الفاظ یہ ہیں:

«مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ»

جس نے نماز کی ایک رکعت بھی پا لی ، گویا اس نے نماز پا لی۔

سنن أبی داود : 1121

یہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ کتب ستہ میں سے درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے:

صحیح البخاری:580، صحیح مسلم : 607، جامع الترمذی : 524، سنن النسائی: 553

2- اسکے علاوہ یہ روایت "جس نے سورج طلوع ہونے سے قبل فجر کی ایک رکعت پا لی اس نے فجر کو پا لیا" اور " جس نے سورج غروب ہونے سے قبل ایک رکعت پا لی اس نے نماز عصر پا لی" اور " جس نے نماز جمعہ کی ایک رکعت پا لی اس نے جمعہ پا لیا" اور اس طرح کے دیگر الفاظ کے ساتھ اسی مفہوم میں کتب ستہ سمیت دیگر بہت سی کتب احادیث میں موجود ہے۔ جسکا خلاصہ یہی ہے کہ
"رکعت کو پا لینے والا نماز کو پا نے والا ہے"

جو کہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ "جس نے ركوع پا ليا اس نے ركعت پا لى" کے الفاظ محفوظ نہیں ہیں! بلکہ یہ بعض نساخ/ رواة کی طرف سے غلطی ہے۔

3- ہاں سنن دارقطنی میں ایک روایت بایں طور مروی ہے:

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ الْمُخَرِّمِيُّ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ بَحْرٍ الْبُزُورِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، ثنا أَبُو يَزِيدَ الْحَصَّافُ الرَّقِّيُّ وَاسْمُهُ خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ الرُّكُوعَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا أُخْرَى ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكِ الرُّكُوعَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى فَلْيُصَلِّ الظُّهْرَ أَرْبَعًا»

جس نے جمعہ کے دن آخری رکعت کا رکوع پا لیا تو وہ اسکے ساتھ دوسری رکعت ملا لے اور جس نے دوسری رکعت کا رکوع نہیں پایا تو وہ ظہر کی چار کعت ادا کرے۔

سنن الدارقطنی : 1608

اسکی سند میں سلیمان بن ابی داود الحرانی، ابو أیوب سلیمان بن سالم ، متروک الحدیث ہے۔

امام دارقطنی نے مجروحین لابن حبان کی تعلیقات میں اسکا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے: ضعيف ، تكلم فيه غير واحد من الأئمة

امام بخاری فرماتے ہیں: منكر الحديث

ابن طاہر نے کہا ہے: منكر الحديث عن الثقات ، لا يحل الاحتجاج به إذا انفرد

امام احمد بن حنبل کہتے ہیں: ليس بشيء

ابو زرعہ رازی فرماتے ہیں: لين الحديث ، ضعيف الحديث

ابو حاتم ابن حبان البستی فرماتے ہیں: منكر الحديث جدا يروي عن الأثبات ما يخالف حديث الثقات حتى خرج عن حد الاحتجاج به إلا فيما وافق الأثبات

ابو حاتم رازی کہتے ہیں: ضعيف الحديث جدا

امام بیہقی نے سنن صغیر میں اسکا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: منكر الحديث ضعفه الأئمة وتركوه

ابو الفتح الأزدی کہتے ہیں: منكر الحديث

الغرض یہ روایت اپنے شدید ضعف کی بنا پر پایہء ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ اور پھر یہ ثقات کی مخالفت میں بھی ہے۔ جنہوں نے اسی روایت کو بایں معنى نقل کیا ہے:

" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلاةِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا أُخْرَى وَقَدْ تَمَّتْ صَلاتُهُ ".

جس نے نماز جمعہ وغیرہ کی ایک رکعت بھی پا لی تو وہ اسکے ساتھ دوسری رکعت ملائے اور اسکی نماز مکمل ہے۔

ملاحظہ ہو: سنن الدارقطنی :1598، 1606، 1608 وغیرہ

4- البتہ اس طرح کی ایک اور روایت سنن ابی داود میں موجود ہے:

«إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا، وَمَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ»

جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدہ کی حالت میں ہوں تو سجدہ کرو اور اسے کچھ شمار نہ کرو، اور جس نے رکعت کو پا لیا تو اس نے نماز پا لی۔

سنن ابی داود: 893

لیکن ايك تو اس روایت میں "رکعۃ" سے رکوع مراد لینا بھی محل نظر ہے اور دوسرا یہ کہ یہ روایت بھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی!

کیونکہ اسکی سند میں مذکور یحیى بن أبی سلیمان ضعیف ہے۔

امام بخاری فرماتے ہیں : منكر الحديث

ابن حجر تقریب میں فرماتے ہیں: لين الحديث

ابو جعفر العقیلی نے بھی اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے۔

5- یہ روایت أبو سعيد بن الأعرابي أحمد بن محمد بن زياد بن بشر بن درهم البصري الصوفي وغیرہ نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے:

«مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَهَا قَبْلَ أَنْ يُقِيمَ الْإِمَامُ صُلْبَهُ»

جس نے امام کے (قومہ میں) کمر سیدھا کرنے سے قبل نماز کا رکوع پا لیا تو اس نے اس (نماز) کو پا لیا ۔

معجم ابن الاعرابی : 964، صحیح ابن خزیمۃ: 1595، سنن الدارقطنی: 1313، سنن الکبرى للبیہقی: 2575

مگر یہ بھی پایہء ثبوت کو نہیں پہنچتی!

کیونکہ ابن الاعرابی کا شیخ أحمد بن داود بن عبد الغفار بن داود أبو الحسن، کذاب ہے!

امام دارقطنی فرماتے ہیں: متروك كذاب

امام ابو بکر البیہقی نے دعوات کبیر میں اسے ذکر کرکے فرمایا ہے: ضعيف

ابو حاتم رازی کہتے ہیں: يضع الحديث

ابو حاتم بن حبان البستی فرماتے ہیں: يضع الحديث لا يحل ذكره في الكتب الا على سبيل الإبانة عن أمره

اور پھر اس روایت کا مدار یحیى بن حُمید اور اسکے شیخ قرہ بن عبد الرحمن پر ہے۔

جبکہ یہ دونوں راوی بھی ضعیف ہیں۔

یحیى بن حمید کے بارہ میں امام دارقطنی فرماتے ہیں: ضعیف

امام بخاری فرماتے ہیں: لا يتابع في حديثه

ابو احمد بن عدی الجرجانی فرماتے ہیں: أحاديثه غير مستقيمة

ابو جعفر العقیلی نے بھی اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے۔

اور قرة بن عبد الرحمن بن حيوئيل بن ناشرة بن عبد بن عامر بن أيم بن الحارث کو ابو القاسم بن بشکوال نے عبد اللہ بن وہب کے مشایخ میں ذکر فرما کر ضعیف قرار دیا ہے۔

ابو حاتم رازی کہتے ہیں: لیس بقوي

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: منكر الحديث جدا

ابو زرعہ رازی کہتے ہیں: الأحاديث التي يرويها مناكير

ابو داود سجستانی فرماتے ہیں: في حديثه نكارة

امام نسائی فرماتے ہیں: ليس بقوي

امام دارقطنی کہتے ہیں: ليس بقوي في الحديث

یحیى بن معین فرماتے ہیں: كان يتساهل في السماع ، وفي الحديث ، وليس بكذاب

ابن حجر فرماتے ہیں: صدوق له مناكير

تحریر التقریب کے مصنفین نے کہا ہے: ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد ، وروى له مسلم مقرونا بغيره

الغرض یہ روایت بھی قابل استدلال نہیں ہے۔

6- اسکا ایک شاہد ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے:

" إِذَا جِئْتُمْ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَارْكَعُوا، وَإِنْ كَانَ سَاجِدًا فَاسْجُدُوا، وَلَا تَعْتَدُّوا بِالسُّجُودِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الرُّكُوعُ "

اگر تم اس وقت آؤ جب امام رکوع کی حالت میں ہو تو رکوع میں چلے جاؤ، اور اگر وہ سجدہ کی حالت میں ہے تو سجدہ کرو ، اور جب تک سجدہ کے ساتھ رکوع نہ ہوتو اسے کچھ شمار نہ کرو۔

السنن الکبرى للبیہقی: 2576، مصنف عبد الرزاق : 3373

مگر یہ روایت بھی پایہء ثبوت کو نہیں پہنچتی!

کیونکہ اس میں ایک راوی مبہم ہے۔ جسے "رجل" کہہ کر ذکر کیا گیا ہے۔ اور اس میں احتمال ہے کہ وہ "رجل" تابعی ہے یا صحابی، صحابی ہونے کی صورت میں تو سند صحیح بنتی ہے ، لیکن تابعی ہونے کی صورت میں روایت مرسل بنتی ہے جو کہ انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہوتی ہے۔ اور پھر چونکہ اس میں دو طرح کے احتمالات ہیں تو ان احتمالات کی بناء پر بھی اس سے استدلال باطل ہے کیونکہ مسلمہ قاعدہ ہے:"إذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال" یعنی جب احتمال آ جائے تو استدلال باطل ہو جاتا ہے۔ الغرض کسی بھی صورت یہ روایت بھی حجت و دلیل نہیں بنتی۔

7- اور مدرک رکوع کے مدرک رکعت ہونے سے متعلق تمام تر روایات شدید ضعیف اسانید سے مروی ہیں جیسا کہ سابقہ سطور میں تفصیل گزر چکی ہے۔ لہذا تعدد طرق بھی انکے ضعف کو ختم نہیں کرتا۔

8- اسکے علاوہ کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال ہیں جن میں مدرک رکوع کا مدرک رکعت ہونا مذکور ہے۔ جن میں ابو بکر الصدیق ، عبد اللہ بن عمر، اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین شامل ہیں۔

· لیکن ایک تو وہ وحی الہی نہ ہونے کی بناء پر دین میں حجت ودلیل نہیں بنتے، کیونکہ وحی صرف کتاب اللہ یا احادیث مرفوعہ میں محصور ومقصور ہے۔ اور موقوفات دین میں حجت نہیں۔

· اور دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ موقوفات کو حجت ماننے کے قائل ہیں وہ بھی ایسی موقوف روایات کو حجت نہیں مانتے جنکے خلاف دیگر موقوف روایات موجود ہوں۔ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین جو مسئلہ مختلف فیہ ہو اور صحابہ ہی میں دو متضاد آراء موجود ہوں اسے موقوفات کو حجت ماننے والے بھی حجت نہیں مانتے۔ اور یہ مسئلہ بھی اسی قبیل سے ہے کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مدرک رکوع کی رکعت نہیں مانتے تھے۔

سیدنا ا بو ہریر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«لَا يُجْزِئُكَ إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْإِمَامَ قَائِمًا قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ»

تجھے کفایت نہیں کرے گا الا کہ تو امام کو رکوع میں جانے سے قبل قیام کی حالت میں پا لے۔

القراءۃ خلف الإمام للبخاری: 94

هذا‘ والله تعالى أعلم‘ وعلمه أكمل وأتم‘ ورد العلم إليه أسلم‘ والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد و قوم‘ وصلى الله على نبينا محمد وسلم
وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
آڈیو فتوى



    پرنٹ 



فتوى دوسروں تک پہنچائیں
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 72
کل: 2762
موجودہ ہفتہ: 6125
ماہ رواں : 14428
امسال : 270949
آغاز سے: 437133
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 460
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 6
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :195890 ویں زائر ہیں
فی الحال 5حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :5
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator