محمد رفیق طاہر

رکوع کے بعد ہاتھ باندھے جائیں یا چھوڑے جائیں ؟

فتوى
رکوع کے بعد ہاتھ باندھے جائیں یا چھوڑے جائیں ؟
765 زائر
مؤرخہ13-09-1441ھ بمطابق: 6-05-2020ء
غير معروف
محمد رفیق طاہر
السؤال كامل
رکوع کے بعد ہاتھوں کی کیفیت کیا ہونی چاہیے؟ ہاتھ باندھیں یا چھوڑ دیں؟ اس مسئلہ کی وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
جواب السؤال

اس مسئلہ میں صحیح بخاری کی ایک حدیث فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے ، مگر اس حدیث کو پڑھنے سے قبل یہ سمجھ لیں کہ وہ فیصلہ کن کیوں ہے ؟

اس بناء پر کہ قائلین وضع الیدین بعد از رکوع کے دلائل جو خاص ہیں وہ سب ضعیف اور نا قابل اعتماد ہیں یا پھر دین میں حجت و دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، اور وہ دلائل جو عام ہیں وہ دو طرح کے ہیں:

۱۔ سدل سے ممانعت والی احادیث۔

۲۔ عمومات ، جن میں قیام میں ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے۔

پہلی قسم کے دلائل :

تو اس لیے معتبر نہیں ہیں کیونکہ نماز میں ممنوعہ سدل لغوی سدل نہیں بلکہ خاص سدل ہے ۔

لغت میں سدل کا معنى ہے " ارخاء " یعنی کسی بھی چیز کو لٹکا دیناخواہ وہ لباس ہو یا جسم کا کوئی حصہ اگر وہ آزادانہ طور پر لٹک رہا ہے کہ اسکا زیریں حصہ کسی بھی چیز کے ساتھ باندھا نہیں گیا اس پر لغۃً لفظ سدل صادق آتا ہے ۔

چونکہ ہاتھوں کو اگر چھوڑ دیا جائے تو بھی لغوی طور پر سدل بنتا ہے اسی بناء پر مانعین ارسال الیدین بعد از رکوع اس عمل کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور ہاتھ باندھتے ہیں ۔

لیکن اگر نماز میں ممنوعہ سدل کو لغوی سدل ہی سمجھ لیا جائے تو پھر قمیص پہن کر نماز پڑھنا بھی ناجائز ٹھہرتا ہے کیونکہ وہ بھی آگے اور پیچھے اسی کیفیت سے لٹکتا ہے جس پر لفظ سدل صادق لغوی اعتبار سے صادق آتا ہے ، یہیں بس نہیں بلکہ لغوی سدل تو دھوتی پر بھی صادق آتا ہے اور انسان کے سر کے بالوں پر بھی پگڑی کے شملہ پر بھی اور اور اور ....... الخ .

نماز میں جو سدل ممنوع ہے وہ ہے :

" إرخاء الثوب قياما حتى يصيب الأرض "

قیام کی حالت میں کپڑوں کو اس انداز سے لٹکانا کہ وہ زمیں بوس ہو جائیں ۔

اور دوسری دلیل :

اس لیے ساقط الاعتبار ہے کیونکہ اس میں عموم ہے ، یعنی قیام مطلقا کہا گیا ہے اب اس قیام سے کونسا قیام مراد ہے رکوع سے پہلے والا یا بعد والا اسکی وضاحت نہیں ہے ۔ اور اصول ہے کہ جب کسی معاملہ ایک دلیل عام اور ایک خاص تو خاص کو عام پر مقدم کیا جاتا ہے۔

ہماری دلیل :

اس بارہ میں خاص رکوع سے بعد ہاتھ چھوڑنے پر واضح دلالت کرتی ہے ، ملاحظہ فرمائیں :

عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يُرِينَا كَيْفَ كَانَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ فَقَامَ فَأَمْكَنَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَمْكَنَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَانْصَبَّ هُنَيَّةً

ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ نماز کے اوقات کے علاوہ ہمیں دکھاتے تھے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی ، تو وہ کھڑے ہوئے اچھی طرح قیام کیا پھر رکوع کیا تو اچھی طرح رکوع کیا پھر اپنے سر کواٹھایا تو تھوڑی دیر کے لیے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر کھڑے ہوگئے ۔

صحيح بخاري كتاب الأذان باب الطمانينة حين يرفع رأسه من الركوع حـ 802

اس حدیث میں ایک تو خاص موقعہ ذکر ہوا ہے اور وہ رکوع کے بعد کا ، اور دوسرا اس دوران ایک خاص عمل ذکر ہوا ہے اور وہ ہے " انصباب " انصباب عربی زبان میں کسی بھی چیز کے بہاؤ پر بولا جاتا ہے ۔ اللہ نے سورۃ عبس میں آسمان سے نازل ہونے والے پانی یعنی بارش کے لیے لفظ "صب" استعمال کیا ہے اسی طرح غسل والی احادیث میں سر پر پانی بہانے کے لیے بھی لفظ " صب " استعمال کیا گیا ہے جسکا معنى ہے پانی کو بہانا ، اسی مصدر ص ب ب کا باب انفعال انصباب ہے جو کہ اسے متعدی سے لازم بنا دیتا ہے تو انصباب کا معنى ہوگا خود بہہ جانا ۔

یعنی اس حدیث میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز بیان کرتے ہوئے مالک بن حویرث رکوع کے بعد انصاب کرکے دکھا رہے ہیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہاتھوں کو ڈھیلا چھوڑ دیا جائے باندھا نہ جائے ۔ صرف ہاتھوں کو ہی نہیں بلکہ سارے جسم کو ڈھیلا چھوڑا جائے قیام کی حالت میں تو انصباب بن جائے گا۔

اس حدیث میں رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے پر واضح اشارہ موجود ہے ۔

لہذا یہ حدیث اس مسئلہ میں فیصلہ کن " حکم " کی حیثیت رکھتی ہے کہ جس میں تأویل کی گنجائش نہیں ہے ۔

اسی طرح ابو حمیدساعدی رضی اللہ عنہ نے نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز بتاتے ہوئے فرمایا:

«كَانَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ، اعْتَدَلَ قَائِمًا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ» ثُمَّ قَالَ «اللَّهُ أَكَبْرُ» وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، فَإِذَا قَالَ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» رَفَعَ يَدَيْهِ، فَاعْتَدَلَ، فَإِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ، كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، كَمَا صَنَعَ، حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ "

جب آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہوتے تو اعتدال کے ساتھ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے حتى کہ انہیں اپنے کندھوں کے برابر کرتے، پھر اللہ اکبر کہتے ۔ اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے حتى کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر لے جاتے۔ تو جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو بھی ا پنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور اعتدال کے ساتھ کھڑے ہو جاتے۔ اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے حتى کہ انہیں کندھوں کے برابر کرتے جسطرح نماز کے آغاز میں کیا تھا۔

سنن ابن ماجہ: 862

اس حدیث مبارکہ میں بھی ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے تکبیر تحریمہ سے قبل والے قیام کے لیے لفظ "اعتدل" استعمال کیا ہے اور اسی طرح رکوع کے بعد والے قیام کے لیے بھی یہی لفظ "اعتدل" استعمال کیا ہے۔ جو اس بات کا غماز ہے کہ دونوں قیام ایک ہی طریقہ پر ہیں۔ اور امت مسلمہ اس بات پر عملا متفق ہے کہ تکبیر تحریمہ سے قبل ہاتھ کھلے ہوتے ہیں بندھے نہیں ہوتے۔ لہذا یہ روایت بھی رکوع کے بعد ہاتھوں کو چھوڑنے کی دلیل ہے۔

جواب السؤال صوتي
   طباعة 
متعلقہ لنکس
فتوى گزشتہ
فتاوى متشابہہ فتوى آئندہ
جديد المواد

مقتدی کا سمع اللہ لمن حمدہ کہنا

2034 مؤرخہ13-09-1441ھ بمطابق: 5-05-2020ء

نمازوں کی رکعات

1851 مؤرخہ11-09-1441ھ بمطابق: 4-05-2020ء

سجدہ سہو کے مسائل

1336 مؤرخہ10-09-1441ھ بمطابق: 3-05-2020ء
البحث
القائمة البريدية