أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

گانے کی طرز پر نعت یا حمد یا نظم پڑھنے کا حکم

فتوى
Separator

گانے کی طرز پر نعت یا حمد یا نظم پڑھنے کا حکم
یہ فتوى 74 مرتبہ پڑھا جا چکا ہے
مؤرخہ4-08-1442ھ بمطابق: 18-03-2021ء
غير معروف
محمد رفیق طاہر
مکمل سوال
گانے کی طرز میں کوئی نعت یا حمد پڑھنے کی ان تین صورتوں کا کیا حکم ہے؟ ۱. گانا پرانا ہو. لوگوں کے ذہن سے نکل چکا ہو ۲. گانا اسی دور کا ہو.. اور مشہور بھی ہو.. ۳. ملی نغمہ ہو ان تینوں صورتوں میں گانے کی طرز پر نعتیہ یا حمدیہ اشعار پڑھنا کیسا ہے؟؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

گانے یا کفار ومشرکین کے جملوں کے وزن اور طرز پر حمد ونعت پڑھنا یا اشعار وجملے کہنا شرعا جائز ہے , کوئی حرج نہیں

غزوہ احد کے موقع پر کفار نے کہا

"أُعْلُ هُبَلْ، أُعْلُ هُبَلْ"

(ھبل کی جے ہو)

تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں جواب دو

"اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ"

(اللہ سب سے اعلى اور جلیل القدر ہے)

مشرکین نے کہا

"إِنَّ لَنَا العُزَّى وَلاَ عُزَّى لَكُمْ"

( ہمارا تو عزى جبکہ تمہارے پاس کوئی عزى نہیں)

تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں جواب دو

"اللَّهُ مَوْلاَنَا، وَلاَ مَوْلَى لَكُمْ"

( اللہ ہمارا مولى ہے اور تمہارا کوئی مولى نہیں)

[صحیح بخاری : 3039]

اب یہ الفاظ آپس میں ملتے جلتے اور ایک ہی وزن پر ہیں۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے کفار کے الفاظ کے ہم وزن الفاظ میں انہیں جواب دیا ہےجنکی طرز ایک ہی بنتی ہے۔


هذا‘ والله تعالى أعلم‘ وعلمه أكمل وأتم‘ ورد العلم إليه أسلم‘ والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد و قوم‘ وصلى الله على نبينا محمد وسلم
وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
آڈیو فتوى



    پرنٹ 



فتوى دوسروں تک پہنچائیں
متعلقہ لنکس
Separator
فتوى گزشتہ
فتاوى متشابہہ فتوى آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 107
کل: 1855
موجودہ ہفتہ: 7913
ماہ رواں : 26290
امسال : 204626
آغاز سے: 823438
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 461
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 7
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :425884 ویں زائر ہیں
فی الحال 23حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :23
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator