محمد رفیق طاہر

نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کو آقا کہنا

فتوى
نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کو آقا کہنا
1921 زائر
مؤرخہ26-12-1439ھ بمطابق: 6-09-2018ء
غير معروف
محمد رفیق طاہر
السؤال كامل
کیا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو آقا اور مولى کہنا جائز ہے؟ میں نے ایک حدیث میں پڑھا تھا کہ مالک کو مولى نہ کہو؟
جواب السؤال

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو آقا و مولا کہنا جائز ودرست ہے۔ اسی طرح غلام کا اپنے مالک کو آقا یا مولا کہنا بھی جائز ہے۔ جس روایت کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے وہ امام مسلم نے یوں ذکر کی ہے:

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَايَ وَلَا يَقُلْ الْعَبْدُ رَبِّي وَلَكِنْ لِيَقُلْ سَيِّدِي و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا وَلَا يَقُلْ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ مَوْلَايَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَإِنَّ مَوْلَاكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

صحيح مسلم: 2249

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی ’’میرا بندہ‘‘ نہ کہے تم سبھی اللہ کے بندے ہو , بلکہ وہ کہے ’’میرا جوان‘‘ اور غلام بھی ’’میرا رب‘‘ نہ کہے بلکہ وہ کہے ’’میرا آقا‘‘ ایک دوسری سند سے اسی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ غلام اپنے آقا کو ’’میرا مولا‘‘ نہ کہے ۔ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ یقینا تمہارا مولا اللہ عز وجل ہے۔

یہ روایت ان آخری الفاظ (غلام اپنے آقا کو ’’میرا مولا‘‘ نہ کہے) کے ساتھ محفوظ نہیں‌ ہے بلکہ اصل الفاظ وہی ہیں‌ جنکو امام مسلم نے پہلی سند کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور پھر مزید وضاحت کے لیے اگلی سند میں‌ ان الفاظ کو اور واضح کیا ہے

ملاحظہ ہو

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلَايَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی یہ نہ کہے ’’ اپنے رب کو پلا, اپنے رب کو کھلا, اپنے رب کو وضوء کروا‘‘ اور تم میں سے کوئی (اپنے مالک کو) ’’میرا رب‘‘ نہ کہے ۔ (غلام) میرا آقا میرا مولا کہے اور تم (مالکوں ) میں سے کوئی ’’میرا بندہ میری بندی‘‘ نہ کہے بلکہ کہے ’’میراجوان, میری لڑکی,میرا غلام‘‘۔

صحيح مسلم: 2249

نیز یہی الفاظ امام بخاری رحمہ الباری نے اپنی صحیح میں‌ بھی بایں سندنقل فرمائے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ اسْقِ رَبَّكَ وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلَايَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلَامِي

کتاب العتق باب کراہیۃ التطاول على الرقیق حـــ 2552

جواب السؤال صوتي
   طباعة 
متعلقہ لنکس
جديد المواد

مقتدی کا سمع اللہ لمن حمدہ کہنا

2035 مؤرخہ13-09-1441ھ بمطابق: 5-05-2020ء

نمازوں کی رکعات

1851 مؤرخہ11-09-1441ھ بمطابق: 4-05-2020ء

سجدہ سہو کے مسائل

1336 مؤرخہ10-09-1441ھ بمطابق: 3-05-2020ء
البحث
القائمة البريدية