أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

پہلے تشہد میں درود اور دعاء کا حکم

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
پہلے تشہد میں درود اور دعاء کا حکم

پہلے تشہد میں درود اور دعاء کا حکم

محمد رفیق طاہر، عفى اللہ عنہ

www.rafiqtahir.com

اللہ تبارک وتعا لی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے :

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

’’یقینا اللہ تعالی اور اس کے فرشتے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے ایما ن والو ں تم بھی آپ ﷺ پر صلاۃ و سلام بھیجو ‘‘

[الأحزاب: 56]

اس آیت مبارکہ کا حکم عام ہے اور یہ نماز کو بھی شامل ہے ۔ جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے سوالات سے ظاہر ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہو ں نے سوال کیا کہ ہم سلام تو سیکھ چکے ہیں صلوۃ کیسے پڑھیں۔ چنانچہ ابو مسعود انصاری عقبہ بن عمر و رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :

أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ , فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلَاتِنَا؟ , قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ , ثُمَّ قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ , كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ , وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ , كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

’’ایک آدمی آیا وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا اور ہم بھی موجود تھے وہ کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ ’’سلام ‘‘ تو ہم سیکھ چکے ہیں تو صلاۃ ہم اپنی نمازوں میں آپ پر کیسےبھیجیں (یہ بات سن کر رسو ل اللہ ﷺ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے چاہا کہ کاش یہ آدمی سوال ہی نہ کر تا ۔ پھر آپ نے فرما یا جب تم مجھ پر صلاۃ بھجو تو کہو ’’ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ .... الخ

[ سنن دار قطنی کتاب الصلاۃ باب ذکر وجوب الصلاۃ علی النبی فی التشھید (1339)]

اسی طرح صحیح مسلم میں ایک روایت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم سعد بن عبادۃ کی مجلس میں بیٹھے ہو ئے تھے کہ رسو ل اللہ ﷺ تشریف لائے تو بشیر بن سعد نے سوال کیا کہ

أَمَرَنَا اللهُ تَعَالَى أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ

اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آ پ ﷺ پر صلاۃ بھیجیں تو ہم کیسے آپ ﷺ پر درود بھیجیں نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم تمنا کر نے لگے کہ آ پ سے سوال نہ کر نا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ۔۔۔۔الخ اور سلام (ویسے ہی )جیسے تم سیکھ چکے ہو۔

[مسلم کتاب الصلاۃ باب الصلاۃ علی النبی بعد التشہد(405)]

درج بالا ادلہ سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے کا حکم اللہ نے سورہ احزاب میں دیا ہے اس آیت مبارکہ کے نزول کے بعد صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ سے طریقہ درود سیکھا تو آپ نے انہیں نماز والا درود (درود ابراہیمی ) سکھایا ۔لہذا یہ ثابت ہوا کہ نماز میں تشہد کے بعد درود پڑھنا اللہ کا حکم ہے اور یہ فرض ہے ۔

نبی کریم ﷺ بھی نماز میں درمیانے اور آخری دونوں قعدوں میں تشہد کے بعد درود پڑھا کر تے تھے جس پر درج ذیل احادیث دلالت کر تی ہیں ۔

عن عائشه رضی الله عنهاقالت : كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ يَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُصَلِّى تِسْعَ رَكَعَاتٍ لاَ يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلاَّ عِنْدَ الثَّامِنَةِ ، فَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّى عَلَى نَبِيِّهِ ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلاَ يُسَلِّمُ ، ثُمَّ يُصَلِّى التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ ، ثُمَّ يَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُصَلِّى عَلَى نَبِيِّهِ ، وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما بیان فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے تو جب اللہ کی مرضی ہو تی آپﷺ کو رات کے وقت بیدار فرمادیتا تو آپﷺ مسواک فرماتے پھر نو(9) رکعتیں پڑھتے ان میں صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے اللہ سے دعا مانگتے درود پڑھتے پھر کھڑے ہو جاتے سلام نہ پھرتے پھر نویں (9) رکعت پڑھتے اس کے آخر میں بیٹھتے اللہ کی حمد بیان کرتے اس کے نبی ﷺ پر درود بھیجتے اور دعا مانگتے پھر سلام پھیردیتے ۔۔الخ

[سنن البيهقي کتاب الصلاۃ باب في قیام اللیل (2/499/4822)، سنن ابن ماجه کتاب الصلاۃ والسنة فيها باب ماجاء فی الوتر بثلاث و خمس و تسع(1191)]

یہی حدیث صحیح مسلم میں بایں الفاظ مروی ہے:

وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّ التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا

اور آپ ﷺ نو(9) رکعتیں پڑھتے صرف آٹھویں رکعت میں (تشھد) بیٹھتے (اس سے قبل نہ بیٹھتے ) پس اللہ کا ذکر کر تے اس کی حمد بیا ن کر تے دعا مانگتے پھرکھڑ ے ہو جاتے سلام نہ پھرتے پھر نو یں رکعت پڑھتے اس میں (تشھد ) بیٹھتے اللہ کا ذکر کر تے اسکی حمد بیان کرتے اور دعا مانگتے پھر سلام پھیر دیتے ۔۔۔الخ

[مسلم كتاب صلاۃ المسافرین وقصرها باب جامع صلاۃ اللیل ومن نام عنه أو مرض (746)]

امام احمدؒ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مسانید میں اس روایت کو یو ں نقل کیا ہے

ثُمَّ يُصَلِّي ثَمَانِي رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَجْلِسُ وَيَذْكُرُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو وَيَسْتَغْفِرُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ فَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا..... الخ

پهرآٹھ رکعتیں پڑھتے صرف آٹھویں رکعت میں ہی (تشھد ) بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کر تے دعا مانگتے استغفار کر تے پھر کھڑئے ہو جاتے سلام نہ پھرتے پھر نویں رکعت پڑھتے اللہ کی حمد بیان کرتے اسکا ذکر کرتے دعا مانگتے پھر سلام پھیرتے ۔۔ الخ

[مسند احمد 24269]

تو ان احادیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نو رکعتیں پڑھتے ان میں صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے اللہ کا ذکر ، اس کی حمد بیان کر تے اور اسکے نبی ﷺ پر درود پڑھتے دعا مانگتے ، استغفار کر تے پھر کھڑے ہو جاتے سلام نہ پھرتے پھر نویں رکعت پڑھتے ـــــالخ

ایک دوسری روایت جو کہ ( بخاری و مسلم )میں موجود ہے جس میں نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام کو تشہد پڑھنے کا طریقہ سکھایا ہے اس میں بھی تشھد کے بعد دعا مانگنے کا حکم نبی کریم ﷺ نے دیا ہے

[بخاری کتاب الاستئذان، باب السلام من أسماء اللہ تعالی (6230) ، کتاب الاذان (835) مسلم کتاب الصلاۃ باب التشھد فی الصلوۃ (402) ]

اسی طرح یہ حدیث سنن نسائی میں شرط مسلم پر ان الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے :

ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ بَعْدُ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ يَدْعُو بِهِ

پھر جو دعا اسکو پسند ہو وہ دعا مانگے۔

[نسائی کتاب صفۃ الصلاۃ باب تخییر الدعا بعد الصلاۃ علی النبیﷺ1298]

جس سے معلوم ہو تا ہے کہ نبی کر یم ﷺ اور صحابہ کرام تشہد اور دعا پڑھا کرتے تھے ۔خواہ تشہد درمیانی ہو یا آخری کیونکہ تخصیص کی کو ئی دلیل نہیں ہے۔ پھر ’’5‘‘؁ ھ میں سورۃ الا حزاب کے نازل ہو نے کے بعد تشہد اور دعا کے درمیان صلوۃ (درود) کا اضافہ کیا گیا جیسا کہ سابقہ احادیث سے معلوم ہو تا ہے ۔لہذا پہلے اور دوسرے دونوں قعدوں میں تشہد کے بعد درود بھی پڑھنا چاہیے اور دعا بھی مانگنی چایئے پہلے اور دوسرے قعدے میں درود یا دعا کا ترک کر دینا خلاف سنت ہے ۔

مانعین کے دلائل کا جائزہ

پہلی دلیل:

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ»، قَالَ: قُلْنَا: حَتَّى يَقُومَ؟ قَالَ: «حَتَّى يَقُومَ»

ابو عبیدہ اپنے والد گرامی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب دو رکعتوں (کے تشہد) میں ہو تے تو یو ں ہو تا کہ گویا آپﷺ پتھر پر ہیں (شعبہ ) کہتے ہیں کہ ہم نے کیا جب تک آپ ﷺ کھڑے نہ ہوتے تو ( سعد بن ابراہیم نے ) کیا جب تک آپ ﷺ کھڑئے نہ ہو تے ( یعنی بہت جلد درمیانی تشہد سے کھڑے ہو جاتے تھے ۔

[سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی تخفیف القعود(995)]

محاکمہ: ۔

اولا: اس روایت کو ابو عبیدہ عامربن عبداللہ بن مسعود اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہا ہے جبکہ ابو عبیدہ کا سماع اپنے والد عبداللہ بن مسعود سے ثابت نہیں ہے لہذا یہ حدیث انقطاع کی وجہ سے ضعیف اور ناقابل عمل ہے ۔

ثانیا: اس روایت کے الفاظ درمیانے قعدے کےاختصار پر تو دلالت کر تے ہیں مگر تشہد ہی کے الفاظ پر اکتفاءکرنے اور درود نہ پڑھنے اور دعا نہ کر نے پر بالکل دلالت نہیں کر تے ہیں لھذا یہ روایت درود نہ پڑھنے کی دلیل ہی نہیں بنتی ۔

دوسری دلیل :

عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَزِيدُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ عَلَى التَّشَهُّدِ»

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو رکعتوں ( یعنی درمیانے تشہد میں ) تشہد سے زیادہ کچھ نہ پڑھتے ۔

[مسند أبی یعلى 7/337(4373)]

محاکمہ

اولا: مسند ابی یعلی الموصلی میں اس کی سند یوں ہے :

نا ابومعمر اسماعیل بن ابراھیم ثنا عبد السلام بن حرب عن بدیل بن میسرۃ عن أبی الجوزاء عن عائشۃ

تو اس سند میں ابو الجوزاء عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیا ن کر رہا ہے جبکہ محدثین کی تحقیق کے مطابق ابو الجو زاء کا عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے جیسا کہ حافظ صاحب نے تھذیب التھذیب میں ابن عدی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ

وقول البخاري فی اسناده نظر یرید أنه لم یسمع من مثل ابن مسعود وعائشة وغیرهما

’’ اور بخاری کا یہ کہنا کہ اس سند محل نظر ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اس ( ابو الجوزاء) نے عبد اللہ بن مسعو د اور عائشہ وغیرہ جیسو ں سے نہیں سنا ‘‘ لہذا یہ روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے ۔

[ تہذیب التہذیب 1/ 335(702)]

ثانیا: علی بن أبی بکر الھیثمی نے مجمع الزوائد و منبع الفوائد [2/142] میں اس روایت کو نقل کر نے کے بعد لکھا ہے

رواه أبو يعلى من رواية أبي الحويرث عن عائشة والظاهر أنه خالد بن الحويرث وهو ثقة وبقية رجاله رجال الصحيح

اسکو ابو یعلی نے ابو الحویرث عن عائشہ بیان کیا ہے اور ظاہر بات یہ کہ وہ خالد بن الحویرث ہے اور وہ ثقہ ہے اور اسکے باقی تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

لیکن مجھے مسند ابو یعلی میں تو یہ روایت نہیں ملی جو ابو الحویرث عن عائشہ کے طریق سے مروی ہے شاید کسی اور جگہ ہو گی بہر حال اس کی سند میں بھی مقال ہے کیو نکہ ابو الحویرث جو عائشہ سے روایت کر تا ہے طبقہ ثالثہ ( طبقہ وسطی من التابعین ) میں سے ہے اور وہ مجہول ہے جیسا کہ میزان میں ہے :

ابو الحویرث عن عائشة لا یعرف فان کان الأول فلم یدرك عائشة

وہ ابو الحویرث جو عائشہ سے روایت کرتا ہے وہ تو معروف نہیں ( مجہو ل ) ہے اگر پہلا ( ابو الحویر ث یعنی عبد الرحمن بن معاویہ) مراد ہے تو اس نے عائشہ کو نہیں پایا ہے۔

[ میزان الاعتدال فی نقد الرجال 7/359(10144)]

تو ابوالحویرث کی روایت دونوں صورتو ں میں مقبول نہیں بن سکتی ہے کیونکہ ایک ابو الحو یر ث جو عائشہ سے روایت کرتا ہے وہ تو ہے ہی مجہول اور دوسرا ابو الحو یرث جوعبد الر حمن بن معاویہ ہے اس نے ابن عباس کو تو پایا ہے مگر عائشہ کو نہیں پایا لہذا اس صورت میں روایت منقطع ہے۔ رہا علامہ ہیثمی کا یہ کہنا کہ یہ ابو الحو یرث نہیں بلکہ خالد بن الحو یر ث ہے تو وہ بھی مجہول ہے، علامہ مزی تہذیب الکمال 8/41(1600) میں رقمطراز ہیں :

’’قال عثمان بن سعيد الدارمي سألت يحيى بن معين عنه فقال لا اعرفه قال أبو احمد بن عدي وخالد هذا كما قال بن معين لا يعرف وانا لا أعرفه أيضا وعثمان بن سعيد كثيرا ما سأل يحيى بن معين عن قوم فكان جوابه ان قال لا اعرفهم وإذا كان يحيى لا يعرفه فلا تكون له شهرة ولا يعرف‘‘

’’ عثمان بن سعید دارمی کہتے ہیں کہ میں نے یحی بن معین سے اس ( خالد بن حویر ث ) کے بارے میں سوال کیا تو فرمایاکہ میں اسے نہیں پہچانتا ، ابو احمد بن عدی کہتے ہیں اور یہ خالد (ابن الحویرث) جیسا کہ ابن معین نے کہا ہےمجہول ہے، اور میں بھی اسے نہیں جانتا اور عثمان بن سعید اکثر جب یحی بن معین سے لو گو ں کے متعلق پو چھتے اور وہ انکو مژدہ ’’لا أعرفھم‘‘ سنا دیتے تو اس وقت صورت حال یہ ہو تی کہ جب یحیی کسی کو نہ جانتے ہوئے تو نہ ہی اسکو شہرت حاصل ہو تی تھی اور نہ ہی وہ معروف ہو تا تھا (یعنی ارباب علم کے ہاںوہ مجہول قرار پاتا ) ۔

ابن حبان کا اسکو کتاب الثقات میں ذکر کرنا کسی کام کا نہیں ہے کیونکہ محدثین کے ہان ابن حبان کی تو ثیق مقبو ل نہیں ہے ۔

حاصل کلام

یہ کہ یحیی بن معین جیسے امام الجرح والتعدیل اعلم الناس بالرجال نے بھی خالد بن الحویرث کو مجہول قرار دیا ہے لہذا اسکی روایات بھی ساقط الاعتبار ہیں تونتیجہ یہ کہ سیدہ عائشہ سے روایت کر نیوالا خالد بن حویر ث ہو ابو الحویر ث ہو ۔یا دوسرا ابو الحویرث یعنی عبدالرحمان بن معاویہ ہو تینو ں صورتوں میں یہ روایت ناقابل احتجاج ہے دو کی جہالت اور ایک کی عدم لقاء کی وجہ سے ۔


468 زائرین
مؤرخہ9-09-1441ھ بمطابق: 2-05-2020ء
3 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
نمازوں کی رکعات - مقالات نماز
سجدہ سہو کے مسائل - مقالات نماز
نماز اور ہم - مقالات نماز
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 73
کل: 2762
موجودہ ہفتہ: 6126
ماہ رواں : 14429
امسال : 270950
آغاز سے: 437134
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 460
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 6
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :195890 ویں زائر ہیں
فی الحال 5حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :5
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator