أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سجدہ سہو کے مسائل

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
سجدہ سہو کے مسائل

سجدہ سہو کے مسائل

محمد رفیق طاہر عفى اللہ عنہ

www.rafiqtahir.com

جب نماز میں انسان کو شک ہو کہ اس نے رکعتیں کم یا زیادہ پڑھ لی ہیں , یا درمیانہ تشہد بھول جائے تو ایسی صورت میں سلام سے قبل یا بعد میں دو سجدے کیے جاتے ہیں جنہیں سجدہ سہو کہا جاتا ہے ۔ ان کے لیے نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل طریقے ثابت ہیں :

شک کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے :

وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ

جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو , تو وہ درست بات سوچ لے اور پھر اسی پر اپنی نماز مکمل کرلے , پھر سلام پھیرے اور اسکے بعد دو سجدے کر لے ۔

[صحيح البخاري : 401]

شک کی صورت میں سلام پھیرنے سے قبل دو سجدے :

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ»

سیدنا أبو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے , وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں شک کرے اور اسے یقین نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ شک کو دور کرے اور جو بات اسے یقینی معلوم ہوتی ہے اسے بنیاد بنا لے , اور پھر سلام پھیرنے سے قبل دو سجدے کر لے , اگر تو اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لیں تو یہ دو سجدے اسکی نماز کو جفت کر دیں گے اور اگر اس نے نماز مکمل پڑھی ہے تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت کا سبب بن جائیں گے ۔

[صحیح مسلم : 571]

ایک رکعت زائد پڑھ لینے پر سلام کے بعد دو سجدے :

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقَالُوا: أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ؟ قَالَ: «وَمَا ذَاكَ» قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا ، فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ

عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھا دی , تو لوگوں نے کہا کیا نماز کی رکعتیں زیادہ ہوگئی ہیں ؟ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیسے ؟ تو انہوں نے کہا آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں , تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنی ٹانگوں کو موڑا اور دو سجدے کیے ۔

[صحیح البخاری: 404]

ادھوری نماز پڑھ لینے پر سلام کے بعد دو سجدے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، فَقِيلَ: صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ "

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز دو رکعتیں پڑھائی , تو لوگوں نے کہا کہ آپ نے صرف دو رکعتیں پڑھائی ہیں تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں مزید پڑھا کر سلام پھیرا اور اسکے بعد دو سجدے کیے ۔

[صحيح البخاري : 715]

درمیانہ تشہد بھول جانے پر سلام پھیرنے سے قبل دو سجدے :

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: «صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ، فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ سَلَّمَ»

سيدنا عبد الله بن مالك بن بحينہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد بیٹھنا تھا مگر وہ کھڑے ہوگئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہی کھڑے ہوگئے, تو جب آخری رکعت تھی , اور ہم آپکے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے تو آپ نے (تشہد کی حالت میں) بیٹھے ہوئے ہی سلام سے قبل دو سجدے کیے , پھر سلام پھیرا ۔

[صحیح البخاری : 830]

سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھنا :

کچھ لوگ سجدہ سہو کرنے کے بعدتشہد پڑھتے ہیں اور پھر سلام پھیرتے ہیں , اسکے لیے بطور دلیل وہ یہ روایت پیش کرتے ہیں :

امام ابو داود فرماتے ہیں :

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ، ثُمَّ سَلَّمَ»

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی , تو اس دوران ان سے بھول ہوگئی , تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا ۔

[سنن أبي داود : 1039]

تجزیہ

یہ روایت بظاہر تو صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ لیکن حقیقت میں یہ روایت ضعیف (شاذ) ہے ۔

کیونکہ سلمہ بن علقمہ نے محمد بن سیرین سے پوچھا کہ ان دو سجدوں کے بعد تشہد بھی ہے ؟ تو محمد بن سیرین نے کہا کہ میں نے تشہد کے بارہ میں کچھ بھی نہیں سنا! ۔

(سنن ابی داود : 1010)

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کو بیان کرنے میں محمد بن سیرین کے شاگرد اشعث بن عبد الملک الحُمرانی کو غلطی لگ گئی تھی کہ انہوں نے سجدہ سہو کے بعد تشہد کا ذکر کر دیا ۔ کیونکہ استاذ صاحب نے تو سجدہ سہو کے بعد تشہد اپنے شیخ سے سنا ہی نہیں ! تو اس استاذ کے شاگرد کے پاس یہ الفاظ کیسے پہنچ گئے اور وہ بھی اسی استاذ سے روایت کر رہا ہے جس نے تشہد کے الفاظ کی نفی کی ہے ۔

اور پھر یہی روایت جو سیدنا عمران حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے سنن الکبرى از ا مام بیہقی میں ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے :

فَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ

آپ صلى اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے , (بقیہ) نماز پڑھی , پھر سجدہ کیا , پھر تشہد پڑھا ,اور سلام پھیرا , اور سہو کے دو سجدے کیے , پھر سلام پھیرا

[السنن الکبرى للبیہقی : 3898]

اور اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہی صحیح ہے ۔ اور اس روایت کو بیان کرنے سے قبل فرماتے ہیں :

وَفِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ ذَكَرَ التَّشَهُّدَ قَبْلَ السَّجْدَتَيْنِ وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى خَطَأِ أَشْعَثَ

اور ہشیم کی روایت میں تشہد کا ذکر سجدہائے سہو سے قبل کیا ہے , اور یہ بات اشعث کی غلطی پر دلالت کرتی ہے ۔

[السنن الکبرى للبیہقی , ج2, ص499, حـ 3897]

اس وضاحت سے ثابت ہوا کہ سجدہ سہو کرنے کے بعد تشہد پڑھنا نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے ۔

404 زائرین
مؤرخہ10-09-1441ھ بمطابق: 3-05-2020ء
3 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 35
کل: 2762
موجودہ ہفتہ: 6088
ماہ رواں : 14391
امسال : 270912
آغاز سے: 437096
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 460
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 6
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :195886 ویں زائر ہیں
فی الحال 20حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :20
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator