تازہ ترین
حالت حیض میں طلاق => مسائل طلاق طلاق کی عدت => مسائل طلاق بدعی طلاق => مسائل طلاق حالت نفاس میں طلاق => مسائل طلاق بیک وقت تین طلاقیں => مسائل طلاق مباشرت کے بعد طلاق => مسائل طلاق اللہ تعالیٰ کی معیت => مسائل عقیدہ ایک مجلس کی تین طلاقیں => مسائل طلاق مفاہیم عشق => مقالات علم سے دوری کیوں؟ => مقالات

میلنگ لسٹ

بريديك

موجودہ زائرین

باقاعدہ وزٹرز : 59064
موجود زائرین : 10

اعداد وشمار

47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
272
فتاوى
56
مقالات
187
خطبات

تلاش کریں

البحث

مادہ

تراویح کا قصہ

درس کا خلاصہ

نماز تراویح کا ثبوت



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

تراویح کا قصہ

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

نبیﷺ نے رمضان کی راتوں کے قیام کے حوالے سے فرمایا ہے:

«مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا, غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» ([1])

’’جو آدمی رمضان کی راتوں میں قیام کرتا ہے بشرطیکہ وہ بندہ  مؤمن  ہو اور اس کی نیت ثواب کمانےکی ہو، تو اس کے  پچھلے سارے گناہ معاف  کردیے جاتے ہیں۔‘‘

رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک میں بھی اور  رمضان کے علاوہ بھی  گیارہ  رکعتیں پڑھا کرتے تھے  ۔جیسا کہ ام المؤ منین سیدہ عائشہ  صدیقہ﷞ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ  رمضان میں بھی اور رمضان کے علاوہ بھی  گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔([2])

سیدنا جابر ابن عبداللہ ﷜ کہتے  ہیں کہ نبی کریم ﷺ نےہمیں رمضان المبارک کے مہینے میں  آٹھ رکعتیں پڑھائی اور وتر پڑھایا۔ اگلی رات ہوئی تو ہم پھر جمع ہوئے کہ نبی ﷺ   ہمیں پھر قیام کروائیں گے۔ ہم صبح تک آپﷺ کا انتظار کرتے رہے، لیکن آپﷺ نے  جماعت نہ کروائی۔ (یہ تیسرے دن کی بات کر رہے ہیں۔ )اور آپﷺ نے فرمایا:

«إِنِّي خَشِيتُ - أَوْ كَرِهْتُ - أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ» ([3])

’’ مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں تم پر وتر  (تہجد کی نماز )فرض نہ  ہوجائے۔‘‘

سیدنا عبداللہ ابن جابر  ﷜ کہتے ہیں کہ اُبَیّ ابن کعب نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے:’’رمضان کی رات میں میرے ساتھ عجیب معاملہ ہواہے۔‘‘ آپﷺ نے پوچھا: ’’اے ابی! وہ کیا تھا؟‘‘ کہنے لگے: ’’میرے گھر میں عورتیں جمع تھیں، انہوں نے کہا کہ ہم قرآن اچھی طرح نہیں  پڑھ سکتیں، (زیادہ قرآن یاد نہیں ہے ) تو  آپ  ہمیں قیام کروا دو۔ میں نے انہیں آٹھ  رکعتیں پڑھائی اور وتر پڑھائے۔‘‘  نبیﷺ نے اس پرخاموشی اختیار کی اور کچھ نہیں کہا تو اس  عمل پر نبی ﷺ کی رضا مندی ہو گئی ۔([4])

سیدنا سائب بن یزید ﷜ کہتے ہیں کہ عمر ابن خطاب﷜ نے ابی ابن کعب﷜ اورتمیم داری﷜ کو حکم دیا کہ لوگوں  کو گیارہ رکعات پڑھائیں۔ ابی ابن کعب اور تمیم داری﷠ یہ مئین پڑھتے تھے۔ (مئین ان سورتوں کو کہتےہیں   جن کی آیات  سو سے زائد ہیں۔)قیام اتنا لمبا ہوتا  کہ ہم قیام میں سہارا لیا کرتےتھے۔ جب ہم  قیام کرکے (گیارہ  رکعتیں پڑھ کر) فارغ ہوتے   تو صبح ہونے کے قریب ہوتی تھی ۔([5])

عبد الرحمن ابن عبدالقاری کہتےہیں کہ میں سیدناعمر ابن الخطاب﷜ کے ساتھ ایک رمضان کی رات میں  مسجد میں گیا۔لوگ الگ الگ ٹولیوں میں تھے۔ کوئی بندہ اکیلا ہی اپنی تراویح  پڑھ رہا تھا۔کہیں ایک آدمی نماز پڑھا رہا تھا اور اس کے پیچھے چند لوگ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ اسی طرح  مختلف ٹولیوں  میں لوگ بٹے ہوئے تھے۔سیدنا  عمر فاروق ﷜ نے انہیں دیکھا اور فرمانےلگے: ’’میرا خیال ہے کہ ان کو ایک ہی قاری کے پیچھے  جمع کردیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔‘‘ چنانچہ انہوں نے ابی ابن کعب﷜ کو حکم دیا اور انہوں نےلوگوں کی امامت کروانا شروع کردی اور سارے  انہی کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے۔ کہتےہیں کہ پھر ایک اور رات میں سیدنا عمر ﷜ کےساتھ نکلا   اور مسجد میں گیا تو لوگ اپنےقاری کی اقتداء میں  باجماعت  نما ز تراویح ادا  کررہےتھے۔ سیدنا عمر ﷜ نے  انہیں دیکھا تو فرمایا: ’’یہ جو نیا کام ہم نےکیا ہے، یہ بہت ہی عمدہ ہے  اور رات کےجس پہر میں یہ سو جاتے ہیں   وہ پہر زیادہ بہتر ہے اس سے جس میں یہ قیام کرتےہیں۔‘‘ ([6])

یعنی رات کا آخری پہر زیادہ بہتر ہے۔

______________________________

([1])           البخاري (2009)، ومسلم (759)

([2])           البخاري (1147)، ومسلم (738)

([3])           ابن حبان (2409)

([4])           ابن حبان (2549)

([5])           مؤطا مالك (379) ت: الأعظمي

([6])           البخاري (2010)

 

  • الخميس PM 02:39
    2023-02-09
  • 301

تعلیقات

    = 7 + 3

    /500
    Powered by: GateGold