تازہ ترین
حالت حیض میں طلاق => مسائل طلاق طلاق کی عدت => مسائل طلاق بدعی طلاق => مسائل طلاق حالت نفاس میں طلاق => مسائل طلاق بیک وقت تین طلاقیں => مسائل طلاق مباشرت کے بعد طلاق => مسائل طلاق اللہ تعالیٰ کی معیت => مسائل عقیدہ ایک مجلس کی تین طلاقیں => مسائل طلاق مفاہیم عشق => مقالات علم سے دوری کیوں؟ => مقالات

میلنگ لسٹ

بريديك

موجودہ زائرین

باقاعدہ وزٹرز : 62855
موجود زائرین : 14

اعداد وشمار

47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
272
فتاوى
56
مقالات
187
خطبات

تلاش کریں

البحث

مادہ

جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز

درس کا خلاصہ

اگر کوئی نماز ادا کرچکا ہو تو وہ امام کے ساتھ بھی فرض نماز ادا کرلے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدنا یزید بن  الاسود ﷜ بیان کرتے ہیں کہ انہوں  نے نبی ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی تو جب رسول اللہﷺ نما زسے فارغ ہوئے تو آپﷺ نےدیکھا کہ دو بندے ہیں، انہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ انہیں آپﷺ نے بلایا۔ جب وہ آئے تو ان کے کندھوں کے پٹھے خوف کی وجہ سے کانپ رہے تھے۔ آپﷺ نے ان سے پوچھا:

«مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» قَالَا: قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا, إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمْ, ثُمَّ أَدْرَكْتُمْ الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ, فَصَلِّيَا مَعَهُ, فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ» ([1])

’’تمہیں کس چیز نے روکا تھا  کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟‘‘وہ کہنے لگے: ہم نے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپﷺ نےفرمایا: ’’ایسا نہ کیا کرو۔ جب تم اپنے گھرو ں  میں نماز پڑھ لیا کرو اورپھر امام کو تم پاؤ کہ امام نماز پڑھا رہا ہے تو امام کےساتھ نماز ادا کرو۔ یہ تمہارے  لیے نفل نماز ہوگی ۔‘‘

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی نماز ادا کرچکا ہو تو وہ امام کے ساتھ بھی فرض  نماز  ادا کرلے۔

بسا اوقات ایساہوتاہے کہ ایک مسجد  میں اس نے نما زادا کی اور پھر کسی کام سے دوسری  مسجد میں پہنچا تو وہاں  جماعت  شروع ہوگئی۔ اب وہ نہ تو وہاں سے نکلے اور نہ ہی بیٹھ کر انتظار کرے بلکہ وہ امام کے ساتھ شامل  ہوجائے اورباجماعت نما زادا کرلے ۔

ایک تو اس لیے کہ ایسا کرنا مسلمانوں کےنظم وضبط کےلیے ضروری ہے۔اگر  سکیوریٹی کےلیےیا کسی خاص مقصد کےلیے  نمازکےدوران پیچھے رہیں، وہ ایک  الگ امر ہے جو ضروری ہے لیکن فارغ بیٹھ جانا   کہ ہم نما زپڑھ چکے ہیں، اس لیے اب ہم جماعت کےساتھ شامل نہیں ہوں گے تو یہ طریقہ درست نہیں ہے ۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے:

«إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً، وَإِلَّا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ» ([2])

’’ایسے امراء تم پر حکمران بنیں گے جو نمازوں   کو لیٹ ادا کریں گے۔ تم  وقت  پر نما زادا کرلینا اور پھر  جب حکمران امام  تمہیں جماعت کروائے تو اس کےساتھ  پھر دوبارہ پڑھ  لو۔فتنہ کے خاتمے کےلیے تم نےوقت پر نماز پڑھنی ہے اگر حکومت کا مقرر کردہ امام  لیٹ  نما زپڑھائے تو مسلمانوں کے نظم  کو برقرار رکھنےکےلیے تم دوبارہ نما ز پڑھ لو، یہ تمہارے لیے نفل ہوجائے گی ۔‘‘

_______________________

([1])           أحمد (4/ 160 و 161)، والنسائي (2/ 112)، وأبو داود (575) و (576)، والترمذي (219)، وابن حبان (1564 و 1565)

([2])           مسلم (648)

 

  • الخميس PM 03:13
    2023-02-09
  • 360

تعلیقات

    = 3 + 6

    /500
    Powered by: GateGold