« حاملہ اور دودھ پلانے والی کا روزہ »






عورت کو دودھ پلانے

اور حمل کی وجہ سے روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے۔ لیکن انہیں روہ معاف نہیں ہے۔ ان ایام

میں اگر یہ روزہ نہیں رکھ سکتیں تو نہ رکھیں لیکن بعد میں انہیں روزوں کی قضاء

دینا ہوگی۔ انکا حکم بھی بیمار والا ہی ہے۔ اور بیمار کے بارہ میں اللہ تعالى کا

ارشاد ہے:





فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ

الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ

أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا

الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ





تم میں سے جو بھی

رمضان کے مہینے کو پائے اس پہ لازم ہے کہ وہ روزہ رکھے۔ اور جو بیمار ہو یا سفر پہ

ہو تو بعد کے دنوں میں(روزوں کی) گنتی پوری کرنا ہے۔ اللہ تعالى تمہارے ساتھ آسانی

چاہتا ہے تنگی نہیں چاہتا۔ اور تاکہ تم تعداد مکمل کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو

کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اور تاکہ تم شکرگزار بنو۔





سورۃ

البقرۃ: 185





کچھ لوگ یہ سمجھتے

ہیں کہ دائمی مریض یا حاملہ و مرضعہ (دودھ پلانے والی عورت) روزہ چھوڑ کر اسکی جگہ

فدیہ دے سکتی ہے۔ لیکن ان لوگوں کا یہ سمجھنا درست نہیں۔ کیونکہ مذکورہ بالا آیت

Ú©Û’ نازل ہونے Ú©Û’ بعد فدیہ Ú©ÛŒ رخصت منسوخ ہوگئی تھی۔ اسکی تفصیل Ú©Û’ سوال نمبر  247, سوال نمبر 248, سوال نمبر 249, سوال نمبر 250, سوال نمبر 251, اور سوال نمبر 252 ملاحظہ فرمائیں۔



» تاريخ النشر:
» تاريخ الحفظ:
» محمد رفیق طاہر | قدیم
.:: http://www.rafiqtahir.com/ur/ ::.