منقى اور کھجور کی نبیذ کا حکم

اگر اس میں نشہ
پیدا نہ ہو تو استعمال کیا جاسکتا ہے ۔



رسول اللہ صلى
اللہ علیہ وسلم نبیذ اس وقت تک پیتے تھے جب تک وہ مسکر یعنی نشہ آور نہ ہوتی ۔



عبد اللہ بن
عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :



 كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
يُنْتَبَذُ لَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَاللَّيْلَةَ
الَّتِي تَجِيءُ وَالْغَدَ وَاللَّيْلَةَ الْأُخْرَى وَالْغَدَ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ
بَقِيَ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَصُبَّ



رسول اللہ صلى
اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے آغاز میں نبیذ بنائی جاتی تھی اسے آپ اس دن صبح کو
نوش فرماتے اور آئندہ رات کو بھی اور دوسرے دن میں بھی , اور اس سے اگلی رات اور
تیسرے دن بھی عصر تک پی لیتے , اسکے بعد اگر وہ بچ جاتی تو وہ خادم کو پلا دیتے یا
پھر اسکے بارہ میں حکم دیتے تو اسے پھینک دیا جاتا۔



صحیح مسلم
: 2004

:
طباعة