بوتل کو منہ لگا کر پینے کا کیا حکم ہے ؟

مشکیزہ یا بوتل
سے پانی پیتے ہوئے کسی نقصان کا اندیشہ ہو مثلا کوئی زہریلا کیڑا وغیرہ پیٹ میں
جانے کا خطرہ تو پھر اسے منہ لگا کر پینے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ اور اگر ایسا خدشہ
نہ ہو تو منہ لگا کر بھی پیا جاسکتا ہے ۔



کبشہ رضی اللہ
عنہا فرماتی ہیں:



دَخَلَ عَلَيَّ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ
قَائِمًا فَقُمْتُ إِلَى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ



رسول اللہ صلى
اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ایک لٹکے ہوئے
مشکیزہ سے کھڑے ہوکر منہ لگا کر پیا , تو میں نے اس مشکیزہ کا منہ کاٹ (کر محفوظ
کر) لیا۔



جامع الترمذي : 1892



سیدنا ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :



نَهَى النَّبِيُّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ



نبی کریم صلى
اللہ علیہ وسلم نے مشکیزہ کو منہ لگا کر پینے سے منع فرمایا۔



صحيح البخاري: 5628



 

:
طباعة