ڈیجیٹل کیمرے سے بنائے جانے والے مناظر تصویر ہیں یا عکس ؟

کیمرہ
ڈیجیٹل ہو یا نان ڈیجیٹل دونوں سے حاصل ہونے والے مناظر تصویر ہی کہلائیں گے , اگر
وہ تصویر ذی روح کی ہے تو شرعا حرام اور نا جائز ٹھہرے گی ۔  کیونکہ ان کیمروں سے تصویر حاصل کرنے کا بنیادی
اصول وہی ہے جو اولین کیمرہ کی ایجاد کے وقت تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان
تصاویر کو محفوظ کرنے کے طریقہ میں کچھ فرق آیا ہے ۔  پرانے کیمرہ کے ذریعہ تصویر کو فیتے پر نقش
کرکے محفوظ کیا  جاتا تھا اور پھر اسے
کیمائی عمل سے گزار کر کسی کاغذ , کپڑے یا گتے پر تصویر کو اتار لیا جاتا تھا ۔
اور اس جدید ڈیجیٹل کمیرہ میں کسی بھی منظر کی روشنیوں کو ہندسوں میں محفوظ کر لیا
جاتا ہے اور پھر اس محفوظ شدہ معلومات کی مدد سے نئی روشنیاں پیدا کرکے اصل جیسا
منظر بنا کر سکرین پر ظاہر کیا جاتا ہے ۔ 
اس اعتبار سے ڈیجیٹل تصویر کو کھینچنے والا اور اسے سکرین پر لانے والا
دونوں ہی مصور ٹھہرتے ہیں ۔ پہلی مرتبہ تصویر کھینچنے والا معلم وامام اور اسکے
بعد اسے اپنی کسی بھی ڈیوائس کی سکرین پر لانے والا تلمیذ و مقتدی , مصور ہونے میں
دونوں برابر ہیں , فرق صرف اتنا کہ پہلے نے معلومات اکھٹی کیں اور بعد والے نے
اپنی مشین کو  ان معلومات کی مدد سے
روشنیاں جمع کرکے تصویر بنا کر سکرین پر پیش کرنے کا حکم دیا ۔

ان
مناظر کو عکس قرار دینا بالکل غلط ہے , کیونکہ عکس , صاحب عکس کے تابع ہوتا ہے ۔ جونہی
صاحب عکس غائب ہو عکس بھی غائب ہو جاتا ہے , کیونکہ عکس میں ہوتا یوں ہے کہ جب کسی
چیز پر جو روشنی پڑتی ہے وہی روشنی اپنی حالت کو برقرار رکھتے ہوئے ہماری آنکھوں
تک پہنچتی ہے ۔ جبکہ ان تصاویر میں ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جنہیں فناء
ہوئے اک زمانہ بیت چکا ہے ۔  کیونکہ ان
ڈیجیٹل تصاویر میں روشنیوں کو برقی لہروں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور یہ لہریں
رموز (کوڈز مثلا 111100010010000100) کی صورت میں محفوظ ہو جاتی ہیں  , اور جب ضرورت ہو تو انہیں رموز کی مدد سے نئی
برقی لہریں پیدا کی جاتی ہیں اور اصل منظر کے مشابہ منظر پیدا کیا جاتا ہے ۔  یعنی ڈیجیٹل سسٹم کے تحت جو روشنی ہم تک پہنچتی
ہے وہ روشنی اصل منظر پر پڑ کر منعکس ہونے والی روشنی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ
روشنی اپنی اصلی حالت پر برقرار رہتی ہے , لہذا اسے عکس قرار دینا سراسر بے انصافی
اور عدم واقفیت کا نتیجہ ہے ۔

اور
تصویر کی حرمت کے لیے شریعت اسلامیہ جو وجہ بیان فرمائی ہے وہ ان جدید تصاویر میں
قدیم تصویروں کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے ۔ لہذا یہ جدید تصاویر پرانی ہاتھ سے
بنائی جانے والی تصویروں کی نسبت زیادہ سخت حرام ہیں ۔

رسول اللہ صلى اللہ علیہ
وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالى نے فرمایا :

 وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يخْلُقُ
كَخَلْقِي فَلْيخْلُقُوا حَبَّةً وَلْيخْلُقُوا ذَرَّةً

 [ صحيح بخاري كتاب اللباس باب نقض الصور (5953)]

اس شخص سے بڑا ظالم کون
ہے جو میری مخلوق جیسی تخلیق کرنا چاہتا ہے , یہ کوئی دانہ یا ذرہ بنا کر دکھائیں
۔

مزید فرمایا :

 أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يوْمَ الْقِيَامَةِ
الَّذِینَ يضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ

[صحيح
بخاري كتاب اللباس باب ما وطئ من التصاوير (5954)]

قیامت کے دن سب سے زیادہ
سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی تخلیق کی نقالی کرتے ہیں
۔

یعنی
اللہ سبحانہ وتعالى کو اپنی مخلوق  کی نقل
اتارنا ہی ناگوار ہے ۔ جب نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان جاری کیا اس
وقت تصاویر ہاتھ سے بنائی جاتی تھیں اور وہ اصل کے اتنی زیادہ مشابہہ نہ ہوتی تھیں
جتنی کہ دور جدید کی تصاویر ہیں ۔ جب ایسی تصاویر جو اصل سے تھوڑی بہت یا کسی حد
تک مشابہت رکھتی ہوں وہ حرام ہیں تو ان تصاویر کی حرمت کتنی شدید ہوگی جو اصل
تقریبا کلی مطابقت رکھتی ہیں !

  البتہ
غیر ذی روح اشیاء کی نقل اور شبیہ تیار کرنے کی اللہ نے اجازت دی ہے ۔ اسے یونہی
سمجھ لیں جیسے کسی بھی سافٹ ویر کے فل ورژن کی کاپی کرنا ہر کمپنی کی طرف سے ممنوع
ہوتا ہے جبکہ ٹرائل ورژن کی جتنی بھی کاپی کر لی جائے اس پر کاپی رائٹ کا قانون
حرکت میں نہیں آتا ۔ ذی روح اشیاء اللہ کی کمال صنعت گری کا شہکار ہیں سو اللہ
تعالى نے انکی نقل اتارنے , تصویر بنانے , شبیہ تیار کرنے سے سختی سے منع فرما دیا
ہے ۔

هذا
والله تعالى أعلم وعلمه أكمل وأتم ورد العلم إليه أسلم والشكر والدعاء لمن نبه
وأرشد وقوم





























 

:
طباعة