« کلمہ گو مشرک کا ذبیحہ »






  کلمہ گو مشرک کا ذبیحہ اہل کتاب کے ذبیحہ کی طرح یا ان کے ذبیحہ سے بہتر

ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کا ذبیحہ اہل اسلام کے لیے حلال قرار دیا

ہے، اس لیے کہ وہ اپنے ذبیحوں پر اللہ کا نام لیتے تھے۔





یہود و نصاریٰ نے عزیر

اور مسیح عیسى بن مریم علیہما السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے کر صریح شرک کا

ارتکاب کر لیا تھا، لیکن وہ کتاب کو مانتے تھے اور ذبیحہ پر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے

تھے، اس لیے ان کا ذبیحہ امت مسلمہ کے لیے حلال قرار دیا گیا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص

قرآن کو مانتا ہے، اللہ تعالیٰ پر اعتقاد رکھتا ہے، اگرچہ اس کے عقیدہ میں خرابی و

فساد آچکا ہے، لیکن جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے تو اس کا ذبیحہ حلال

ہی تصور ہوگا۔





خیبر کے یہود نے نبی اکرم

صلى اللہ علیہ وسلم کو بھنی ہوئی بکری پیش کی، جس کی دستی میں زہر بھر دیا تھا، آپ

نے اس دعوت کو قبول کیا اور اس میں سے گوشت کھایا۔  





صحیح البخاری : 4249



» تاريخ النشر:
» تاريخ الحفظ:
» محمد رفیق طاہر | قدیم
.:: http://www.rafiqtahir.com/ur/ ::.