« عورت آسیب زدہ عورت کو دم کرسکتی ہے؟ »






 وعلیکم  السلام

ورحمۃ اللہ وبرکاتہ





کتاب وسنت کے احکامات مرد وعورت کے لیے برابر ہیں ۔ الا کہ

قرآن یا حدیث میں کسی عمل کے مرد یا عورت کے ساتھ خاص ہونے کی کوئی دلیل ہو۔





رقیہ (یعنی دم) کو کتاب وسنت میں مرد کے ساتھ خاص کرنے کی

کوئی دلیل نہیں ہے ۔





رہی یہ بات کہ آسیب زدہ (جن زدہ) عورت کو خاتون راقی (دم

کرنے والی) قابو نہیں کرسکتی , تو یہ محض بات ہی ہے۔ وگرنہ بسا اوقات تو مرد

راقی(دم کرنے والے مرد) سے بھی آسیب زدہ مرد یا عورت قابو نہیں ہوتے ۔ تو اگر اس

علت کی بناء پر عورت کو دم کرنے سے منع کیا جائے تو مرد کو بھی منع کیا جائے گا!

جوکہ واضح طور پر غلط اقدام ہے۔





ہاں عورت جب رقیہ (دم ) پڑھے تو اسکی آواز غیر محرم مردوں

تک نہیں پہنچنی چاہیے ۔ یہ مطلوب شریعت ہے۔



» تاريخ النشر:
» تاريخ الحفظ:
» محمد رفیق طاہر | قدیم
.:: http://www.rafiqtahir.com/ur/ ::.