« اہل الحدیث نام رکھنا »






کسی شخص ‘ گروہ ‘ یا

ادارہ کا نام اسکی پہچان ہوتا ہے۔  اللہ

سبحانہ وتعالى نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :





يَا أَيُّهَا

النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ

لِتَعَارَفُوا





اے لوگو! ہم نے تمہیں

ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تمہیں خاندانوں اور قبیلوں میں تقسیم کر

دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔





[الحجرات : 13]





یہ نام کسی انسان ‘

یا جماعت‘ یا ادارہ میں موجود اوصاف کی وجہ سے بھی رکھے جاتے ہیں تاکہ ان ناموں سے

مسمى کی صفات کا اندازہ ہوسکے۔ اور اگر کسی کی صفات متعدد ہوں تو اسکے نام بھی

متعدد ہوسکتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالى کے صفاتی نام ہیں ۔ ان میں سے ہر

صفاتی نام اللہ تعالى کی ایک خوبی اور صفت پر دلالت کرتا ہے۔ اہل اسلام کی اطاعت وفرمانبرداری

کے سبب اللہ تعالى نے انکا نام "مسلم" رکھا ہے ۔





هُوَ سَمَّاكُمُ

الْمُسْلِمينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَذَا





اس سے پہلے بھی اور

اب بھی اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔





[الحج : 78]





اسی طرح اللہ تعالى نے دیگر صفات کی

بناء پر مسلمانوں کو اور ناموں سے بھی پکارا ہے جیسے "حزب اللہ‘ مؤمنون‘

وغیرہ۔ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:





فَادْعُوا

بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ المُسْلِمِينَ المُؤْمِنِينَ، عِبَادَ اللَّهِ





اللہ کی پکار کے ساتھ

 پکارو جس نے تمہارے نام مسلمین، مومنین (اور)

عباد اللہ رکھے ہیں۔





جامع الترمذي :

2863





جس طرح آدم وحوا کی

ساری اولاد ایک دوسرے سے امتیاز کے لیے مختلف خاندانوں اور قبیلوں اور ذاتوں کے

ناموں سے  پہچانی جاتی ہے۔ بعینہ اسلام کے

نام لیوا بھی اپنے مختلف اوصاف کی بناء پر مختلف ناموں سے ایک دوسرے سے امتیاز کے

لیے پہچانے جاتے ہیں۔ کافروں سے امتیاز کے لیے ان کا نام مسلم اور مؤمن ہے۔ تو

اسلام کے نام لیوا مختلف اہل بدعت کے مقابلہ میں انکا نام اہل السنہ اور اہل

الحدیث ہے۔





اہل حدیث سے مراد وہ

اہل  اسلام ہیں جو وحی الہی کے سوا کسی چیز

کو بھی دین میں حجت نہیں جانتے‘ اور مسئلہ کے حل کے لیے قیل وقال کا سہارا لینے کی

بجائے وحی الہی یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم پر ہی اکتفاء

کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ بدعات سے اجتناب کرنے والے اور سنت وحدیث سے سچی محبت

کرنے والے ہیں۔ اہل الحدیث کی صفات مختلف ائمہ کرام نے اجمالا اور تفصیلا ذکر کی

ہیں مثلارایک مقام پر حافظ ابن حبان نے اہل حدیث کی یہ صفت بیان کی ہے
:





 ینتحلون السنن و یذبون عنھا و یقمعون من خالفھا





وہ حدیثوں پر عمل کرتے

ہیں، ان کا دفاع کرتے ہیں اور ان کے مخالفین کا قلع قمع کرتے ہیں۔





 (صحیح ابن حبان، الاحسان : ۶۱۲۹، دوسرا نسخہ:

۶۱۶۲) 





 





اسی طرح آیتِ کریمہ ﴿یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمۡ

ۚ﴾





کی تشریح میں جلال الدین

السیوطیؒ فرماتے ہیں
:





لیس لأھل الحدیث منقبۃ أشرف من ذلک لأنہ لا

إمام لھم غیرہﷺ





اہل حدیث کے لئے اس سے

زیادہ فضیلت والی اور کوئی بات نہیں ہے کیونکہ آپ ﷺ کے سوا اہل حدیث کا کوئی امام نہیں

ہے ۔





 (تدریب الراوی ۱۲۶/۲، نوع ۲۷)





حافظ ابن تیمیہؒ فرماتے

ہیں
:





“ونحن لا نعني

بأھل الحدیث المقتصرین علی سماعہ أو کتابتہ أو روایتہ، بل نعني بھم: کل من کان أحق

بحفظہ و معرفتہ و فھمہ ظاھراً و باطناً، واتباعہ باطناً و ظاھراً، و کذلک أھل القرآن۔“





اہل حدیث کا ہم یہ مطلب

نہیں لیتے کہ اس سے مراد صرف وہی لوگ ہیں جنہوں نے حدیث سنی ، لکھی یا روایت کی ہے

بلکہ اس سے ہم یہ مراد لیتے ہیں کہ ہر آدمی جو اس کے حفظ ، معرفت اور فہم کا ظاہری

و  باطنی لحاظ سے مستحق ہے اور ظاہری و باطنی

لحاظ سے اس کی اتباع کرتا ہے اور یہی معاملہ اہل قرآن کا ہے ۔





(مجموع فتاویٰ ابن

تیمیہ ۹۵/۴)   





ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ طائفۂ منصورہ

ہمیشہ غالب رہے گا۔ اس کی تشریح میں امام بخاری فرماتے ہیں:





’’یعنی اھل

الحدیث
‘‘





یعنی اس سے مراد اہل الحدیث ہیں۔





(مسألۃ الاحتجاج

بالشافعی للخطیب ص ۴۷ , الحجۃ فی بیان المحجۃ ۲۴۶/۱)





امام بخاری کے استاد علی بن عبداللہ االمدینی

فرماتے ہیں:
’’هم اهل الحدیث‘‘

وہ اہل الحدیث ہیں۔





 (سنن الترمذی:۲۲۲۹)





امام احمد بن حنبلؒ سے طائفۂ منصورہ کے

بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا :
“إن لم تکن ھذہ الطائفۃ المنصورۃ أصحاب الحدیث

فلا أدري من ھم؟”
اگر

یہ طائفہ منصورہ اصحاب الحدیث نہیں ہیں تو پھر میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں؟





(معرفۃ علوم الحدیث

للحاکم ص ۲ رقم: ۲ ، فتح الباری ح ۷۳۱۱)





امام قتیبہ بن سعید نے فرمایا:





’’اذا رایت الرجل یحب اهل الحدیث ……… فانه علی السنة‘‘

الخ





اگر تو کسی آدمی کو دیکھے کہ وہ اہل الحدیث

سے محبت کرتا ہے تو (سمجھ لے کہ) وہ شخص سنت پر (چل رہا) ہے۔





 (شرف اصحاب الحدیث للخطیب ص۱۳۴ ح۱۴۳)





احمد بن سنان الواسطی نے فرمایا:





لیس فی الدنیا

مبتدع الاوهو یبغض اهل الحدیث
‘‘





دنیا میں کوئی بھی ایسا بدعتی نہیں ہے

جو کہ اہل الحدیث سے بغض نہیں رکھتا۔





 (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص۴ )





حفص بن غیاث نے اصحاب لاحدیث کے بارے میں

کہا
:





’’هم خیر اهل الدنیا‘‘ یہ

دنیا میں بہترین لوگ ہیں۔





(معرفۃ علوم الحدیث

للحاکم ص۳ )





اور اسی لیے محدثین کرام صرف اور صرف

اہل السنہ ‘ اہل الحدیث سے ہی حدیث لینے کو ترجیح دیتے تھے ۔مشہور تابعی  محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:





فینظر الی

اهل السنة فیؤخذ حدیثهم
‘‘





پس اہل سنت کی طرف دیکھا جاتا تھا اور

ان کی حدیث قبول کی جاتی تھی۔





( مسلم: ۲۷ )





یعنی اہل الحدیث ایک صفاتی نام ہے اور

اسکی ضرورت بھی بعینہ اس طرح ہے جس طرح بنی آدم کے خاندانوں اور قبیلوں کے ناموں

کی ضرورت ہے۔ لہذا یہ نام رکھنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں بلکہ شرعی دلائل اسکے

جواز پر دلالت کرتے ہیں۔





 



» تاريخ النشر:
» تاريخ الحفظ:
» محمد رفیق طاہر | قدیم
.:: http://www.rafiqtahir.com/ur/ ::.