« نفلی صدقہ میں سے خود کھانا »






 کوئی بھی چیز صدقہ کی

جائے , صدقہ کرنے والا اس میں کچھ خود کھا لے یا اپنے اعزہ واقرباء کو تحفۃ دے دے

ایسا کرنا جائز ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ صدقہ صرف وہی شمار ہو گا جو صدقہ کے مستحق

لوگوں تک پہنچ گیا۔ اور جو اس نے خود کھا لیا ‘ یا اپنے احباب کو تحفہ کے طور پہ

دے دیا وہ صدقہ نہیں ہوگا۔





ام المؤمنین سیدہ

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت نے ایک بکری ذبح

کی (اور اسے صدقہ کر دیا, جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو) آپ ﷺ نے پوچھا:





«مَا بَقِيَ مِنْهَا»؟

قَالَتْ: مَا بَقِيَ مِنْهَا إِلَّا كَتِفُهَا قَالَ: «بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا»





اس میں سے کیا باقی

بچا ہے؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ایک دستی کے سوا کچھ باقی نہیں

بچا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :"اس دستی کے سوا باقی سب بچ گیا ہے۔





جامع الترمذي: 2470





 



» تاريخ النشر:
» تاريخ الحفظ:
» محمد رفیق طاہر | قدیم
.:: http://www.rafiqtahir.com/ur/ ::.