« قطع تعلقی کا حکم؟ »






کسی بھی مسلمان کے

لیے اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زائد قطع تعلق رہنا جائز نہیں ہے۔ لہذا

آپ پہ لازم ہے کہ آپ صلح کا ہاتھ بڑھاتے رہیں اور اسے سلام کہتے رہیں۔





رسول  اللہ

ﷺ کا فرمان ہے:





" لاَ

يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ: فَيُعْرِضُ

هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ "





کسی آدمی کے لیے حلال

نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین راتوں سے زیادہ (ناراضگی کی وجہ سے) چھوڑے رکھے۔

وہ دونوں ملتے ہیں تو یہ بھی منہ موڑ لیتا ہے اور وہ بھی رخ پھیر لیتا ہے۔ اور ان

دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام کرنے  میں

پہل کرے۔





صحیح البخاری: 6077





نیز فرمایا:





«مَنْ هَجَرَ

أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ»





جس نے اپنے بھائی کو

ایک سال تک چھوڑے رکھا تو وہ اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔





سنن أبی داود: 4915





اور صلہ رحمی کا پتہ ہی اس وقت چلتا

ہے جب کسی ایک طرف سے بار بار تعلق توڑا جائے اور دوسرا اسے جوڑے۔ 





رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:





«لَيْسَ الوَاصِلُ

بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا»





جو صلہ رحمی کے بدلے صلہ رحمی کرے وہ

کوئی صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے, بلکہ صلہ رحمی کرنے والا تو وہ کہ جب اس سے تعلق

توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے۔





صحیح البخاری: 5991





اور اگر ٹوٹے تعلق کو نہ جوڑا جائے تو وہ اخروی نقصان کا باعث

بنتا ہے۔





رسول اللہ ﷺ کا فرمان

ہے:





" تُعْرَضُ

الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ، فَيَغْفِرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ

فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، لِكُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأً

كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى

يَصْطَلِحَا، ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا "





ہر سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش

کیے جاتے ہیں ، اللہ ﷯ اس دن میں ہر اس شخص کو معاف فرما دیتے ہیں جو اللہ ﷯ کے

ساتھ کچھ بھی شرک نہ کرتا ہو، مگر وہ شخص جسکے اور اسکے بھائی کے درمیان بغض ہے

(انہیں معاف نہیں کیا جاتا) ، کہا جاتا ہے ان دونوں کو رہنے دو، حتى کہ یہ صلح کر

لیں، ان دونوں کو رہنے دو، حتى کہ یہ صلح کر لیں۔





صحیح مسلم: 2565





 البتہ اگر کوئی شرعی مسئلہ ہو تو اسکی وجہ سے کسی مسلمان سے

تین دن سے زائد بھی ناراضگی رکھی جاسکتی ہے۔ لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ آپکی

ناراضگی کی وجہ سے اسکی اصلاح ہو, اگر ناراضگی سے دعوت  و اصلاح کا دروازہ بندہ ہونے کا خدشہ ہو تو پھر

ناراضگی نہیں رکھ سکتے۔





نبی مکرم ﷺ نے غزوہ

تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین مؤمنین ہلا ل بن امیہ, مرارہ بن ربیع اور کعب بن

مالک ﷢ سے پچاس دن تک ناراض رہے, جبکہ اسی غزوہ سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کو

آپ ﷺ نے کچھ نہ کہا۔





صحيح البخاري : 4418





کیونکہ منافقین سے

ناراضگی  فائدہ کے بجائے نقصان دہ ثابت

ہوسکتی تھی, جبکہ اہل ایمان سے ناراضگی انکی طہارت کا سبب بنی۔



» تاريخ النشر:
» تاريخ الحفظ:
» محمد رفیق طاہر | قدیم
.:: http://www.rafiqtahir.com/ur/ ::.