کرکٹ دیکھنا کیسا ہے؟

کرکٹ کھیلنا یا
دیکھنا درست نہیں!



اللہ تعالى نے ا ہل
ایمان کی صفت بیان فرمائی ہے:



وَالَّذِينَ هُمْ
عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ



اور وہ لوگ جو لغو
یات سے اعراض کرتے ہیں۔



 [المؤمنون : 3]



نیز فرمایا:



وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ
مَرُّوا كِرَاماً



اورجب وہ لغو کے پاس
سے گزرتے ہیں تو عزت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔



 [الفرقان : 72]



مزید فرمایا:



وَإِذَا سَمِعُوا
اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ



اور جب وہ لغو سنتے
ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں ۔



[القصص : 55]



رسول اللہ ﷺ کا فرمان
ہے:



كُلُّ شَيْءٍ لَيْسَ
مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ فَهُوَ لَغْوٌ وَلَهْوٌ إِلَّا أَرْبَعَةَ خِصَالٍ : مَشْيٌ بَيْنَ
الْغَرَضَيْنِ ، وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ ، وَمُلَاعَبَتُهُ أَهْلَهُ ، وَتَعْلِيمُ
السَّبَّاحَةِ



چار چیزوں کے سوا ہر
چیز جو اللہ کے ذکر میں سے نہیں وہ لغو اور لہو ہے : آدمی کا دو نشانوں کے درمیان
چلنا (یعنی نشانہ بازی کرنا) اور اپنے گھوڑے کو سدھانا (یعنی گھڑ سواری) اور اپنی
اہلیہ کے ساتھ کھیلنا اور تیراکی سیکھنا۔



عشرۃ النساء
للنسائی: 7706-50



اور یہ کرکٹ اور اس
جیسی دیگر کھیلوں کا بھی اللہ کے ذکر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ انسان
کو کوئی جسمانی فائدہ پہنچاتی ہیں  , لہذا
یہ بھی لغو اور لہو میں شامل ہیں۔



سیدنا ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں:



سَمِعْتُ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ
مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا ذِكْرُ اللَّهِ وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ»



میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : خبردار! یقینا
دنیا ملعون ہے اور جو کچھ بھی اس میں ہے سب معلون ہے ما سوى اللہ کا ذکر اور جو
اسکے متعلق ہیں اور عالم یا متعلم۔



جامع الترمذی:
2322



اورپھر جو لوگ قومی
یا عالمی سطح پر منعقد ہونے والے کرکٹ مقابلوں کو دیکھنے لیے سٹیڈیم پہنچتے ہیں یا
ٹی وی پہ ملاحظہ کرتے ہیں وہ اس سے بھی بڑی بڑی قباحتوں میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں
نا محرم خواتین کو دیکھنا اور میوزک سننا سرفہرست ہیں۔ اور اللہ تعالى نے دین
اسلام میں موسیقی کو بھی حرام قرار دیا ہے اور نامحرموں کو دیکھنا بھی ۔ دونوں ہی کبیرہ گناہ ہیں!

لہذا اپنے فارغ اوقات
کو ایسے برے کاموں میں صرف نہیں کرنا چاہیے۔



رسول اللہ ﷺ فرماتے
ہیں:



نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ
فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ



دو نعمتیں ایسی ہیں
کہ جن کے بارہ میں بہت سے لوگ خسارہ میں ہیں: صحت اور فراغت



صحیح البخاری:
6412



سو اپنی صحت اور فارغ
وقت کو اپنا ہی نقصان کرنے میں صرف نہ کریں بلکہ ایسے اوقات میں مفید کتب کا
مطالعہ کریں , دین سیکھیں, اللہ کا ذکر کریں, یا ا پنے جسم کو مضبوط بنانے والے
کھیل کھیلیں اور ورزش کریں, یا مفید مشاغل 
جیسے ڈرائیونگ یا نشانہ بازی یا تیراکی سیکھنا, اپنے دفاع کے لیے مارشل
آرٹس کی تعلیم حاصل کرنا وغیرہ میں صرف کریں۔

:
طباعة