« محبوبہ یعنی معشوقہ کیلئے دعا کرنا »






معاشقہ یعنی عشق

معشوقی اسلام میں جائز ہی نہیں ہے۔ جب معشوق بنانا یا عاشق بننا ہی شرع میں حرام

ہے تو عاشق ومعشوق کے ایکدوسرے کے لیے دعاء کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔





مرض عشق کی ابتداء

نظر بازی سے ہوتی ہے اور پھر یہ بیماری مسکراہٹوں کے تبادلہ کا روپ دھارتی ہے,

اشاروں کنائیوں میں اظہار شروع ہوتا ہے۔ پھر گفت وشنید اور سلام  وکلام کی باری آتی ہے اور پھر یہ ناسور دل میں

گھر کر لیتا ہے اور بات وعدوں اور ملاقاتوں تک جا پہنچتی ہے۔ اور اکثر تو زنا کاری

تک نوبت جاپہنچتی  ہے۔





نظرة فابتسامة فسلام





فكلام فموعد  فلقاء





پہلے نظروں سے نظریں

ملتی ہیں , پھر مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوتا ہے, پھر سلام ہوتا ہے  , پھر کلام کا آغاز ہوتا  ہے اور پھر وعدے اور ملاقاتیں شروع ہوتی ہیں۔





اور پھر ..... ع





اور کھل جاؤگے  دو چار ملاقاتوں میں۔





جبکہ اللہ سبحانہ وتعالى نے  نظر بازی سے منع کرتے ہوئے  ارشاد

فرمایا  ہے:





قُل

لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ

أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ





مؤمن مردوں سے کہہ

دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور ا پنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ انکے لیے

زیادہ پاکیزہ ہے۔ اللہ تعالى یقینا انکے اعمال سے خوب باخبر ہیں۔





[النور : 30]





عورتوں کے لیے حکم

دیا:





وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ

يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ





اور مؤمنہ عورتوں سے

کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہوں کو پست رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔





 [النور : 31]





سیدنا جریر بن عبد

اللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:





سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ

صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ؟ فَقَالَ: «اصْرِفْ

بَصَرَكَ»





میں نے رسول ا للہ صلى اللہ علیہ وسلم

سے (غیر محرم پہ) اچانک نظر پڑ جانے کے بارہ میں پوچھا تو آپ ﷑ نے فرمایا: اپنی

نگاہ کو پھیر لے۔





سنن أبی داود :2148





اسی طرح رسول اللہ ﷑ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا:





«يَا عَلِيُّ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ

النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ»





اے علی! نظر کو نظر کے پیچھے نہ لگا

(یعنی اگر کبھی کسی غیر محرم پہ اچانک نظر پڑ جائے تو مسلسل نہ دیکھتا رہ) کیونکہ

پہلی (بار جو اچانک نظر پڑی ہے) وہ تیرے لیے (معاف ) ہے اور اسکے بعد والی (معاف)

نہیں۔





سنن أبی داود:2149





اور پھر اگر کسی کی نظر نا محرم صنف

مخالف پہ پڑ ہی جائے تو وہ بار بار اسے اپنے تصورات میں لا کر محظوظ ہو یہ بھی

درست نہیں بلکہ جس طرح کسی نا محرم کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا حرام ہے اسی طرح کسی

نامحرم کو تصور میں لانا بھی حرام ہے۔ رسول اللہ ﷑ کا ارشاد گرامی ہے:





«لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ،

لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا»





کوئی عورت کسی دوسری عورت سے ملاقات

کرنے کےبعد (اسکا حلیہ اور خد وخال) اپنے خاوند کے سامنے اس طرح سے بیان نہ کرے کہ

گویا وہ(اس کا خاوند) اس (عورت) کو دیکھ رہا ہے۔





سنن أبی داود:2150





اور نا محرم کی طرف دیکھنا اس سے

باتیں کرنا , اسے چھونا, اور اسکی طرف چل کر جانا,اور اسکے بارہ میں آروزئیں کرنا

ان سب کاموں کو  زنا قرار دیتے ہوئے  رسول اللہ ﷑ فرماتے ہیں:





فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ،

وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ، وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ، وَالْيَدُ

زِنَاهَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا، وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى،

وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ





 آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، اور کان کا زنا سننا ہے,

اور زبان کا زنا بولنا (باتیں کرنا) ہے، اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے, اور پاؤں کا

زنا چلنا  ہے,اور دل تمنا کرتا اور خواہش

کرتا ہے، اور شرمگاہ اسکی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔





صحیح مسلم: 2657





اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نا

محرم کی طرف دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے ، اور اس سے باتیں کرنا زبان کا زنا ہے، اور

دل میں آرزوئیں اور تمنائیں لانا اور تصورات وخیالات پیدا کرنا نفس کا زنا ہے۔





اور نا محرم سے خلوت نشینی تو بہت ہی خطرنا ک ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان

ہے:





أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ

بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ





جب بھی کوئی مرد کسی

عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ضرور ہوتا ہے۔





جامع الترمذی: 2165



» تاريخ النشر:
» تاريخ الحفظ:
» محمد رفیق طاہر | قدیم
.:: http://www.rafiqtahir.com/ur/ ::.