ایک ہاتھ اور ایک کان میں زیور پہننے کا حکم

 



عورت
کے لیے ایک کان یا ایک ہاتھ میں  زیور
پہننے  میں کوئی حرج نہیں۔



حدیث میں ایک پاؤں میں جوتا پہننے کی ممانعت تو موجود ہے:



«لاَ يَمْشِي أَحَدُكُمْ
فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا»



تم
میں سے کوئی بھی ایک جوتے میں نہ چلے, یا تو دونوں پہنے یا دونوں کو ہی اتار دے۔



صحیح البخاری: 5856



لیکن
ایک ہاتھ یا ایک کان میں زیور پہننے کی ممانعت پر کوئی دلیل میرے علم میں نہیں۔



البتہ
ایک ہاتھ میں زیور پہننے کے جواز کے بارہ میں احادیث موجود ہیں:



محمد
بن اسحاق
رحمہ اللہ فرماتے
ہیں:



رَأَيْتُ عَلَى الصَّلْتِ
بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ خَاتَمًا فِي خِنْصَرِهِ
الْيُمْنَى، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ
هَكَذَا، وَجَعَلَ فَصَّهُ عَلَى ظَهْرِهَا، قَالَ: وَلَا يَخَالُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِلَّا
قَدْ كَانَ يَذْكُرُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ
يَلْبَسُ خَاتَمَهُ كَذَلِكَ»



میں
نے صلت بن عبد اللہ بن نوفل بن عبد المطلب کے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں
انگوٹھی دیکھی تو میں نے کہا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے عبد اللہ بن
عباس رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی بھی اسی طرح دیکھی تھی اور انہوں نے اسکا نگینہ ہاتھ
کی پشت کی جانب کیا ہوا تھا اور کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہا
کرتے تھے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بھی اپنی انگوٹھی اسی طرح پہنتے تھے۔



سنن ابی داود: 4229



ابو
سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:



أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ»



رسول
اللہ ﷺ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔



سنن ابی داود: 4226



ثابت
بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:



أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا
عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ
اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ،
أَوْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: «إِنَّ النَّاسَ قَدْ
صَلَّوْا، وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ»،
قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ
الْيُسْرَى بِالْخِنْصِرِ



لوگوں
نے سیدنا ا نس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی کے بارہ میں پوچھا تو انہوں
نے فرمایا ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر فرمائی یا قریب
تھا کہ رات کا آدھا حصہ گزر جاتا, پھر آپ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا "یقینا لوگ
نماز پڑھ چکے اور سو چکے ہیں, اور تم جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے ہو نماز میں
ہی رہے ہو"۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا کہ میں (اب بھی) آپ ﷺ کی
چاندی کی انگوٹھی کی سفیدی دیکھ رہا ہوں, اور انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی
انگلی کو اوپر ا ٹھایا (یعنی رسول اللہ ﷺ بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں انگوٹھی
پہنتے تھے۔)



صحیح مسلم : 640



سیدنا
عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
:



«أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَسَارِهِ، وَكَانَ فَصُّهُ فِي بَاطِنِ
كَفِّهِ»



رسول
اللہ ﷺ اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے اور اسکا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے
تھے۔



سنن ابی داود: 4227



نافع
رحمہ اللہ فرماتے ہیں:



أَنَّ ابْنَ عُمَرَ،
«كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ فِي يَدِهِ الْيُسْرَى»



سیدنا
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔



سنن ابی داود: 4228



در
ج بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی دائیں ہاتھ میں اور کبھی
بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ اور انگوٹھی بھی زیور ہی ہے جو مردوں کے
لیے بھی جائز ہے اور عورتوں کے لیے بھی۔ اور ان تمام تر روایات سے دائیں یا بائیں
کسی ایک ہاتھ میں زیور پہننے کا جواز بھی واضح ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ایک ہی ا
نگوٹھی تھی جسے وہ کبھی دائیں ہاتھ میں پہنتے اور کبھی بائیں ہاتھ میں ۔

:
طباعة