اعداد وشمار
مادہ
پانی پاک ہے
درس کا خلاصہ
جب پانی زیادہ مقدار میں ہو تو وہ اس وقت تک پاک رہتا ہے جب تک کسی نجس شے کی بو، رنگ، یا ذائقہ اس پہ غالب نہ آجائے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
پانی پاک ہے:
سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا: ’’سمندر کے پانی سے وضوکرسکتے ہیں؟‘‘تو آپ ﷺ نے فرمایا: «هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ» ([1])
’’سمندرکا پانی پاک کرنے والاہے اور اس وضو کیاجاسکتا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔‘‘
اس سے ایک بات یہ پتہ چلتی ہے پانی کھارا ، نمکین ہو ،پینے کے قابل نہ بھی ہو، اس سے وضو ہوجائے گا۔ غسل کرنا ہو، کرسکتا ہے ۔سمندر کا پانی عام طور پر کھاری ہوتا ہے اورپینے کے قابل نہیں ہوتا۔
دوسری بات اس سے یہ سمجھ آتی ہے کہ روزہ دار آدمی روزے کی حالت میں اگر وہ کھاری پانی سے وضو کرے گا تو کلی کرتے ہوئے اس کا ذائقہ منہ میں محسوس ہو گا۔ تو زبان پرذائقہ محسوس ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔روزہ قائم اور برقرار رہتا ہے۔ اسی حدیث سے یہ بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر عورت نے گھر میں کھانا وغیرہ پکاناہے اور وہ روزے سے ہے تو وہ کھانا زبان پر رکھ کر چکھ سکتی ہے۔ اندر نہ لے جائے، نہ نگلے تو کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ وضو کرنے کے لیے کھاری پانی ہوگا تو زبان اس کا ذائقہ محسوس کرے گی اور کھارے پانی سے وضو کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
پھر اس سے ایک اور بات سمجھ آتی ہے کہ پانی میں حلال چیز کی آمیزش ہوجائے اور پانی اپنی اصل سے باہر نہ نکلے، پانی ہی رہے ، شربت نہ بن جائے، اس سے وضو ہو سکتا ہے ۔ لیکن اگر پانی میں حلال کی آمیزش اتنی ہو جائے کہ پانی پانی نہ رہے اور وہ کوئی اور ہی مشروب بن جائے، جیسے کوئی پیپسی کی بوتل سے وضو کرنے بیٹھ جائے تو یہ کا م ٹھیک نہیں ہوگا۔
لیکن اگر پانی میں نجاست گرجاتی ہے تو پھر اگر پانی تھوڑی مقدار میں ہو تو پانی ناپاک ہو جائے گا ۔ لیکن اگر دو قلے (تقریباً ڈھائی سو لیٹر) پانی ہو تو وہ تھوڑی سی نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔ ہاں اگر نجاست کی وجہ سے پانی کا رنگ ، پانی کی بو ، اور پانی کا ذائقہ تبدیل ہوجاتا ہے تو پھر وہ پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ کافرمان ہے: «إِذَا كَانَ الْمَاءَ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ» ([2])
’’اگر پانی دو قلے ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔‘‘
ایک حدیث میں ہے: «إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لاَ يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ» ([3])
’’پانی پاک ہے اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔‘‘
لیکن پانی جب پانی نہ رہے، نجاست اس پر غالب آجائے تو وہ پانی نہ رہا ، وہ نجاست بن گئی ، اس پر نجاست والا حکم لگے گا ۔
سوال ہواتھا کہ کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیں؟ تو آپﷺ نے جواب کے ساتھ ایک اضافی بات بتا دی: «الْحِلُّ مَيْتَتُهُ»
’’اور اس کا مردار حلال ہے ۔‘‘
اس کا مطلب ہےسوال کرنے والا اگر ایک چیز کے بارے میں پوچھتا ہے تو اس کے سوال سے زیادہ ، اضافی معلومات دی جاسکتی ہیں۔
’’سمندر کا مردار حلال ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اس میں پائے جانے والی مچھلی اگر سمندر کے پانی کے اندر ہی مر جائے تو وہ حلال ہوگی مری ہوئی ہونے کی وجہ سے وہ حرام نہیں۔
صحیح بخاری میں لمبی روایت ہے۔ اس میں ہے کہ صحابہ کرام سمندرکے کنارے پہنچے تو ایک بہت بڑی مچھلی، جس کو اس وقت عنبر کہتے تھے ، اس کی آنکھ کے خول میں تیرہ بندے سو جاتے تھے اور اس کا کانٹا کھڑا کرتے تو اس کے نیچے سے اونٹ کے اوپر کجاوا رکھ کے ایک بندہ بیٹھا کے گزارتے تو وہ گزر جاتا۔اتنی بڑی مچھلی تھی۔ وہ مردہ حالت میں سمندر نے نکال کے باہر پھینکی توہم پورامہینہ اس کو کھاتے رہے اور اس کے تیل سے مالش کرتے رہے ، تیل پیتے رہے،موٹے تازے ہوگئے اور واپسی پر ہم نبی کریم ﷺکے پاس اس کو لے کر گئے۔ ہم نے مسئلہ پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے تو مجھے بھی دو۔‘‘ وہ مچھلی سمندر میں مر چکی تھی اور سمندر نے اس کو نکال کر باہر پھینکا تھا۔ آپ ﷺ نے بھی اس میں سے کھایا ،اور صحابہ کرام بھی اس کو کھاتے رہے۔ ([4])
تو سمندر میں پانی کے اندر رہنے والا جانور ،جو پانی سے باہر نہیں رہ سکتا تو وہ اگر پانی کے اندر مر بھی جائے تو بھی وہ حلال ہے۔
اس کے بارے میں ایک اور حدیث بھی ہے نبی کریم ﷺنے فرمایا: «أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ .... الْجَرَادُ وَالْحُوتُ» ([5])
’’اللہ نے ہمارے لیے دو مردار حلال کیے ہیں ایک مچھلی اور دو سری ٹڈی۔‘‘
آج کل تو وہ معاملہ ختم ہو گیا ہے ۔پہلے یہ ٹڈی آتی اور فصلوں کی فصلیں اور درختوں کے درخت اجاڑ دیتی ۔ آگے سے کھاتی جاتی اور پیچھے سے نکالتی جاتی۔ نہ اس کاپیٹ بھرتا، نہ وہ رکتی تھی۔ لیکن وہ پٹ سن کو نہیں کھا سکتی تھی۔ اس لیے لوگ اسے پٹ سن کی بوریوں میں بند کرکے قید کرتے اور جونہی اس میں بند ہوتی، ساتھ ہی مرتی جاتی۔تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے دو مردہ ،مچھلی اور ٹڈی حلال کیے ہیں۔
اللہ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے ۔
______________________________________
([1]) أبو داود (83)، والنسائي (1/ 50 و 176 و 707)، والترمذي (69)، وابن ماجه (386) وابن أبي شيبة (131)، وابن خزيمة (111)
([2]) أبو داود (63 و 64 و 65)، والنسائي (1/ 46 و175)، والترمذي (67)، وابن ماجه (517)، وصححه ابن خزيمة (92)، والحاكم (132)، وابن حبان (1249)
([3]) أبو داود (66)، والنسائي (174)، والترمذي (66)
([4]) البخاري (4361، 4362)، مسلم (1935)
([5]) أحمد (2/ 97)، وابن ماجه (3314)
-
الجمعة AM 12:12
2022-01-14 - 2938





