اعداد وشمار
مادہ
طلاق کی جھوٹی خبر
سوال
علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ میں مسمى محمد اقبال ولد شوکت اقبال کی شادی اپنی اہلیہ نورین فاطمہ دختر اسماعیل شیخ سے 2010ء میں ہوئی ، اس کے بطن سے میری دو بیٹیاں نور فاطمہ اور عنبر فاطمہ پیدا ہوئیں، اس کےبعد 2020ء میں حصول اولاد نرینہ کی خاطر میں نے سکینہ بی بی دختر عبد الحمید سے دوسری شادی کر لی، اپریل 2022ء میں مجھے اللہ تعالى نے اس کے بطن سے تین جڑواں بیٹے عطا کیے۔ میں نے یہ دوسری شادی اپنی پہلے اہلیہ اور اس کےخاندان سے چھپا رکھی تھی، لیکن جب میں نے اپنے تینوں بچوں کے عقیقے کیے تو میری پہلی اہلیہ کو کچھ شک گزرا، جس پہ اس نے تحقیق وتفتیش شروع کر دی اور میری دوسری اہلیہ اور اس سے ہونے والے میرے بیٹوں کا انھیں معلوم ہوگیا۔ جس پہ اس نے بہت زیادہ فساد مچایا، حتى کہ میری بیٹیوں کو بھی ذہنی ٹارچر کرنا شروع کر دیا۔ وہ ناراض ہو کر میکے چلی گئی، میری بسیار کوشش کے باوجود وہ نہ مانی اس کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ میں دوسری بیوی کو طلاق دے دوں۔ میری بیوی اور اس کے میکے والوں نے مجھے اور میری بچیوں کو زچ کرکے رکھ دیا، جس پہ میں نے انھیں یہ کہہ دیا کہ میں نے اپنی دوسری بیوی مسماۃ سکینہ بی بی دختر عبد الحمید کو طلاق دے دی ہے۔ جس پہ انھوں نے مجھ سے تحریری طلاق کا مطالبہ کیا تو میں نے طلاق ایک ایک نوٹس ان الفاظ میں لکھوایا کہ ’’میں مسمى محمد اقبال نے آج مؤرخہ 23 جون 2022ء کو اپنی اہلیہ مسماۃ سکینہ بی بی کو طلاق طلاق طلاق دے دی ہے، اور اسے اپنے نکاح سے آزاد کر دیا ہے‘‘۔ جبکہ حقیقت میں نہ تو میں نے اپنی دوسری بیوی کو طلاق دی، اور نہ ہی اسے اس بات کی اطلاع ہوئی۔ اسی طرح 23 جولائی 2022ء کو دوسرا ، اور 23 اگست 2022ء کو طلاق کا تیسر نوٹس اپنی پہلی بیوی کو دکھایا، جس کے بعد وہ راضی ہو کر میرے گھر آگئی۔ اس کے واپس آنے کے بعدمیری دوسری بیوی کو اس معاملے کا علم ہوا، تو اس سےنے کسی مفتی صاحب سے یہ مسئلہ پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ ہمیں معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسا کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ کیا اب ہم یعنی میں اور میری دوسری بیوی رشتہ ازدواج میں منسلک رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں کوئی طلاق بھی واقع نہیں ہوئی! کیونکہ آپ نے اپنی پہلی اہلیہ اور اس کے خاندان والوں کو طلاق کی جھوٹی خبر دی ہے۔ جبکہ طلاق خبر دینے سے واقع نہیں ہوتی، بلکہ انشاء سے واقع ہوتی ہے۔
عقود کے لیے خبر اور انشاء، دونوں معنوں کے لیے ایک لفظ استعمال ہوتا ہے، لیکن اگر خبر کی نیت ہو تو صدق وکذب کا احتمال ہوتا ہے۔ جب کسی نے طلاق دی نہیں، اور وہ طلاق دینے کی خبر دے رہا ہے تو جھوٹی خبر ہے، جھوٹ پہ گناہ تو ہوگا، لیکن طلاق کا نفاذ نہیں، کیونکہ یہ انشاء نہیں ہے! طلاق انشاء سے واقع ہوتی ہے، خبر سے نہیں!۔
اس بات کو مثال سے سمجھیں مثلا: اگر کوئی شخص کوئی چیز مثلا کپڑا خریدتے ہوئے بیچنے والے کو کہتا ہے کہ میں نے ایک تھان کپڑا 25000 کا تم سے خرید لیا، اور بیچنے والا کہتا ہے کہ ٹھیک ہے میں نے تمھیں یہ مال بیچا۔ تو اس صورت میں اس کا کہنا ’’میں نے خریدلیا‘‘ اور بائع کا کہنا ’’ میں نے تمھیں بیچا‘‘ یہ خبر نہیں ہے بلکہ انشاء ہے، اس میں سچ یا جھوٹ کا احتمال نہیں ہے، ان کے یہ الفاظ کہنے سے بیع نافذ ہو جائے گی۔ لیکن اگر کوئی شخص رات کو مجلس میں بیٹھا اپنے دن بھر کی داستاں سناتے ہوئے کہتا ہے کہ میں نے آج ایک تھان کپڑا خریدا یا بیچا تو یہ خبر ہے، اگر تو واقعی اس نے یہ کام دن میں کیا تھا تو وہ اس میں سچا ہے، اور اگر نہیں کیا تھا تو وہ جھوٹا ہے۔ اس کے اس طرح خبر دینے سے خرید و فروخت نہیں ہوگی، بلکہ اس کے سچا یا جھوٹا ہونے کو پرکھا جائے گا۔انشاء میں بات کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں صدق و کذب کا احتمال ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ جملہ کہہ کرکسی کام کو پیدا کیا یا سر انجام دیا جاتا ہے۔ جبکہ خبر میں سچ یا جھوٹ کا احتمال ہوتا ہے، اسی لیے خبر یا سچی ہوتی ہے یا جھوٹی۔
بعینہ نکاح و طلاق بھی عقود کی قبیل سے ہیں، اگر یہ انشاء ہوں یعنی طلاق دینے کے لیے کوئی کہے کہ’ میں نے تمھیں طلاق دی‘ تو طلاق واقع ہو گی۔ اور نکاح کرنے کے لیے کہے کہ ’میں نے قبول کیا‘ تو نکاح قائم ہوگا۔ اور اگر اس نے نکاح کیا نہیں، محض یہ کہہ دے کہ میں نے نکاح کیا ہے، اور طلاق دی نہیں اور کہہ دے کہ میں نے طلاق دی، ایسا کہنے سے نہ نکاح واقع ہوگا اور نہ ہی طلاق واقع ہوگی۔
نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہی ہے۔
صحیح البخاری:1
لہذا جب تک انشاء طلاق کی نیت نہ ہو، طلاق واقع نہیں ہوتی!، اور جب آپ کا معاملہ واضح ہے کہ آپ نے نہ تو طلاق دی نہ ہی طلاق کی نیت کی بلکہ پہلی بیگم کو منانے کے لیے طلاق کی جھوٹی خبر دی ہے، تو اس صورت میں ایک طلاق بھی واقع نہیں ہوئی، کیونکہ آپ کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔
البتہ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ مجلس طلاق میں جب طلاق کے صریح الفاظ بولے جائیں مثلا لڑائی جھگڑے میں بیوی آپ سے طلاق کا مطالبہ کرے اور آپ اپنی بیوی کو کہہ دیں کہ میں نے تجھے طلاق دی! تو ایسی صورت میں صریح الفاظ کے ظاہر کا اعتبار کیا جائے گا، تب آپ کا یہ کہنا کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی، کام نہیں آئے گا! کیونکہ اس وقت مجلس طلاق کا قرینہ آپ کے اس دعوى کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہوگا، اور آپ کی نیت طلاق ہی کی مانی جائے گی۔
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الخميس PM 05:38
2025-12-18 - 142





