اعداد وشمار
مادہ
تھوڑے پانی کی نجاست
درس کا خلاصہ
پانی اگر کم مقدار میں ہو تو تھوڑی سی نجاست بھی اسے ناپاک کر دیتی ہے خواہ وہ نجاست اس پانی پہ غالب نہ بھی آئے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
اگر پانی مقدار میں زیادہ ہو اور اس میں نجاست گر جائے تو پانی پاک ہی رہتا ہے ۔ ہاں اگرنجاست اتنی زیادہ ہو کہ وہ پانی پر غلبہ پا لے ، پانی کے رنگ پر نجاست کا رنگ غالب آجائے یا نجاست کا ذائقہ غالب آجائے یا پانی کی بو پر نجاست کی بو غالب آجائے پھر جتنا مرضی پانی ہو، وہ ناپاک ہو جاتا ہے اور جو تھو ڑا پانی ہے،قلیل مقدار میں، اس میں اگرذرا سی بھی نجاست گر جائے تو وہ پانی ناپاک ہو جائے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدَهُ» ([1])
’’جب تم میں سے کوئی آدمی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈال دے (پانی کے ٹب، بالٹی وغیرہ میں جس میں پانی رکھا ہے اس میں سے پانی نکالنے کے لیے اپنا ہاتھ اس پانی میں نہ ڈالے) جب تک اس کو تین مرتبہ دھو نہ لےکہ وہ نہیں جانتا کہ رات اس کا ہاتھ کہاں کہاں گھومتا رہا ہے ۔‘‘
اس قدر احتیاط سکھائی ہے کہ ہاتھ میں لگی ہوئی نجاست کہیں پانی کو خراب نہ کر دے۔ اسی طرح «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، أَوْ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ، وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا» ([2])
مرد عورت دونوں نے غسل جنابت کرنا ہے ، آدمی عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے اور عورت بھی آدمی کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے۔ ہاں اکٹھے غسل کریں تو پھر ٹھیک ہے کوئی حرج نہیں مگر ایک دوسرے کے باقی ماندہ پانی سے نہیں۔‘‘
کیونکہ بے احتیاطی میں جنابت والا پانی ٹب یا بالٹی میں گر کر اس کو خراب کردے۔ ہاں اگر احتیاط ہو کہ غسل والا پانی صاف پانی میں نہ گرے تو پھر کوئی حرج نہیں ۔
نبی کریمﷺ نے ایک مرتبہ میمونہ کے گھر بچے ہوئے پانی سے آپ نے غسل کیا تو وہ کہنے لگیں کہ اللہ کے رسول ! ’’إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا؟‘‘ میں جنبی تھی، میں نے غسل جنابت کیا ہے، تو اسی بچے ہوئے پانی سے آپﷺ نے غسل فرمایا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ» ([3])
’’پانی جنبی نہیں ہوتا، پانی اپنے آپ ناپاک نہیں ہو جاتا۔‘‘
ہاں! اس میں استعمال شدہ پانی یا کوئی نجاست والی چیز گرے گی تو تب پانی نا پاک ہو گا۔ اگر احتیاط سے استعمال کیا جائےتو کوئی حرج نہیں۔
ویسے ماشاءاللہ آج کل تو ترقی کا دور ہے۔ برتنوں کا دور ہی نہیں۔ اب تو ٹونٹی کھولی اور شاور استعمال کرلیا۔ ہاں سردی میں کچھ گھروں میں بالٹی وغیرہ میں پانی گرم کیا جاتا ہے۔ جہاں گیزر کی سہولت نہیں ہوتی، وہ بالٹی میں پانی مکس کرکے نہاتے ہیں۔ ان کو یہ مسئلہ درپیش ہو سکتاہے۔
بہرحال قصہ مختصر یہ کہ پانی اگر قلیل مقدارمیں ہو تواس میں نجاست کے گرنے کی وجہ سے وہ نجس ہوجائے گا، چاہے اس کاذائقہ ، رنگ،بو وغیرہ نہ بھی بدلے۔ اگرپانی کثیر ہو یعنی دو قلےیا اس سے زائد تو تھوڑی بہت نجاست گرنے سے پانی کو فرق نہیں پڑتا۔ جب تک پانی غالب ہے تو وہ پانی ہے۔ جب اس پر نجاست غالب آجائے تو وہ نجاست شمارہوگا۔
اللہ سمجھنے اور عمل کرنےکی توفیق دے۔
______________________________________
([1]) البخاري (162)، ومسلم (278)
([2]) أبو داود (81)، والنسائي (1/ 130)
([3]) أبو داود (68)، والترمذي (65)، وابن ماجه (370)
-
الجمعة AM 12:22
2022-01-14 - 1813





