تازہ ترین
حالت حیض میں طلاق => مسائل طلاق طلاق کی عدت => مسائل طلاق بدعی طلاق => مسائل طلاق حالت نفاس میں طلاق => مسائل طلاق بیک وقت تین طلاقیں => مسائل طلاق مباشرت کے بعد طلاق => مسائل طلاق اللہ تعالیٰ کی معیت => مسائل عقیدہ ایک مجلس کی تین طلاقیں => مسائل طلاق مفاہیم عشق => مقالات علم سے دوری کیوں؟ => مقالات

میلنگ لسٹ

بريديك

موجودہ زائرین

باقاعدہ وزٹرز : 59068
موجود زائرین : 16

اعداد وشمار

47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
272
فتاوى
56
مقالات
187
خطبات

تلاش کریں

البحث

مادہ

اسٹاک مارکیٹ/ ایکسچینج کی شرعی حیثیت

سوال:

سٹاک مارکیٹ سے حصص خریدنے اور بیچنے کا کاروبار شریعت میں جائز ہے؟ یا منع ہے؟ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

اسٹاک مارکیٹ یا اسٹاک ایکسچینج میں ‘ جوانئٹ اسٹاک کمپنی (joint stock company) کے حصص(shares) کی تجارت ہوتی ہے۔ اس لیے پہلے چند اہم باتوں کو سمجھ لیں کہ یہ کیا ہیں تاکہ مسئلہ سمجھنے میں آسانی رہے۔

 

جوائنٹ اسٹاک کمپنی (Joint Stock Company) :

چند افراد کا مل جل کر مضاربت یا مشارکت کے اصولوں کے مطابق کاروبار کرنا تو قدیم زمانہ سے ہی مروج ہے۔ دین اسلام نے اس مضاربت کے کاروبار کو کچھ ا صولوں اور ضابطوں کا پابند کرکے اسے برقرار رکھا۔  سترہویں صدی عیسوی میں اسی سے ملتی جلتی ایک نئی صورت سامنے لائی گئی جسے جوائنٹ اسٹاک کمپنی  (Joint Stock Company)   کا نام دیا گیا۔ یورپ میں صنعتی انقلاب کے دوران بڑے بڑے کارخانے قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چونکہ ہر جگہ ایک ہی آدمی یا چند افراد مل کر اتنا سرمایہ فراہم نہیں کرسکتے تھے‘ سو یہ طے پایا کہ کسی بھی کارخانے کے تمام تر اجزاء کو چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کرکے اسے عوام میں پیش کر دیا جائے ‘ تاکہ لوگوں کو انہیں خرید کر اس کاروبار میں شراکت کاموقع مل سکے اور بڑے بڑے کارخانے چلانے کے لیے سرمایہ بھی میسر آسکے۔ چنانچہ اس طرح یہ جوائنٹ اسٹاک کمپنیاں  معرض وجود میں آئیں۔ ان کمپنیوں کو حکومت کی طرف سے اجازت لینا ہوتی ہے اور پھر حکومتی نگرانی میں یہ کام کرتی ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کارپوریٹ لاء اتھارٹی (Corporate Law Authority) کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے جو ایسی کمپنیوں کی تشکیل اور کنٹرول کا کام کرتا ہے۔

اس طرز شراکت کی معروف طریقہ مضاربت سے جہاں مشابہت ہے وہیں کچھ اختلاف بھی ہے۔ مثلا:

1- مضاربت میں افراد کی موجودگی اور شراکت ایک دوسرے پر واضح ہوتی ہے ۔ جبکہ کمپنی میں شرکاء کثرت اور آئے روز تبدیلی کی بناء پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کاروبار میں کون کون شریک ہے۔

2- مضاربت میں بوقت ضرورت مضارب کو اپنا حصہ واپس لینے کی گنجائش ہوتی ہے۔ جبکہ کمپنی میں ایسا ممکن نہیں‘ ہاں کمپنی ہر مضارب کو اپنا حصہ فروخت کرکے قیمت حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

3- مضاربت میں شرکاء کو براہ راست کاروبار یا اثاثہ جات میں تصرف کا اختیار ہوتا ہے۔ جبکہ کمپنی میں صرف اس شخص کو تصرف کا اختیار ہوتا ہے جسکے پاس نصف سے زائد حصص ہوں ۔ باقی شرکاء میں سے کسی کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ میری رقم کے عوض کمپنی میں کیا چیز موجود ہے ۔ حتى کہ پنتالیس فیصد حصص رکھنے والا بھی کمپنی کے کسی "خاص" ذرہ کا مالک تصور نہیں ہوتا!۔ وہ بوقت ضرورت اپنے حصص فروخت کرکے رقم تو وصول کرسکتا ہے‘ کمپنی کی اشیاء میں کوئی ایک بھی چیز لے کر مضاربت سے الگ نہیں ہوسکتا۔

 

اسٹاک مارکیٹ/ ایکسچینج :

ایسی کمپنیوں میں چونکہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگ شامل ہوتے ہیں ‘ اس لیے کسی بھی وقت کسی بھی  شریک کو اپنی شراکت ختم کرنے یا کسی نئے فرد کو کمپنی کی شراکت اختیار کرنے کی ضرورت رہتی ہے۔ جبکہ کمپنی کے لیے ہر وقت ایسے لوگوں سے حساب کتاب کرتے رہنا ممکن نہیں ہوتا‘ لہذا کمپنی اپنے کاروبار کی تمام تر تفصیلات ایک بازار میں مہیا کرتی ہے ۔ ان تفصیلات کو کمپنی کا پراسپیکٹس اور اس بازار کو ااسٹاک ایکسچینج  (Stock Exchange)یا اسٹاک مارکیٹ(Stock Market) کہا جاتا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج ایک پرائیویٹ ادارہ ہوتا ہے جو حکومت کی اجازت کے ساتھ  ایسی کمپنیوں کے حصص کی خرید وفروخت کا اہتمام کرتا ہے جو قابل اعتماد ہوتی ہیں  انہیں لسٹڈ کمپنیاں (Listed Companies) کہا جاتا ہے۔ اور جن کمپنیوں کے حصص کی ذمہ داری اسٹاک ایکسچینج قبول نہیں کرتا انہیں اَن لسٹڈ کمپنیاں (Unlisted Companies)کہا جاتا ہے ۔ یہ کمپنیاں دیگر ذرائع سے اپنے حصص فروخت کرتی ہیں۔

 

شیئرز (Shares):

شیئرز کو اردو میں حصص کہتے ہیں ۔ یہ شیئر یعنی حصہ کی جمع ہے۔ عربی زبان میں اسکے لیے أَسْہُم کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو کہ سَہْم کی جمع ہے۔

شیئرز یا حصص در اصل کسی بڑے کاروباری ادارہ کی کل مالیت کے چھوٹے چھوٹے اجزاء کو کہا جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر جو کاروبار جتنے سرمائے سے چل رہا ہے اس تمام ترسرمائے کو اکائیوں پر تقسیم کیا جاتا ہےاور ان میں سے ہر اکائی ایک حصہ یا شیئر کہلاتی ہے۔ مثلا ایک کاروبار ایک کروڑ روپے سے چل رہا ہے تو اسکی کل اکائیاں ایک کروڑ بنتی ہیں ‘ تو یہ ایک کروڑ اس کاروبار کے حصص ہیں‘ جو کہ ایک روپیہ فی حصہ کے حساب سے ہیں۔ اور اگر اس کاروبار کے ایک حصہ کی قیمت ایک روپے کے بجائے دس روپے مقرر کی جائے تو اسکے کل حصص دس لاکھ بنیں گے ‘ اور ہر حصہ دس روپے کا ہوگا۔

 

شیئر سرٹیفیکیٹ:

جو شخص کسی کمپنی کے حصص خریدتا ہے اسے شیئر ہولڈر کہا جاتاہے ۔ اور کمپنی اس خریدار کو بطور ثبوت جو رسید مہیا کرتی ہے اسے شیئر سرٹیفیکیٹ کہتے ہیں۔  ان شیئر سرٹیفیکیٹس کی دو صورتیں ہوتی ہیں ۔

 

1- رجسٹرڈ شیئر  (Registered Share)

رجسٹرڈ شیئر وہ سرٹیفیکٹ  ہے جس پر شیئر ہولڈر کا نام درج ہوتا ہے کہ فلاں شخص اس شیئر کا مالک ہے۔

 

2- بیئرر شیئر (Bearer Shares)

بیئرر شیئر وہ سرٹیفیکیٹ ہے کہ جس پر شیئر ہولڈر کا نام درج نہیں ہوتا‘ جس کے پاس وہ سرٹیفیکیٹ ہو وہی اسکا مالک سمجھاجاتا ہے۔

 

حصص کی اقسام:

1- ابتدائی حصص:

کسی کمپنی کی تشکیل سے پہلے ایک ابتدائی تخمینہ تیار کیا جاتا ہے۔اسے فزیبلٹی رپورٹ (Fusibility Report) کہتے ہیں۔ اسی طرح کمپنی کا اجتماعی ڈھانچہ (Memorandum) تیار کیا جاتا ہے۔ اور کمپنی کے قواعد وضوابط (Articles of Association) طے کیے جاتے ہیں ۔ پھر حکومتی ادارہ کارپوریٹ لاء اتھارٹی) کے سامنے ان چیزوں کو پیش کرکے اجازت نامہ حاصل کیا جاتا ہے۔ اور کمپنی اگر دیگر لوگوں کو اپنے ساتھ شریک کرنا چاہے تو وہ ان امور سے انہیں مطلع کرنے کے لیے تعارفی تحریر (Prospectus) جاری کرتی ہے۔

اس تحریر کے مطابق اگر کمپنی کے اثاثہ جات کی مالیت مثلا ایک لاکھ روپے ہے تو وہ ایک لاکھ کے حصص جاری کرتی ہے۔ اور لوگ حسب حیثیت حصص خرید کر کمپنی کے شراکت دار بن جاتے ہیں۔ اس طرح جمع شدہ نقدی سرمایہ کو سیال سرمایہ (Liquid Asset) کہاجاتا ہے اور جب اس سے مشینری ‘ خام مال وغیرہ خرید لیا جائے تو اسے منجمد سرمایہ (Fixed Asset) کہتے ہیں۔ اسکے علاوہ سرمایہ کی ایک   صورت  غیر مادی اثاثوں (Intangible Asset) کی بھی ہے جیسے گڈ ول (Good Will) وغیرہ۔

2- دورانی حصص:

اس سے مراد وہ حصص ہیں جو پہلے سے چلتی ہوئی کمپنی یا کاروباری ادارے کے ہوتے ہیں ۔ اور کمپنی کسی ضرورت کے تحت انہیں فروخت کرتی ہے۔ اس صورت میں اثاثہ جات منجمد سرمایہ (Fixed Asset) یا غیر مادی اثاثوں (Intangible Asset) مثلا گڈ ول (Good Will) وغیرہ کی صورت میں ہوتے ہیں۔

 

3- ترجیحی حصص (Preference Share):

یہ حصص عام حصص (Ordinary Shares) سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان حصص کے خریدار کو عام شیئر ہولڈرز پر ترجیح دی جاتی ہے ۔ اور اس ترجیح کی مختلف صورتیں ہیں مثلا نفع و نقصان کی بجائے صرف نفع میں شراکت‘کمپنی کے سالانہ اجلاس میں ووٹ دینے یا اپنی رائے منوانےمیں ترجیح‘ ان حصص کا نفع عام شیئرز کی نسبت زیادہ‘ وغیرہ۔

 

اسٹاک ایکسچینج اور دلالی:

اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی خرید وفروخت کا کام بہت زیادہ گنجلک ہوتا ہے۔ اس لیے کمپنیاں نقصان سے بچنے کی خاطراس فن کے ماہرین کو اپنا نمائندہ بناتی ہیں اور انہیں ممبر شپ سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج کے یہ ممبران جہاں اپنے لیے حصص خریدتے اور بیچتے ہیں ‘ وہاں بحیثیت دلال (Broker) دوسروں کے لیے بھی کمیشن پر شیئرز کی خریدوفروخت کرتے ہیں۔یہ دلال درج ذیل صورتوں کے مطابق سودے بازی کرتے ہیں:

 

 

1- مارکیٹ آرڈر (Market Order):

یعنی دلال کو یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں کمپنی کے شیئرز مارکیٹ ریٹ پر خرید  دو ۔

 

2- لمیٹڈ آرڈر (Limited Order):

دلال کو ایک قیمت بتائی جاتی ہے کہ فلاں کمپنی کے حصص جب ممکن ہوں تو اس ریٹ میں خرید دو۔

 

3- سٹاپ آرڈر (Stop Order):

دلال کو کہاجاتا ہے کہ اگر حصص کی قیمت فلاں نرخ سے گرنے لگے تو فروخت کردو۔

 

4- شارٹ سیل آرڈر (Short Sale Order):

دلال ایسے حصص بیچتا  ہے جو اسکی ملکیت میں موجود نہیں ہوتے۔ البتہ اسے قوی امید ہوتی ہے کہ سودا  ہوجانے کے بعد یہ حصص خرید کر دے دوں گا اور اپنا کمیشن وصول کر لوں گا۔

 

حصص کے خریدار:

شیئرز خریدنے والے (Share Holder) بنیادی طور پر دو طرح کے ہوتے ہیں :

1- نفع نقصان کی بنیاد پر شرکت کرنے والے:

یہ لوگ شیئرز خرید کر کمپنی کے حصہ دار بن جاتے ہیں اور مضاربت کی بنیاد پر کمپنی کے سالانہ نفع یا نقصان میں حصہ دار بنتے ہیں۔

2- شیئرز کو مال تجارت سمجھ کر خریدنے والے:

یہ لوگ کسی کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں اور جب ان پر مناسب نفع ملے تو انہیں فروخت کر دیتے ہیں۔ یعنی اس صورت میں شیئرز بذات خود مال تجارت سمجھے جاتے ہیں ۔ اس قسم کے لوگ اسٹاک مارکیٹ پر نظر رکھتے ہیں اور مختلف کمپنیوں کے اتار چڑھاؤ پر اندازے لگاتے رہتے ہیں جب انہیں کسی کمپنی کے حصص کی قیمتیں بڑھتی ہوئی نظر آئیں تو وہ سستے داموں ا نہیں خرید لیتے ہیں اور پھر قیمتیں بڑھنے پر فروخت کر دیتے ہیں۔ اس صورت میں شیئرز کی قیمت بڑھنے سے جو نفع حاصل ہوتا ہے اسے کیپٹل گین (Capital Gain) کہا جاتا ہے۔  اور اسٹاک مارکیٹ میں زیادہ تر خریدار اسی قسم سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں ۔ پہلی قسم کے خریدار آٹے میں نمک بھی نہیں ۔

 

اسٹاک مارکیٹ / اسٹاک ایکسچینج کے بارہ میں درج بالا بنیادی باتیں سمجھنے کے بعد شرعی طور پہ اسکی حرمت کا پہلو کافی حد تک واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ

تمام تر لسٹڈ کمپنیاں سود میں ملوث ہوتی ہیں , خواہ وہ براہ راست سودی کاروبار کر رہی ہوں, یا بالواسطہ مثلا بینک اکاؤنٹس وغیرہ کے ذریعہ سودی معاملات میں دخیل اور معاون ہوں۔ اور سود کو اللہ سبحانہ وتعالى نے حرام قرار دیا ہے۔

 اس کاروبار میں ایک اور بڑی قباحت ہے : "بیع ما لا یملک" یعنی ایسی چیز کی تجارت جسکا انسان مالک نہیں۔ اور اسلام نے اسے بھی حرام قرار دیا ہے۔

 اسی طرح اس مارکیٹ میں "اصل مال کے بجائے رسیدوں کی بیع" ہوتی ہے۔اور مارکیٹ میں موجود دلال انہیں رسیدوں کی قیمتیں اپنے خاص مقاصد کی خاطر بڑھاتے اور کم کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ کمپنی کے اثاثہ جات میں حقیقی اضافہ اور کمی کا تناسب کچھ اور ہوتا ہے۔

طلب ورصد کی بنیاد پر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی ا یک فطری عمل ہے ۔ لیکن یہاں ایک کمپنی اپنے ادارہ کے پچاس فیصد حصہ کے مثلا ایک لاکھ حصص بناتی ہے جن میں سے ایک حصہ مثلا 100 روپے کا ہے۔ تو وہی حصص جنکی مالیت سولاکھ روپے ہے دلالوں کی کرم فرمائی سے بہت مہنگے ہو جاتے ہیں ۔ ابتدائی طور پہ ایک حصہ 100 روپے کا تھا, لیکن آخر تک پہنچتے پہنچتے وہی ایک حصہ 200 روپے کا ہو جاتا ہے۔

یہاں یہ بات سمجھنے والی ہے کہ ان حصص کی قیمتوں میں اس طرح اضافہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ ابتداء میں جس نے 100 روپے میں ایک شیئر خریدا اور آخر میں جس نے 200 روپے میں ایک شیئر خریدا وہ دونوں کمپنی کے نفع یا نقصان میں برابر حصہ دار بنتے ہیں۔ جبکہ اگر ایک شیئر کے پیچھے کمپنی میں جو اثاثہ ہے اسکے بڑھنے کی بناء پر حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو زیادہ رقم لگانےوالا زیادہ نفع کا حقدار ہوتا ہے۔ اور اگر حصص جن اثاثہ جات کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں ان کی قیمت میں اضافہ ہو جائےتو تب شیئر مہنگے ہو جاتے ہیں ۔ لیکن کمپنی کی ملکیت میں موجود اثاثہ جات میں سوائے قطعہ ارضی باقی تمام تر اشیاء دن گزرتے اپنی قیمتیں کم کرتی جاتی ہیں, کیونکہ بلڈنگ, اور مشینری وغیرہ جیسے جیسے استعمال ہوتی جائے اور پرانی ہوتی جائے اسکی قیمت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو انکی قیمتوں میں بھی شیئرز کی صورت مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے, جو کہ صریح دھوکہ دہی ہے۔ جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ اور غرر اور دھوکہ دہی کے اور بھی کئی انداز ہیں جو اسٹاک مارکیٹ میں رائج ہیں ۔

تمہیدی سطور کو بغور پڑھنے سے جن کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس مارکیٹ میں شیئر کے حصص کو بڑھانے میں جس چیز کو دلیل بنایا جاتا ہے وہ ہے "گڈول" ۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جسکا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے۔ اسی طرح شیئرز کی ایک قسم جنہیں ترجیحی حصص (Preference Share) کہا جاتا ہے یہ بھی واضح ظلم ہے۔

هذا، والله تعالى أعلم،وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم،والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وأصحابه وأتباعه، وبارك وسلم


وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

  • السبت PM 10:31
    2022-02-05
  • 4005

تعلیقات

    = 9 + 8

    /500
    Powered by: GateGold