اعداد وشمار
مادہ
شراب اور جوٹھے کی نجاست
درس کا خلاصہ
حلال جانور کا جوٹھا پاک ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
شراب اور جوٹھے کی نجاست
سیدنا انس ابن مالک کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے شراب کے بارے سوال کیا گیا کہ کیا اس کا سرکہ بنا لیا جائے ؟ یعنی شراب ہے، اس کو کیمیائی عمل کےذریعے سرکے میں تبدیل کر دیا جائے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا»([1])
’’نہیں۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو ایک مرتبہ چیز شریعت نے حرام قرار دے دی ہے، اس کو کسی بھی صورت استعمال کرنا درست نہیں۔ جو نجس چیز ہے اس نجس چیز کو آپ پاک صاف کرنے کی کو شش کریں اور اس کے کیمیائی خواص کو تبدیل کریں اور اس کو استعمال کرنا چاہیں تو شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی ، اور جس چیز کو کھانا پینا شریعت حرام کرتی ہے ، اس کی خرید و فروخت بھی حرام کرتی ہے ۔
نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: «قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا» ([2])
’’اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے جب اللہ نے ان پر جانوروں کی چربیاں حرام کی تو انہوں نے چربی کو پگھلایا اور اس کا گھی بنا کر بیچا۔‘‘ یہود پر چونکہ چربی حرام تھی، اس لیے وہ خود نہیں کھاتے تھے وہ اس کو آگے بیچتے تھے۔ ’’وہ چربیوں کی قیمت کھاتے تھے ۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے ان کے اس عمل کی وجہ سے ان پر لعنت فرمائی کیونکہ انہوں نے حرام سے کمائی کرنے کا ایک ذریعہ بنا دیا ۔ اور فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ» ([3])
’’اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کوئی کھانا حرام فرماتے ہیں، تو اس کی قیمت بھی حرام ہو جاتی ہے۔ ‘‘
اسی طرح سیدنا انس بن مالک کہتے ہیں کہ خیبر کےدن ابو طلحہ کے ذریعے نبی کریم ﷺ نے اعلان کروایا: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ, فَإِنَّهَا رِجْسٌ» ([4])
’’اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہیں گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے گھریلو گدھے کے گوشت کو ناپاک قرار دیا ہے ۔ نام لے کر اس کی حرمت بیان کی ہے ۔
عمرو بن خارجہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ منیٰ میں (حج کا) خطبہ دے رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے ۔ میں نے مہار تھا می ہوئی تھی اور اونٹنی کا لعاب میرے کندھے پر گر رہا تھا۔ ([5])
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال جانور کا جوٹھا، اور اس کا لعاب پاک ہے۔ اگر نجس یا ناپاک ہوتا تو نبی کریم ﷺ اسے منع کردیتے۔ اگر کوئی حلال جانور جیسے بکری وغیرہ پانی پی لے تو اس کا جوٹھا ناپاک نہیں ہے ۔ جیسا کہ بلی کے بارے میں حدیث ہے کہ وہ حرام ہے، ناپاک نہیں ہے: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ, إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ» ([6])
’’وہ تو تم پر گھومنے ،چکر لگانے والی میں سے ہے۔‘‘
اگر اس سے اجتناب کا حکم دے دیاجائے تو پھر تمہاری کوئی بھی چیز باقی نہ بچے۔ یعنی حلا ل جانور کا لعاب اور اس کا جوٹھا حلال ہے۔ اسی طرح بلی اگرچہ حرام جانور ہے۔ لیکن اس کا جوٹھا بھی شریعت نے پاک قرار دیا ہے ۔
___________________________________
([2]) البخاري (2224)، ومسلم (1583)
([3]) أحمد (2221)، وابن حبان (4938)
([4]) البخاري (2991)، ومسلم (1940)
([5]) أحمد (487)، والترمذي (2121)
([6]) أبو داود (75)، والنسائي (1/ 55 و 178)، والترمذي (92)، وابن ماجه (367) وابن خزيمة (104)
-
الاحد PM 05:33
2022-04-10 - 1256





