اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

استنجاء کا طریقہ

درس کا خلاصہ

قضائے حاجت کے بعد طہارت حاصل کرنے کا مسنون طریقہ



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

استنجاء کا طریقہ

 

سیدنا ابو قتادہ ﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَا يُمْسِكَنَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَهُوَ يَبُولُ, وَلَا يَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلَاءِ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ» ([1])

’’تم میں سے کوئی آدمی پیشاب کرتے ہوئے اپنے ذکر (اگلی شرمگاہ)کو دائیں ہاتھ سے  نہ چھوئے،نہ ہی دائیں ہاتھ سے استنجا کرےاور نہ ہی برتن میں سانس لے۔‘‘

نبی کریم ﷺ نے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونے اور استنجاء کرنے سے منع کیا ہے۔ اسی طرح سلمان فارسی ﷜ فرماتے ہیں:

« لَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ, أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ, أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ, أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ عَظْمٍ» ([2])

’’ہمیں نبی کریم ﷺ نے قضائے حاجت کرتے ہوئے (یعنی پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے) قبلے کی طرف رخ کرنے سے منع کیا ہے،اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے بھی منع کیا،تین ڈھیلوں سے کم کے ساتھ استنجا کرنے سےبھی منع کیااوار گوبر یا ہڈی کے ساتھ بھی استنجاء کرنے سے منع کیا۔ ‘‘

یعنی نہ تو قبلے کی طرف رُخ کرنا ہے، نہ ہی تین ڈھیلوں سے کم کے ساتھ استنجاء کرناہے۔ اگر استنجاء کرتے ہوئے ڈھیلے استعمال کرنے ہیں  تو کم ازکم تین ڈھیلے ہوں،اور ان میں کوئی گوبر یا ہڈی شامل نہ ہو۔

سیدنا ابو ایوب انصاری ﷜ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ, وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا»([3])

قضائے حاجت کرتے ہوئے ، پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے رخ نہ کرو بلکہ اپنا رخ قبلے سے پھیر لو۔ (وہاں  قبلہ شمال میں تھا تو فرمایا ) مشرق یا  مغرب کی طرف منہ کر لو۔‘‘

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ قضائے حاجت کرنے کے لیے آئے اور آپﷺ نے مجھے تین پتھر لا نے کا حکم دیا۔ مجھے دو پتھر ملے، تیسرا نہیں ملا  تو میں ایک لید لے آیا۔ حدیث میں «الرَّوْثَة» کا لفظ ہے جس کا معنیٰ ہے: لید اور  گوبر۔   نبی کریم ﷺ نے وہ دونوں پتھر لیے اور لید کو پھینک دیا اور فرمایا: «هَذَا رِكْسٌ» ([4])

’’یہ ناپاک ہے۔‘‘

اور احمد اور دارقطنی کی روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: «ائْتِنِي بِغَيْرِهَا» ([5])

’’مجھے استنجاء کرنے کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی چیز لا کے دے دو ۔‘‘

سیدنا ابو ہریرہ ﷜ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ  نے ہڈی یا گوبر کے ساتھ استنجاء کرنے سے منع کیا اور فرمایا: «إِنَّهُمَا لَا يُطَهِّرَانِ» ([6])

’’یہ دونوں پاک نہیں کرتے۔‘‘

اس میں نبی کریم ﷺ نے قضائے حاجت کرنے کا اور استنجاء کرنے کا مکمل طریقہ کا ربتایاہے ۔ پہلے چونکہ عرب میں پانی کی قلت تھی، اب بھی قلت ہے، پہلے بہت زیادہ تھی تو استنجاء کے لیے عام طور پر پانی کے بجائے ڈھیلے استعمال کیے جا تے تھے تو اس کے لیے نبی کریم ﷺ نے معیا ر مقرر کیا کہ ہڈی گوبر وغیرہ استعمال نہیں کرنا۔ مٹی کے ڈھیلے ہوں یا پتھر ہوں اور کم از کم تین کی تعداد میں ہوں۔ اس سے کم نہ ہوں۔ زیادہ بے شک ہو جائیں ۔ پانی کے ساتھ استنجاء کرنا بھی نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔

کچھ لوگ ایک روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ ڈھیلوں کے ساتھ پانی بھی استعمال کرنا چاہیے۔اس روایت میں یہ ہے کہ جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اہل قباء کی تعریف کی کہ:

 فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ [التوبۃ: 108]

’’وہ لوگ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالی پاک رہنے والوں  سے محبت کرتا ہے ۔‘‘

تو انہوں (اہل قباء) نے کہا  کہ ہم پہلے ڈھیلوں سے استنجاء کرتے ہیں، اس کے بعد پانی سے بھی کرتے ہیں اس لیے ہمارے لیے یہ تعریف کی گئی۔ ([7])

یہ روایت پایہ ثبوت کو  نہیں   پہنچتی۔ سنن ابی داؤد  میں صحیح  حدیث موجود ہے ان کی یہ تعریف  اللہ سبحانہ و تعالی نے اس لیے کی تھی کہ «كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ»  وہ پانی کے ساتھ استنجاء کرتے تھے۔ ([8])

جب پانی موجود ہو استنجاء کرنے کے لیے  پھر ڈھیلے استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔پانی کی موجودگی میں پتھروں اور ڈھیلوں کا استعمال  کرنا نبی کریمﷺ سےثابت نہیں  ۔ آج اس جدید دور میں بھی کچھ لوگ پتہ نہیں کیا عجیب و غریب قسم کی ذہنیت رکھتے ہیں ۔ بڑے بڑے اجتماعات میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ استنجاء کرنے کے لیے پانی موجود ہوتا ہے، لیکن وہ ڈھیلے (مٹی کے پتھر) اکٹھے کر رہے ہوتے ہیں،اور پھر سر عام ازاربند ہاتھ میں  پکڑا ہوتا ہے اور استنجاء کررہے ہوتے ہیں ۔ بڑے عجیب و غریب فحش قسم کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

 تو نبی کریم ﷺ سے ہرگز یہ ثابت نہیں  ہے کہ پانی موجود ہو اور اس کے باوجود آپ نے مٹی سے، پتھروں سے ، ڈھیلوں سے استنجاء کیا ہو۔ ہاں جب پانی  نہیں ہے تو اکیلے پتھر یا مٹی کے ڈھیلےطہارت حاصل کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اور اگر پانی موجود ہو، پھر ان کی ضرورت ہی نہیں ، کیونکہ پانی کے ساتھ زیادہ بہتر  طہار ت حاصل ہو جاتی ہے ۔

____________________

([1])           البخاري (153)، ومسلم (267) (63)

([2])           مسلم (262)

([3])           البخاري (144 و 394)، ومسلم (264)، وأبو داود (9)، والنسائي (12 - 23)، الترمذي (8)، وابن ماجه (318)، وأحمد (5/ 414 و 416 و 417 و 421)

([4])           البخاري (156)

([5])           أحمد (1/ 450)، والدارقطني (1/ 55)

([6])           الدارقطني (1/ 56/9)

([7])           البزار (227/كشف الأستار)

([8])           أبو داود (44)، والترمذي (3100)

  • الاحد PM 05:51
    2022-04-10
  • 2490

تعلیقات

    = 2 + 4

    /500
    Powered by: GateGold