اعداد وشمار
مادہ
نجاست ختم کرنے کا طریقہ
درس کا خلاصہ
کتے کے جوٹھے کی نجاست ختم کرنے کا طریقہ
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
نجاست ختم کرنے کا طریقہ
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ, أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ» ([1])
’’جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار جائے یا برتن کو چاٹ جائے،تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے۔ پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ اور اس کے بعد پانی کے ساتھ ۔‘‘
ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: «فَلْيُرِقْهُ» ([2])
’’برتن میں اگر کچھ ہے، جس میں کتے نے منہ مارا ہے، اسے استعمال نہ کرو، بلکہ اس کو گرا دو ۔‘‘
ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بلی کے متعلق فرمایا: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ, إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ» ([3])
’’بلی نجس نہیں ہے۔ یہ تم پر چکر لگانے والے جانوروں میں سے ہے۔ یہ تو گھروں میں آتی جاتی رہتی ہے۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ بلی اگر کسی چیز میں منہ مار جائے، کچھ کھا پی جائے، اس کے باقی بچے ہوئے کھانے، پینے کو استعمال کرنا جائز ہے۔ نہ چیز ناپاک ہوتی ہے، نہ ہی اس کا استعمال منع ہو جاتا ہے۔
سیدنا انس ابن مالک کہتے ہیں کہ ایک اعرابی یعنی دیہاتی آیا۔ اس نے مسجد کے کونے میں پیشاب کیا۔ لوگ اس کو ڈانٹنے اور منع کرنے لگے۔نبی کریمﷺ نے لوگوں کو روک دیا۔ جب وہ پیشاب کرکے فارغ ہوگیا تو آپﷺ نے حکم دے کر پانی کا ایک ڈول منگوایا اور جہاں اس نے پیشاب کیا تھا، اس پر بہا دیا۔ پھر اس دیہاتی کو جس نے یہ کا م کیا تھا، بلا یا اور سمجھایا کہ مسا جد اللہ کا ذکر کرنے اور نماز پڑھنے کے لیے ہو تی ہیں۔اس کام کے لیے نہیں ہیں۔([4])
سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ, ثُمَّ لِيَنْزِعْهُ, فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً, وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً» ([5])
’’جب تم میں سے کسی کے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو ڈبو دے ، پھر اس کو نکا ل دے کیونکہ اس کے ایک پَر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء۔‘‘
ابو داؤد کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ» ([6])
’’جب وہ پانی میں گرتی ہے تو اس پَر سے سہارا لیتی ہے جس میں بیماری ہے۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مکھی کے گرنے سے یا بلی کے منہ مار جانے سے کوئی چیز ناپاک اورنجس نہیں ہوتی ۔ پیشاب اگر کسی جگہ پر گر جائے تو وہ جگہ یا چیز ناپاک ہو جائے گی اور اس کو دھویا جائے گا۔ کتا اگر کسی چیز میں منہ مار جائے تو وہ چیز کھانے کے قابل نہیں رہتی۔ اس کو گرا دیا جائے۔ وہ برتن بھی ایک ، دو مرتبہ دھونے سے پاک نہیں ہو گا، بلکہ اس کو سات مرتبہ دھویا جائے گا۔ پہلی مرتبہ مٹی مل کے اس کو دھویا جائے اور اس کے بعد پھر مزید اس کو دھویا جائے۔ کل سات مرتبہ برتن دھویا جائے گا، پھر برتن پاک ہوگا ۔
مکھی کے علاوہ جتنے بھی چھوٹے پتنگے ،مچھر وغیرہ اور اس طرح کے حشرات ہیں، اگر کھانے پینے کی چیز میں گر جاتے ہیں تو ان کو ویسے ہی اٹھا کے اور نکال کے پھینک دیں اور وہ چیز استعمال کرلیں۔ اسی طرح لقمہ اگر گر جاتا ہے تو اس کو اٹھا کے اور صاف کرکے کھا لیں۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: «إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ»([7])
’’جب تم میں سے کسی کاکوئی لقمہ گرے اور اس پر کوئی تکلیف دہ چیز لگ جائے تو وہ صاف کرلے اور اس لقمے کو اٹھا کر کھا لے ،اور شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔‘‘
لہٰذا اگر لقمہ گر جاتا ہے اور اس پر مٹی وغیرہ کوئی چیز لگ جاتی ہے تو اس کو صاف کر کے کھانے کا حکم ہے۔
__________________________
([3]) أبو داود (75)، والنسائي (1/ 55 و 178)، والترمذي (92)، وابن ماجه (367) وابن خزيمة (104)
([4]) البخاري (219)، ومسلم (284)
-
الاحد PM 06:10
2022-04-10 - 1295





