اعداد وشمار
مادہ
کپڑے کی طہارت
درس کا خلاصہ
اگر کپڑے پہ نجاست لگ جائے تو اسے کیسے پاک کیا جائے گا
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
کپڑے کی طہارت
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَغْسِلُ الْمَنِيَّ, ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ, وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْغُسْلِ فِيهِ» ([1])
’’نبی کریم ﷺ منی کو دھوتے اور پھر اس دھلے ہوئے کپڑے میں نماز پڑھنے کے لیے نکل جاتے اورمیں اس دھوئی ہوئی جگہ کو دیکھ رہی ہوتی۔‘‘
دوسری روایت میں ہے، فرماتی ہیں: «لَقَدْ كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَرْكًا, فَيُصَلِّي فِيهِ» ([2])
’’میں نبی کریم ﷺکے کپڑے سے کھرچ کے منی کو صاف کرتی تھی۔ آ پﷺ اس میں نماز پڑھ لیتے تھے۔‘‘
نجاست اگر کپڑے کو لگ جائے تو اس کو دھو دیا جائے۔ دھونے کے فوراً بعد وہ کپڑا پاک اور قابل استعمال ہوجاتا ہے ۔ اس میں نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔
اسی طرح عام طور پہ یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اگر مباشرت کے وقت انسان نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں تو کیا ان میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ یہ مسئلہ بھی اسی حدیث سے حل ہوگیا کہ اگر کوئی نجاست لگی ہے تو اسے دھو دیا جائے اور اس کے بعد انہی کپڑو ں میں، اگر وہ لباس نماز کے لیے موزوں ہے، نماز ادا کی جاسکتی ہے ۔
سیدنا ابو سمح کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: «يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ, وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ» ([3])
’’چھوٹی بچی اگر کسی کپڑے پر پیشاب کر دے تو اس کو دھویا جائے گا اور اگر چھوٹا دودھ پیتا بچہ ہو (جودودھ کے علاوہ اور کچھ نہ کھاتا پیتا ہو ،غالب غذا اس کی ماں کا دودھ ہی ہو) تو اس کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے۔‘‘
یعنی محض چھینٹے مار دینے سے ہی وہ کپڑا پاک ہوجائے گا ۔ اس میں نماز ادا کرسکتے ہیں ۔اور بچی چاہے ایک دن کی ہی ہو، اس کے پیشاب کو دھونا پڑے گا ۔ اس کے بغیر وہ کپڑا پاک نہیں ہوگا۔
سیدہ اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حیض کے خون کے بارے میں ارشاد فرمایا: «تَحُتُّهُ, ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ, ثُمَّ تَنْضَحُهُ, ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ» ([4])
’’اس کو اچھی طرح سے رگڑو، پھر پانی کے ساتھ اس کو ملو اور اس کونچوڑو اور پھر اس میں نماز پڑھ لو ۔‘‘
اسی طرح ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ خولہ نے نبی کریم ﷺسے سوال کیا: ’’خون دھویا ہے، لیکن دھونے کے باوجود اس کا نشان نہیں گیا، تو کیا کریں؟ نبی کریم ﷺنےفرمایا: «يَكْفِيكِ الْمَاءُ, وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ» ([5])
’’تجھے پانی کافی ہے اور اس کا داغ اور نشان تجھے کوئی نقصان نہیں دے گا۔‘‘
یعنی اس کا کوئی حرج نہیں ہے۔ کپڑا پاک ہو گیا ۔ اب وہ اس قابل ہے کہ پہن کر نماز ادا کی جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی بھی کپڑے پرنجاست لگ جائے اور اس کو دھو کر صاف کرلیا جائے تو اس کو پہن کر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ اگر نجاست کا نشان اور اس کاداغ کپڑے پر باقی بھی رہ جائے تو اس میں مضائقہ نہیں ہے۔ دھونے کے ساتھ وہ پاک ہوچکاہے۔
اللہ سمجھنے اورعمل کرنے کی توفیق دے۔
_______________________________________
([1]) البخاري (229)، ومسلم (289)
([3]) أبو داود (376)، والنسائي (158)، والحاكم (166)
([4]) البخاري (227)، (307)، مسلم (291)
-
الاحد PM 06:17
2022-04-10 - 1420





