اعداد وشمار
مادہ
مٹی بھی پاک کرتی ہے
درس کا خلاصہ
پانی کی عدم موجودگی میں مٹی سے طہارت حاصل کی جاسکتی ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
مٹی بھی پاک کرتی ہے
سیدنا جابر ابن عبداللہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ, وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا, فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِي المَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً» ([1])
’’مجھے پانچ ایسی خوبیاں عطاکی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھی۔میں اپنے دشمن سے ایک مہینے کی مسافت پر ہوتا ہوں تو دشمن پہلے ہی ڈرنے لگتا ہے۔(مسجد پہلے ادوار میں خاص ہوتی تھی لیکن) میرے لیے ساری کی ساری زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔ کسی آدمی کو ، کہیں پر بھی نماز کا وقت ہوجائے، وہ وہاں پر نماز پڑھ لے۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا۔ مجھے شفاعت کا اختیار دیا گیا ہے۔ پہلے ہر نبی کو اس کی قوم کی طرف مبعوث کیاجاتا تھا اور مجھے تمام تر لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ۔‘‘
یہ نبی کریم ﷺ کے پانچ خصائص ہیں جو اس حدیث میں ذکر ہو ئے ہیں۔ اس میں طہارت کے متعلق یہ فرمان ہے: «وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا»
’’زمین ساری کی ساری میرے لیے مسجد اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔‘‘
حذیفہ یہ روایت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: «وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا, إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ» ([2])
’’جب ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی ہمارے لیے طہارت حاصل کرنے کاذریعہ بنا دی گئی ہے۔‘‘
سیدنا علی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: «وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا»([3])
’’اور میرے لیے مٹی کو پاک کرنے والی بنادیا گیا ہے ۔‘‘
یعنی جس طرح پانی کے ساتھ طہارت حاصل کی جاتی ہے، اسی طرح مٹی کے ساتھ بھی طہارت حاصل کی جاسکتی ہے۔ جیسے استنجاء کے بعد نبی کریم ﷺ سے دونوں طریقہ کار منقول ہیں، پانی سے بھی اور ڈھیلوں کے ساتھ استنجاء کرنابھی۔
سیدہ ام سلمہ کہتی ہیں: ’’میں ایک ایسی عورت ہوں کہ میرا دامن کافی لمبا ہے۔ برقع یا چادر وغیرہ جو پہنتی ہوں ، وہ نیچے گھسٹتی جاتی ہے اور بسا اوقات اس کو کوئی گندگی لگ جاتی ہے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: «يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ»([4])
’’ وہی چادر جب پاک مٹی سے گزرے گی تو وہ اس کو پاک کردے گی ۔‘‘
اسی طرح وضو اور غسل پانی کے ذریعے ہوتا ہے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےاس کا متبادل ’’تیمم‘‘ امت محمد ﷺ کو دیا ہے کہ تیمم کر لیں۔ وضو اور غسل دونوں سے کفایت کرجاتا ہے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مٹی، زمین ، مسلمان آدمی کے لیے پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے بشرطیکہ پانی نہ ملے ۔ اگرپانی موجود ہو تو پھر اس سے غسل کرنا ہوگا یا وضو کرنا ہوگا۔ اگر پانی نہیں ملتا تو پھر بندہ تیمم کرکے وضو اور غسل کی جگہ کام چلا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ رخصت دی ہے ۔
________________________
([1]) البخاري (335)، ومسلم (521)
([4]) أبو داود (383)، والترمذي (143)، وابن ماجہ (531)
-
الاحد PM 09:49
2022-04-10 - 1023





