اعداد وشمار
مادہ
برتنوں کے احکام
درس کا خلاصہ
کون سے برتن استعمال کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
برتنوں کے احکام
سیدنا حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ والْفِضَّةِ، وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ» ([1])
’’سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ کھاؤ اور نا پیو اور نہ ہی ان کی طشتریوں (پلیٹوں وغیرہ) میں کھانا کھاؤ۔ کیونکہ یہ سونے چاندی کے برتن دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور تمہارے لیے یہ سونے چاندی کے برتن آخرت میں ہوں گے۔‘‘
اسی طرح سیدہ ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ»([2])
’’جو آدمی سونے چاندی کے برتنوں میں کھاتا پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔‘‘
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا پیالہ ٹوٹ گیا۔ تو جس جگہ سے پیالہ ٹوٹا تھا، نبی کریم ﷺ نے وہاں سے چاندی کی تار لگائی۔ ([3])
برتن سونے کا ہو یا چاندی کا، اس میں کھانا پینا منع ہے۔ اگر کسی برتن کو ٹانکہ لگانا پڑ جائے تو چاندی کا ٹانکہ وہ لگایا جا سکتا ہے۔
حلال جانور کی کھال کو دباغت دے لی جائے (رنگ لیا جائے) تو وہ پاک ہوجاتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ»([4])وفي رواية: «أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ»([5])
’’جو بھی چمڑا رنگ لیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔‘‘
چمڑے کےلیے «إھاب» کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اہاب اس چمڑے کو کہتے ہیں جو حلال جانور کا ہو۔ حرام جانور کے چمڑے کو اہاب نہیں کہتے۔ اس لیے وہ رنگنے اور دباغت سے بھی پاک نہیں ہوتا۔ جبکہ حلال جانور مر جائے تو بھی اس کے چمڑے کو اور اس کی کھال کو اتار کر رنگا جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے اور استعمال کے قابل ہوجاتی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «دِبَاغُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ طُهُورُهاَ» ([6])
’’مردار کے چمڑے کو رنگنا ہی اس کو پاک کرنا ہے۔‘‘
جب اس کو رنگا جائے گا اور اس کی دباغت کی جائے گی، تو وہ پاک ہوجائے گا۔ سیدہ میمونہ فرماتی ہیں کہ لوگ ایک بکری کو گھسیٹ کر لے کر جا رہے تھے۔وہ جب نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرے تو آپﷺ نے فرمایا: «لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا؟» فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: «يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ» ([7])
’’تم اس کی کھال کھینچ لیتے۔‘‘ ( تم اس مردہ بکری کو پھینکنے جارہے ہو) تو وہ کہنے لگے کہ یہ مردہ ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اس کو پانی اور کیکر کی چھال پاک کر دے گی۔‘‘
وہ لوگ کیکر کی چھال اور پانی کے ساتھ دباغت کیا کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ حلال جانور اگر مر جائے تو اس کی کھال دباغت سے پاک ہوجاتی ہے۔
سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا مطلق طور پر منع ہے۔ حلال جانور کے چمڑے سے اگر کوئی چیز بنی ہوئی ہو، جیسے اب بھی کھال کے مشکیزے بناتے ہیں اور برتن تیار کیے جاتے ہیں، اسی طرح جوتے چمڑے کے تیار کیے جاتے ہیں تو حلال جانورکا چمڑا ہوگا تو وہ پاک ہے۔ اس کو کسی بھی صورت استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حرام جانور کا چمڑاپاک نہیں ۔اس کے علاوہ حلال جانور اگرمردہ ہو تب بھی اس کی کھال اتار کے دباغت اور رنگنے کے بعداستعمال کی جاسکتی ہے۔
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ’’اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب یہود ونصاریٰ کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ان کے برتنوں میں ہم کھا لیں؟ تو آپ نے فرمایا: «لاَ تَأكُلُوا فِيهَا إِلاَّ أَنْ لاَ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَاغْسِلُوهَا، وَكُلُوا فِيهَا» ([8])
’’ان کے برتنوں میں نہیں کھانا۔ (یہود ونصاریٰ کے برتنوں میں مسلمان کھانا نہیں کھائے گا )لیکن اگر ان کے برتنوں کے علاوہ تمہیں کوئی اور برتن نہیں ملتاتو انہیں دھولو اور استعمال کر لو۔‘‘
آج کل تو ڈسپوزبل برتن ملتے ہیں۔ انہوں نے اس کا مسئلہ ہی حل کر دیا ہے۔ اگر کوئی مسلمان کسی کافر ملک میں جاتا ہے تو ان کے برتن استعمال کرنے کے بجائے وہ ڈسپوزبل برتن جو بہت سستے ہوتے ہیں، ان کو استعمال کر لے اور ان کے برتنوں میں نہ کھائے۔ اور اگر مجبور ہے اور ڈسپوزبل برتن میسر نہیں تو پھر اہل کتاب اور مشرکوں کے برتن دھوکر استعمال میں لائے جاسکتے ہیں۔ ہاں اگر یہ اطمینان اور یقین ہو کہ کافر، مشرک ان برتنوں میں کوئی حرام چیز نہیں کھاتے پیتے یا جو کچھ اس برتن میں ہے، وہ پاک صاف ہے تو پھر اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سیدنا عمران ابن حصین فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اور آپ کے صحابہ کرام نے ایک مشرکہ عورت کے مشکیزہ سے وضو کیا۔ ([9])
آپﷺ اور صحابہ کرام سفر پر جارہے تھے۔ پانی موجود نہیں تھا۔ ایک عورت گزری جو مشرکہ تھی۔وہ اونٹ پر سوار تھی اور اس کے پاس مشکیزہ میں پانی تھا۔ آپﷺ نے اس کے مشکیزے میں سے پانی لیا۔ پھر صحابہ نے بھی وضو کیا اور آپﷺ نے بھی وضو کیا۔
اب اس کے بارے میں یقین ہے کہ یہ پانی بھر کر لے کر آرہی ہے۔ ظاہر ہے کہ برتن ہے پانی کے ساتھ دھلتا بھی رہتا ہے اور صاف بھی ہوتا رہتا ہے۔ اگر اس طرح کا اعتماد اوریقین ہو تو پھر اہل کتاب اور مشرکین کے برتنوں میں کھایا پیا جاسکتا ہے۔
________________________________
([1]) البخاري (5426)، ومسلم (2067)
([2]) البخاري (5634)، ومسلم (2065)
([5]) النسائي (773)، والترمذي (1728)، وابن ماجه (3609)
([7]) أبو داود (4126)، والنسائي (774 - 175)
([8]) البخاري (5478) و (5488)، (5496)، ومسلم (1930)
([9]) البخاري: 1/ 76 (344)، ومسلم: 2/ 140 (1595)
-
الاحد PM 10:00
2022-04-10 - 1230





