اعداد وشمار
مادہ
پیشاب کرنے کے آداب
درس کا خلاصہ
پیشاب کے چھینٹوں سے بچیں اور بہتر ہے کہ قبلہ رو نہ ہوں اور لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
آداب البول (پیشاب کرنے کے آداب)
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «اسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ, فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ» ([1])
’’پیشاب کے چھینٹوں سے بچو، کیونکہ اکثر عذاب قبر اسی وجہ سے ہوتا ہے۔‘‘
یعنی پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔ مستدرک حاکم میں ایک حدیث کے الفاظ ہیں: «أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ» ([2])
’’اکثر عذاب قبر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں: ’’مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: "إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ." ([3])
’’نبی کریم ﷺ دوقبروں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ان دونوں کو عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑے کام کی وجہ سے ان کو عذاب نہیں دیا جارہا (جس سے پرہیز کرنا مشکل ہو) ان میں سے ایک وہ چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔‘‘
سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپ ﷺ نے پیشاب کا ارادہ کیا اور ایک دیوار کے پاس ، اس کے قریب ہوکر ، نرم جگہ کے پاس بیٹھے اور آپﷺ نے پیشاب کیا۔ ([4])
یہی روایت مسند احمد میں ان زیادہ الفاظ کے ساتھ مروی ہے: «كَانَ بَنَو إِسْرَائِيلَ إِذَا بَالَ أَحَدُهُمْ، فَأَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ بَوْلِهِ تَتْبَعُهُ فَقَرَضَهُ بِالْمِقْرَاضَيْنِ» ([5])
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل میں سے کسی کو پیشاب جسم یا کپڑوں پر لگ جاتا تو اس کا جسم یا کپڑے کا وہ حصہ کاٹ دیا جاتا تھا۔‘‘
یہ ان کے ہاں سزا تھی ، تو امت محمدﷺ پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ آسانی کی ہے کہ اسے دھو لیا جائے توجگہ پاک ہوجاتی ہے لیکن بہرحال یہ عذاب کا سبب بن جاتا ہے ۔
سیدنا حذیفہ بیان کرتے ہیں: «أَتَى النَّبِيُّ صلّى الله عليه وسلم سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا» ([6])
’’نبی کریم ﷺ ایک قوم کی روڑی پر آئے اور وہاں کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔‘‘
اگر ایسی جگہ میسر ہو جہاں پر لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوجائے اور پیشاب کے چھنٹے گرنے کاخدشہ نہ ہو تو کھڑے ہوکر بھی پیشاب کیا جاسکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا عمومی طریقہ کار یہی تھا آپ ﷺ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے جیسا کہ عبداللہ ابن عمرکی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں: «ارْتَقَيْتُ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِي، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ مُسْتَدْبِرَ القِبْلَةِ، مُسْتَقْبِلَ الشَّأْمِ» ([7])
’’میں حفصہ کے گھر کی چھت پر چڑھا تو دیکھا نبی کریم ﷺ دو اینٹوں پر بیٹھے قضائے حاجت کر رہے تھے۔ شام کی طرف منہ تھا اور کعبہ کی طرف پیٹھ تھی۔‘‘
اس سے ایک تو یہ پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا عمومی طریقہ کار بیٹھ کر قضائے حا جت کرنا تھا اور دوسرا یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شروع میں کعبہ کی طرف رخ کرکے قضائے حاجت سے منع کیا تھا۔ ([8])لیکن جس سال آپ فوت ہوئے اس سے ایک سال قبل آپ ﷺ نے اس طرح سے پیشاب کیاکہ آپ کا رُخ کعبہ کی طرف تھا۔ ([9])اس سے کچھ علماء نے تو یہ سمجھا کہ جو منع کا حکم تھا، وہ منسوخ ہو گیا، لیکن عبداللہ ابن عمر کی روایت موجود ہے کہ منع کا حکم کھلی جگہ اور صحرا میں، جہاں کوئی دیوار نہ ہو ، وہاں کےلیے ہے۔ اگر کوئی اوٹ موجود ہے تو پھر ممانعت نہیں ۔([10])
بہرحال پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ آج کل کے ٹائلٹ کے مختلف ڈیزائن مارکیٹ میں موجود ہیں تو کوشش کر کے گھر یا مسجد کے استعمال کے لیے ایسی قسم کا انتخاب کریں جس سے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے امکانات زیادہ سے زیادہ ہوں ۔
__________________________________
([3]) البخاري (216)، مسلم (292)، أبو داود (20)، الترمذي (70)، النسائي (2068)، ابن ماجہ (347)
([6]) البخاري ( 224)، مسلم (273)، أبو داود (23)، الترمذي (13)، النسائي (18)، ابن ماجہ (305)
([7]) البخاري (148)، مسلم (266)، أبو داود (12)، الترمذي (11)، النسائي (23)، ابن ماجہ (322)
([8]) البخاري (394)، مسلم (264)، أبو داود (9)، الترمذي (8)، النسائي (20)، ابن ماجہ (318)
([9]) أبو داود (13)، الترمذي (9)، ابن ماجہ (325)
-
الاحد PM 11:24
2022-04-10 - 1599





