اعداد وشمار
مادہ
پانی سے استنجاء
درس کا خلاصہ
جس طرح مٹی کے ڈھیلوں سے استنجاء کرنا سنت ہے ویسے ہی پانی سے استنجاء کرنا بھی سنت ہے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
قضائے حاجت کےلیے پانی اور آڑ کا استعمال
سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں: ’’كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَدْخُلُ الْخَلَاءَ, فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً, فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ.‘‘ ([1])
’’نبی کریم ﷺ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو میں اور میرے جیسا ہی ایک اور لڑکا، ہم پانی کا لوٹا اور ایک چھوٹا نیزہ اٹھا لیتے اور نبی کریمﷺ کی خدمت میں پیش کرتے۔ آپﷺ پانی سے استنجاء کرتے۔‘‘
سیدنا مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «خُذِ الْإِدَاوَةَ»، فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي, فَقَضَى حَاجَتَهُ. ([2])
’’لوٹا پکڑ۔‘‘میں نے پانی والا لوٹا پکڑا، آپﷺ کو دیا۔ آپ ﷺ نے وہ لوٹا پکڑا اور چلے گئے یہاں تک کہ مجھ سے چھپ گئے۔ پھر آپ نے قضائے حاجت کی۔
ان احادیث سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں:
ایک تو یہ کہ نبی کریمﷺ پانی کے ساتھ بھی استنجاء کرتے تھے۔ ڈھیلوں کے ساتھ ، مٹی کے ساتھ استنجاء کرنا تو اس وقت عام تھا لیکن پانی کے ساتھ استنجاء کرنا ، یہ بہت ہی قلیل اور شاذ و نادر تھا ،کیونکہ پانی کی وہاں قلت تھی۔ اس کے باوجود نبی کریمﷺ پانی سے بھی استنجاء کرتے۔
دوسری بات یہ کہ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور چلے جاتے حتی کہ چھپ جاتے ،نظروں سے اوجھل ہوجاتے ۔
تو قضائے حاجت کے لیے جب بندہ بیٹھے تو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو پھر پیشاب، پاخانہ اور قضائے حاجت کرے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت اور طریقہ ہے۔
__________________________
([1]) البخاري (150)، ومسلم (271)، (70)
([2]) البخاري (363)، ومسلم (274) (77)
-
الاثنين AM 01:16
2022-04-11 - 1153





